بریکنگ نیوز
Home / کالم / صوبائی حکومت اور عوام

صوبائی حکومت اور عوام


اگر عوام نعروں سے کچھ حاصل کر سکتے تو آج ہمارا صوبہ جنت نظیر بن چکا ہوتا۔ہمارے وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ بجلی کا محکمہ بھی اُن کے حوالے کیا جائے تو وہ اس صوبے سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیں گے ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو مگر دیگر محکموں کا جو حال ہو ا ہے اُس پر اگر نگاہ کی جائے تو لگتا ہے کہ بجلی کا بھی یہی حال ہونا تھا۔ ادھر حکومت کا زور صرف محکمہ تعلیم پر چلتا ہے ۔اسی لئے اس کے لئے نت نئی تجاویز آ رہی ہیں۔ایک تو یہ حکم تھا کہ زنانہ تعلیمی دفاتر کو ختم کیا جائے اور ان دفاتر کو مردانہ دفاتر میں ضم کیا جائے۔ بہت اچھی تجویز کہلائی جا سکتی تھی اگر اس میں زنانہ اساتذہ کی تکالیف کا بھی اندازہ کیا جاتا۔ ہم تو اس بات پر زور دے رہے تھے کہ زنانہ تعلیمی دفاتر میں جو مردانہ سٹاف ہے اسے بھی زنانہ سٹاف میں تبدیل کیا جائے اسلئے کہ ایک استانی اپنا کیس اپنے ہم جنس سے جتنا بہتر طور پر پیش کر سکتی ہے وہ ایک مرد کے سامنے نہیں کر سکتی اور جتنا ایک زنانہ سٹاف اپنی استانیوں کی مشکلات سے واقف ہو سکتا ہے اتنا مردانہ سٹاف نہیں ہو سکتا۔مگر ہماری حکومت نے تو یہ عجیب طریق کار اپنانے کی کوشش کی ہے کہ زنانہ تعلیمی دفاتر ہی کو ختم کر دیا جائے۔ کیا ایک استانی جو کسی تکلیف میں مبتلا ہے وہ مرد سٹاف سے اپنی روداد بیان کر سکے گی ۔ اس میں اپنے صوبے کی ثقافت کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہئے۔ہماری اپنی کچھ روایات ہیں جن پر سارے لوگ سختی سے عمل پیرا ہیں۔ اس لئے جب بھی کچھ فیصلے کئے جائیں تو اس میں اپنی ثقافت کو مد نظر رکھا جائے۔اس کے علاوہ بھی جو ہمیں اس حکومت کی کار کردگی نظر آرہی ہے وہ مایوس کن ہی دکھائی دیتی ہے۔ لاہور میں ڈینگی کا حملہ ہوا تو پنجاب کا وزیر اعلیٰ دن رات اپنے لوگوں کو اس موذی مچھر سے بچانے میں جُت گیا ۔

اُس نے اپنا سکون بھی برباد کیا اور اس مچھر کو ختم کرنے میں سری لنکا سے بھی ڈاکٹروں کو بلوایا کہ جنہوں نے سری لنکا میں اس مچھر کے خلاف کامیاب آپریشن کئے تھے اور اس مچھر کو ختم کر کے ہی دم لیا مگر جب تہکال اور پشاور اس مچھر کی زد میں آئے تو ہم نے اپنے وزیر اعلیٰ کی جانب سے کسی قسم کا رد عمل نہیں دیکھا ۔ اُلٹا جو ڈاکٹروں کی ٹیم لاہور سے آئی اُن کو بھی ڈس کریج کیا گیا۔ یہاں تک کہ ہمارے وزیر صحت نے ان کے آنے کی مخالفت کی اور ان کے ساتھ معاونت کی بجائے ان سے ملنا بھی پسند نہیں کیا اور خان صاحب جوہر وقت میر اصوبہ اورمیرا صوبہ کی گردان کرتے ہیں اُنہوں نے صوبے میں درپیش آفت کے ساتھ نمٹنے کی بجائے اپنے دوستوں کی شادیوں اور حلقہ 120 کے انتخابات کو زیادہ اہم سمجھا۔ ڈینگی سے جتنی اموات شہر پشاور اور اس کے مضافات میں ہوئی ہیں انکا تو کوئی ذکر تک نہیں کرتا ۔ صوبے میں اور بھی بہت سے کام ادھورے ہیں یا اُن تک رسائی ہی نہیں ہو سکی اس لئے کہ پہلا سال تو دھرنوں میں گزر گیا اور اگلے سال بھی دھرنوں کی تیاریوں اور اسلام آباد کو بند کرنے میں لگا ۔ کسی کو یہ خیال ہی نہ آیا کہ دھرنوں میں شرکت سے بھی زیادہ کچھ امر ہیں کہ جس کے لئے لوگوں نے اس جماعت کوووٹ دیئے۔

اس کے علاوہ بہت سا وقت حکومت میں شامل دوسری جماعتوں کو منانے اور نکالنے اور دوبارہ شامل کرنے اور ایک بار پھر الوداع کرنے میں گزر گیا اور یہ حالات ایسے ہیں کہ حکومت کو جو کام کرنے چاہئے تھے ان کی جانب تو توجہ کرنے کی فرصت ہی نہیں ملی ۔ اب جو تھوڑا بہت وقت بچ گیا ہے اس میں بھی لگتا ہے کہ پارٹی لیڈران کو اس صوبے سے زیادہ بنی گالہ کی فکر ہے۔ اگلے انتخابات میں جو اس پارٹی سے ہو گا وہ تو معلوم ہی ہے اس لئے کہ ایم ایم اے ا وراے این پی کی حکومتوں نے بہت کچھ ڈیلیور کیا تھا مگر وہ عوام کی توقعات پر پوری نہیں اتری تھیں اس لئے ان کو دوبارہ اسمبلیوں میں نہیں بھیجا گیا۔ اب ڈینگی کے شکار علاقوں سے اگر پی ٹی آئی کچھ توقع رکھتی ہے تو یہ ایک اچھا خواب تو ہو سکتا ہے کوئی عملی کام نہیں۔ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے کچھ2010کے سیلاب اور کچھ2005ء کے زلزلے کی وجہ سے لاتعداد مسائل کا شکار ہے پی ٹی آئی کے بلند بانگ دعوؤں کی وجہ سے لوگ سمجھ رہے تھے کہ ہمارے جملہ مسائل حل ہو جائیں گے ہر طرف دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی مہنگائی ختم ہو جائے گی سڑکیں بن جائیں گی‘ ڈیم بن جائینگے ‘ اندھیرے مٹ جائیں گے ‘ کرپشن قصہ ماضی بن جائے گا‘ سارے کرپٹ عناصر جیلوں میں بند ہونگے انصاف گھر کی دہلیز پر ملنے لگے گا ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوگی میٹرو بسیں ہونگی ٹرانسپورٹ کا اعلیٰ ترین نظام ہوگا صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک مسئلہ حل ہو جائے گا تجاوزات کلیئر ہو جائینگے مجسٹریسی نظام بحال ہو جائے گا مگر افسوس ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا۔