بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / دہشت گردی کاخاتمہ

دہشت گردی کاخاتمہ

باجوڑ ایجنسی کو اگر قبائلی خطے کا حساس ترین حصہ کہا اور لکھا جائے تو بے جا نہ ہوگاکیونکہ عرصہ دراز سے عسکریت پسندروایات اور رجحان کی ابتدا بھی اسی علاقے سے ہوئی تھی اور پھر اسی علاقے سے مولانا صوفی محمد کے ہزاروں کی تعداد میں پیروکار جو کلہاڑیوں اور چھریوں سے لیس تھے9/11 کے بعد افغانستان میں داخل ہونے والی امریکی اور اتحادی افواج جو نہ صرف جدید اسلحہ سے لیس تھیں بلکہ ان کو امریکی ڈرون اور جدید طیاروں کی سہولیات بھی حاصل تھیں‘کے خلاف اسی قبائلی علاقے کے راستے افغانستان میں داخل ہوئے تھے بعد میں 2005سے 2009تک جب عسکریت پسندوں نے سوات پر قبضہ کر لیا تھا تو ان عسکریت پسندوں کی کمان میں بھی باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے بعض کمانڈر شامل تھے۔اسی طرح مولانا فضل اللہ جب فوجی کاروائی کے نتیجہ میں روپوش ہو گئے تھے تو وہ بھی اپنے اہم ساتھیوں سمیت باجوڑ ایجنسی ہی کے راستے افغانستان میں داخل ہوئے تھے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے جب دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی تو ان کی ہدایت پر سب سے پہلے عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی باجوڑ ایجنسی ہی سے شروع ہوئی تھی اور اس بدقسمت قبائلی خطے کے بد قسمت قبائلیوں نے نقل مکانی کرنیوالوں کا اعزاز بھی حاصل کرنے میں پہل کی تھی۔گو کہ اب فاٹاسیکرٹریٹ میں بڑے بڑے عہدوں پر براجمان حکام قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کے دعوے کرتے ہیں مگر باجوڑ ایجنسی سے ہی نقل مکانی کرنیوالے لگ بھگ 300خاندانوں پر مشتمل ہزاروں لوگ جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی ابھی تک جلوزئی اور رسالپور کے میدانوں میں کھلے آسمان تلے دھوپ اور بارشوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

جبکہ رواں سال کرم ایجنسی کے مرکزی شہر پارہ چنار میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں لگ بھگ 200شہری شہید جبکہ ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔زیادہ تر زخمی مکمل طور پر اپاہج اور بیمار ہو چکے ہیں۔پشاور ‘کرم اور چارسدہ کے علاوہ تشدد اور دہشتگردی کے واقعات خیبر پختونخوااور قبائلی پٹی کے دیگر اضلاع اور علاقوں میں تواتر سے ہوتے رہتے ہیں۔رواں ماہ افغانستان کے سرحدی صوبے سے ملحقہ باجوڑ ایجنسی میں دہشت گردی کے اکا دکا واقعات میں دو شدید ترین ہیں۔ عین عیدالاضحی کے روز قبائلی رہنما کو بیٹوں سمیت عسکریت پسندوں نے دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم کا نشانہ بنایاجبکہ تازہ ترین واقعہ میں اتوار کے روز پولیٹیکل تحصیلدار فواد علی کی سرکاری گاڑی کو سڑک میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا۔فواد علی اور دیگر 5 افراد دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہو گئے عام لوگوں سے لے کر سرکاری اداروں میں بڑے بڑے عہدیداروں کی یہی خواہش ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہوملک میں امن اور استحکام ہومگر یہ ایک حقیقت ہے کہ عسکریت پسندی اور دہشت گردی میں ملوث غیر نہیں بلکہ اپنے ہی ہیں ۔

جبکہ کچھ لوگ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے اس طبقے کے بقول طالبان عسکریت پسند صرف اور صرف امریکہ اور ان کے اتحادیوں کی افغانستان میں مداخلت کیخلاف ہیں ‘چند روزقبل نہ صرف افغان طالبان تنظیم نے پاکستان کیخلاف امریکی پالیسی کی شدید الفاظ میں مذمت کی بلکہ اس تنظیم کے ترجمان نے امریکہ کے خلاف پاکستان کی حفاظت کے لئے جہاد شروع کرنے کا اعلان بھی کیامگر ا س کے لئے انھوں نے پاکستانی حکمرانوں کی جانب سے اجازت کو مشروط کر دیا۔اس طرح مولانا سمیع الحق نے نہ صرف افغان طالبان کے اس اعلان کو خوش آئند قرار دیابلکہ انھوں نے پاکستانی حکمرانوں سے مطالبہ کیاکہ وہ طالبان عسکریت پسندوں کے امریکہ کیخلاف جہاد شروع کرنیکا خیر مقدم کرے۔اگر حکمران دل سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کے بعد 20دسمبر2014 کو کل جماعتی کانفرنس میں منظور کئے جانے والے قومی لائحہ عمل نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہو گا۔