بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / این اے 120کانتیجہ

این اے 120کانتیجہ

قومی اسمبلی کے حلقے این اے 120لاہور پر منعقد ہونے والے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن)کی فتح پر مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور پارٹی ورکرز کی خوشی یقیناًبجاہے کیونکہ اگر مسلم لیگ یہ نشست ہار جاتی تو اس پر پی ٹی آئی اور نواز شریف مخالف عناصر جو دھماچوکڑی مچاتے اس کا مقابلہ کرنامسلم لیگ (ن) کیلئے یقیناًمشکل ہوتا ۔این اے 120 پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں ویسے تو 44امیدوار میدان میں تھے جن میں پیپلز پارٹی کے فیصل میر اور جماعت اسلامی کے ضیاء الدین ا نصاری کے علاوہ زیادہ تر آزاد اور بعض گمنام چھوٹی جماعتوں کے امیدوار بھی شامل تھے لیکن جیساکہ نتائج سے ظاہر ہے کہ یہاں اصل مقابلہ مسلم لیگ( ن )کی بیگم کلثوم نواز اور تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد کے درمیان ہی تھا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق اس نشست پر سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز 61254ووٹ لیکر کامیاب قرار پائی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی ڈاکٹر یاسمین راشد 47066ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہی ہیں۔ اسطرح مسلم لیگ (ن )نے یہ انتخابی معرکہ تقریباً14ہزار ووٹوں کے واضح فرق سے جیت کر یہاں نہ صر ف 1988سے اپنی جیت کا تسلسل برقرار رکھا بلکہ اس واضح کامیابی نے ان سیاسی تجزیوں پر بھی مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ مسلم لیگ( ن) تمام تر بحران اور دباؤ کے باوجود اب بھی پنجاب اور خاص کر لاہو ر کی مقبول ترین سیاسی قوت ہے۔

این اے 120کے نتائج آنے سے قبل بعض سیاسی مبصرین کی جانب سے جہاں اس نشست پر بیگم کلثوم نواز جیسی گھریلو خاتون کے امیدوار نامزد کئے جانے کی حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جارہاتھا وہاں پانامہ فیصلے کے بعد نواز شریف کی نااہلی اور اس نااہلی کے نتیجے میں پی ٹی آئی اور خاص کر عمران خان کی عوامی مقبولیت اور پذیرائی میں ہونے والے اضافے نیز بعض خفیہ قوتوں کی جانب سے شریف خاندان کو دباؤ میں رکھنے کی مبینہ قیاس آرائیوں کے تناظر میں بھی شریف خاندان اور مسلم لیگ (ن ) کوبیگم کلثوم نواز کواین اے120کے انتخابی معرکے میں اتارے جانے کو اکثر سیاسی تجزیہ کار کمزور فیصلے پر محمول کر رہے تھے اورخاص کر نامزدگی کے اچانک بعدجب بیگم کلثوم نواز لندن روانہ ہوئیں اور وہاں سے اطلاع آئی کہ بیگم صاحبہ کینسر کے عارضے میں مبتلاہیں تو عام تاثر یہی تھا کہ اس صورتحال کا زیادہ تر نقصان مسلم لیگ کو انتخابی مہم کی ناکامی اور شاید آ گے جا کرخراب انتخابی نتائج کی صورت میں بھی بھگتنا پڑ سکتاہے اسی طرح انتخابی مہم کے دوران یہ اطلاعات بھی زیر گردش رہیں کہ شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہبازنے بھی اندرونی اختلافات اور بیگم کلثوم نواز کو امیدوار نامزد کئے جانے کیخلاف بطور ناراضگی انتخابی مہم سے لاتعلقی اختیار کر رکھی ہے تواس صورتحال کو دیکھتے ہوئے بعض مواقع پریہ خدشات بھی ظاہر ہونا شروع ہوگئے تھے کہ شاید مسلم لیگ کے لئے یہ سیٹ برقرار رکھنا ممکن نہ رہے اور ایک بڑے ٹف مقابلے اور اپ سیٹ کے نتیجے میں شاید پی ٹی آئی کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد یہ نشست جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

لیکن گزشتہ روز کے نتائج نے ان تمام انداز وں اور تجزیوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔یہاں اس امر کی جانب بھی اشارہ مناسب ہو گا کہ جب اس حلقے کا ضمنی الیکشن فوج کی نگرانی اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ تجرباتی بنیادوں پر بائیو میٹرک سسٹم کے تحت منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا تو اس حوالے سے بھی بعض حلقوں کی جانب سے ان تحفظات کا اظہار سامنے آیا تھا کہ یہ سب کچھ ایک مخصوص مائند سیٹ اور بیگم کلثوم نواز کو ہر حال میں ہرانے کی غرض سے کیا جارہاہے لیکن اب جب یہ تمام خدشات اور تجزیئے نتائج آنے کے بعد غلط ثابت ہو چکے ہیں تواس صورتحال پر مسلم لیگ( ن) کا خوشی کے شادیانے بجانے اور پی ٹی آئی کے پاس ان نتائج کو تسلیم کرنے کے سوا اور کوئی آپشن نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 88فیصدنتائج کی بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے تصدیق کے بعد شاید کسی کے پاس بھی دھاندلی کے شور کا سہارا لینے کی گنجائش نہیں ہے البتہ پی ٹی آئی کے نقطہ نظر سے یہ بات خوش آئند ہے کہ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ (ن) کی صوبائی اور مرکزی حکومت میں ہونے کے باوجود اپنی بھر پور انتخابی مہم کے ذریعے جو زبردست مقابلہ کیا ہے اس کے ذریعے پی ٹی آئی کم از کم پنجاب کی حد تک خود کو مسلم لیگ( ن) کی حقیقی اپوزیشن جماعت ثابت کرنے میں ضرور کامیاب ہوگئی ہے جبکہ دوسری جانب پیپلزپارٹی جسکے سربراہ آصف علی زرداری کافی عرصے سے پنجاب کو فتح کرنے اور لاہور کو مسلم لیگ (ن ) سے چھیننے کے دعوے کر رہے ہیں کیلئے این اے 120پر پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل میر کی 2692ووٹوں کیساتھ ضمانت ضبط ہونا 2018کے عام انتخابات کے تناظر میں یقیناًایک بہت بڑا دھچکا ہے۔