بریکنگ نیوز
Home / کالم / سوچ کامقام

سوچ کامقام

ملک کی موجودہ سیاست سمٹ کر ایک تکون کی مانند ہوتی چلی جا رہی ہے عمران خان اور بلاول زرداری بلا شبہ اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں اور ان کی پارٹیاں اس پوزیشن میں آ سکتی ہیں کہ وہ ملک کے چاروں صوبوں میں آئندہ الیکشن میں سیٹیں جیت سکیں جہاں تک (ن)لیگ کا تعلق ہے اس کا وجود بھی ملک کے چاروں صوبوں میں نظر آتا ہے لیکن اس کی قیادت حاصل کرنے پر چونکہ بہتوں کی نظر ہے لہٰذا اس وقت تک اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ جب تک یہ فیصلہ نہیں ہو جاتا کہ اس پارٹی کی قیادت اب کون کرے گا میاں نواز شریف تو اخلاقی طور پر اس پوزیشن میں اب نہیں رہے کہ وہ (ن)لیگ کے صدر رہ سکیں مریم نواز ‘ شہباز شریف اور حمزہ شریف ان تین افراد میں سے کسی کے نام پارٹی کی قیادت کا قرعہ فال نکلے گا ؟ دیکھنا یہ بھی ہو گا کہ ان میں سے جو بھی مقدر کا سکندر نکلتا ہے کیا وہ اس قابل بھی ہو گاکہ اس پارٹی کو شکست وریخت سے بچا سکے؟ اس ملک کے سیاسی منظر نامے پر دیگر کئی سیاسی جماعتیں بھی موجود ہیں کہ جن کی اپنی اپنی تاریخ ہے اور پارلیمانی جمہوریت میں ان کو یکسر نظر انداز اس لئے نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں حکومتیں بنانے اور گرانے میں بطور کنگ میکر ان کا ہمیشہ بڑا اہم کردار رہا ہے یہ پارٹیاں ہر الیکشن میں اپنی سیٹیں ضرور جیت جاتی ہیں کہ وہ جس اکثریتی سیاسی جماعت کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دیں تو وہ اقتدار کے سنگھاسن پر باآسانی بیٹھ جاتی ہے اس لحاظ سے ان چھوٹی ریجنل سیاسی پارٹیوں کا کردار ابھی کچھ عرصے تک اس ملک کی سیاست میں اہم رہے گا کہ جب تک اس ملک میں پارلیمانی نظام حکومت چلتا ہے ان کے علاوہ ہر الیکشن میں آزاد امیدواروں کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی کامیاب ہو کر ہماری اسمبلیوں میں پہنچ جاتی ہے یہ لوگ بھی کسی بھی سیاسی پارٹی کو مسند اقتدار پر بٹھانے میں کلیدی رول ادا کر تے ہیں۔

یہ اور بات ہے کہ ریجنل سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار کسی بھی اکثریتی سیاسی جماعت کو اقتدار دلوانے میں جو حمایت کرتے ہیں اس کی وہ اس جماعت سے بھاری قیمت بھی وصول کرتے ہیں جو مختلف اشکال میں ان کو ملتی ہے مثلاً مرکزی اور صوبائی کابینہ میں من مانی وزارتیں کہ جن میں دھن بنانے کے وافر وسیلے موجود ہوں بات صرف وزارتوں تک محدود نہیں رہتی ان کے ووٹوں سے برسر اقتدار آئی ہوئی حکومت ہمیشہ ان سے خائف رہتی ہے کہ کہیں وہ ان سے کسی مرحلے پر نالاں نہ ہو جائیں لہٰذا ان کی ہر بلیک میلنگ کا وہ شکار ہوتی رہتی ہے اگلے روز وزیر داخلہ احسن اقبال صاحب نے اپنے ایک بیان میں چند ایسی باتیں کہی ہیں کہ جن سے اختلاف کیا جا سکتا ہے موصو ف نے فرمایا کہ پارلیمنٹ کو بے وقعت کیا جا رہا ہے ان کے بیان کو اگر بغور پڑھا جائے تو بین السطور وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ کروڑوں انسانوں کے ووٹ سے منتخب ہونے والے لوگوں کو عدلیہ کیسے اقتدار سے الگ کر سکتی ہے ان کی یہ دلیل مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ جو آفاقی حقیقتیں ہوتی ہیں ان سے کوئی بھی انحراف نہیں کر سکتا مثلاً کروڑوں ووٹوں سے اقتدار میں آئے ہوئے اراکین پارلیمنٹ اگر یہ قانون بنا دیں کہ شراب نوشی پر کوئی پابندی نہیں ہو گی ‘ رشوت لینا کوئی جرم نہ ہو گا بڑے بڑے ٹھیکوں میں کمیشن لینے سے کسی اہلکار کو ہتھکڑی نہیں لگائی جائے گی حرام گوشت کھانے پر کوئی پابندی نہیں ہو گی وغیرہ اوراگر اس قانون کے خلاف کوئی عدالت عظمیٰ چلا جائے اور عدالت عظمیٰ اس قانون کو غلط قرار دے کر اس کے پاس کرانے والوں کو نا اہل کر دے تو کیا عدالت عظمیٰ پر یہ الزام لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے گنتی کے ججوں نے کروڑوں انسانوں کی رائے کا احترام نہ کرتے ہوئے عوام کے ووٹوں سے منتخب اراکین کو نا اہل قرار دے کر غلطی کی ہے ؟

برصغیر کا یہ المیہ ہے کہ یہاں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہاں عدالتوں سے فوجداری مقدمات میں سزا یافتہ لوگ الیکشن میں کامیاب ہو کر اسمبلیوں کے رکن بنتے چلے آ رہے ہیں الیکشن کوئی ایسی کسوٹی نہیں کہ جس سے کسی انسان کے کردار کا تعین کیا جا سکے جمہور کے فیصلے اکثر دانشوروں کی سوچ اور اندازوں کے برعکس آتے ہیں آج اس ملک میں صاحب فکر لوگ سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں اور یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا پارلیمانی جمہوریت واقعی اس ملک کے عوام کے غموں کا مداوا فراہم کرتی ہے ؟ کیا اس ملک کیلئے براہ راست بالغ رائے دہی کی بنیادوں پر صدارتی نظام حکومت موزوں نہیں جس کے تحت صدر پاکستان کو باری باری چاروں صوبوں سے چنا جائے؟