بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / ضمنی کامیابی !

ضمنی کامیابی !


معرکہ لاہور سر کرنیوالی مسلم لیگ (نواز) کے لئے احتساب عدالتوں میں دائر بدعنوانی کے مقدمات کی صورت مشکلات کے ایسے مراحل منتظر ہیں‘ جن پر ’ضمنی انتخابی کامیابی‘ کی صورت ملنے والی خوشی ضمنی ہی ثابت ہوگی اور اس سے کوئی دور رس مثبت سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوگا ۔ نواز لیگ کیلئے لاہور کے انتخابی حلقے میں بتیس فیصد ووٹ بینک میں کمی بھی یقیناًلمحہ فکریہ ہوگی کیونکہ ان کی مدمقابل جماعتوں کو بیٹھے بٹھائے ’نادر موقع‘ مل گیا ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات کے لئے لاہور کی سطح پر اپنی اپنی تنظیمی کمزوریوں اور انتخابی حکمت عملیوں میں پائی جانے والی خامیوں کا جائزہ لے سکیں۔ امکان ہے کہ آئندہ انتخابات میں نواز لیگ کی مخالف جماعتیں اپنا اپنا ووٹ بینک یوں ضائع نہیں کریں گی کہ جس سے ان کا نقصان اُنہیں لیکن فائدہ دوسروں کو ہو!عام انتخابات میں حاصل کردہ ووٹوں سے کسی سیاسی جماعت کی عوامی مقبولیت اور مستقبل کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ ووٹنگ ٹرینڈ اور سرکاری وسائل کا استعمال انتخابی نتائج پر اثرانداز ہوتا ہے اور ضمنی انتخاب حکمران جماعت کے علاوہ کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کے لئے جیتنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا۔ سردست نواز لیگ وفاق اور صوبہ پنجاب کی حکمران جماعت ہے اور اس لحاظ سے اس کی ذمہ داری صرف ضمنی انتخابی معرکوں میں کامیابی ہی نہیں بلکہ اس نظام کی آئینی اصلاح بھی ہے‘ اور یہ کام حزب اختلاف کے دباؤ کے بناء ممکن نہیں۔ این اے ایک سو بیس پر ناکامی کے بعد حزب اختلاف کی بڑی جماعت ’تحریک انصاف‘ کا کام ختم نہیں بلکہ شروع ہوا ہے اور اسے اپنی تمام تر توجہ اور وسائل مرکوز کرنے ہیں تاکہ سزا یافتہ‘ مخبوط الحواس اور سرکاری ملازمین کو صدارتی الیکشن کا حصہ بننے کی اجازت دینے کے حوالے سے الیکشن قوانین میں متنازع ترمیم‘ میں تبدیلی لائی جاسکے کیونکہ اگر اِس بارے میں حکمران اور حزب اختلاف کی جماعتیں مصلحت سے کام لیتی رہیں تو اُنہیں آنیوالے دنوں میں زیادہ بڑی سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ذہن نشین رہے کہ قریب ایک دہائی قبل صدر مشرف کی خوشنودی کے لئے مذکورہ قانون سازی کی گئی تھی جو اگر باقی رہتی تو صدر ممنون حسین کی اپنے منصب سے اچانک دستبرداری کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف صدارتی انتخاب میں حصہ لیں گے یعنی بطور وزیراعظم تاحیات سیاسی نااہل ہونے کے باوجود نواز شریف صدر پاکستان بن سکتے ہیں! الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ستمبر دوہزار سات میں صدارتی انتخابات کے حوالے سے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے صدارتی امیدواروں کیلئے نااہلی کی شرائط ختم کر دی تھیں! یہ ترمیم چھ اکتوبر دوہزار سات یعنی عام انتخابات سے چند ہفتے قبل سامنے آئی تھی جبکہ ان انتخابات میں جنرل پرویز مشرف نے باآسانی کامیابی حاصل کی تھی اس وقت محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف جلاوطنی کے باعث دوہزار سات کے عام انتخابات میں حصہ دار نہیں تھے۔ الیکشن کمیشن کو صدارتی امیدواروں پر نااہلی کی شق لگانے کے لئے عدالتی نظرثانی کی ضرورت ہے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کی رو سے صادق و امین نہ ہونے کی بناء پر نااہل قرار پانیوالے نواز شریف (آئندہ چند ہفتوں میں) صدر پاکستان بن کر اُس پورے نظام پر سوال کھڑا کر دیں گے‘ جس میں صادق و امین ہونا قطعی ضروری نہیں رہے گا!لمحۂ فکریہ ہے کہ ہمارے ہاں قانون سازی حکمران خاندانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جاتی ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو صدر پاکستان کیلئے قانون سے استثنیٰ اور سزایافتہ شخص کی بطور صدر پاکستان تعیناتی جیسی خفیہ قانون سازی نہ کی گئی ہوتی۔

عام آدمی کی اکثریت نہ تو قانون آشنا ہے اور نہ ہی وقتاً فوقتاً ہونے والی ترامیم سے آگاہ ہوتی ہے۔ اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں نے اپنے لئے الگ پاسپورٹ اور تاحیات مراعات کی منظوری سے لیکر راتوں رات ماہانہ تنخواہوں کی مد میں لاکھوں روپے کا اضافہ منظور کروایا جو قومی خزانے پر بوجھ ہے۔ یہی اراکین اگر اسمبلی اجلاسوں میں شرکت کریں یا نہ کریں لیکن انہیں تنخواہیں اور مراعات ملتی رہتی ہیںآخر ایسا کیوں نہیں ہوسکتا کہ کوئی رکن اسمبلی جتنے گھنٹے اسمبلی اجلاس میں شریک ہو‘ اسے اسی تناسب سے تنخواہ ملے اور نیلے رنگ کا خصوصی پاسپورٹ اور دیگر تمام مراعات ختم کر دی جائیں؟ جملہ قوانین اور بالخصوص خفیہ آئینی ترامیم پر نظرثانی اور اِس بارے بحث و مباحثے کے ذریعے عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ بالخصوص نجی ٹیلی ویژن چینلز کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں اور یہ کام اگر آئندہ عام انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بلاتاخیر شروع کیا جائے تو اس سے سیاسی جماعتوں کو انتخابی منشور میں آئینی اصلاحات اور ایسے قوانین پر نظرثانی جیسے نکات شامل کرنے میں مدد و رہنمائی مل سکتی ہے‘ جن کے بغیر جمہوریت ادھوری اور اس کے ثمرات چند خاندانوں تک محدود رہیں گے۔