بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / این اے120کا انتخاب اور دیگر ترجیحات

این اے120کا انتخاب اور دیگر ترجیحات

لاہور کے حلقہ این اے120 کے ضمنی انتخاب میں ابتدائی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کی بیگم کلثوم نواز نے اپنی اہم مدمقابل تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد کو 14ہزار سے زائد ووٹوں کیساتھ ہرا دیا ہے سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ لاہور میں انکے کارکنوں کو غائب کیاگیا جبکہ تحریک انصاف کے تحفظات بھی سامنے آئے ہیں پی ٹی آئی کی امیدوار بیگم یاسمین راشد نے الیکشن کمیشن کیخلاف عدالت جانے کا عندیہ دیاہے اس بات سے قطع نظر کہ انتخابی نتائج کس جماعت کا ووٹ بینک کم اور کس کا زیادہ ہونے کا پتہ دیتے ہیں اور ان سے متعلق الیکشن کمیشن اورعدالت سے کیا فیصلے آتے ہیں ایک اہم اور بڑی انتخابی مہم کے بعد اب ضرورت بعض دیگر اہمیت کے حامل معاملات کو دیکھنے کی بھی ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے لندن میں سابق وزیر اعظم نوازشریف سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت میں بعض اہم معاملات پر اپنی حکومت کی ترجیحات کے خدوخال اجاگر کئے وزیراعظم کا کہناہے کہ پاکستان کے اتحادی ہونے کی حیثیت ختم کرنے کا نقصان خود امریکہ کو ہوگا ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے بیان پر پاکستان کا موقف سامنے آچکا ہے ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے بیان پر قومی سلامتی کمیٹی کا موقف ہی پاکستان کی پالیسی ہے وزیراعظم یہ بھی کہتے ہیں کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی گرفتاری کا حکم آیا تو عمل کرینگے اور کوئی چارہ نہیں‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ہدایت ہوئی تو عمران خان کو بھی گرفتار کرینگے‘ ۔

وزیراعظم نے دیگر امور پر بات چیت کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ملک میں نومبر کے بعد لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی جہاں تک امریکی دھمکی اور بعدازاں ٹرمپ کی نئی پالیسی کے خدوخال کی بات ہے تو پاکستان کی جانب سے واضح اور شفاف پالیسی سامنے آچکی ہے اس پر ضرورت اب موثر حکمت عملی کے ساتھ دنیا کے سامنے اپنا موقف اور خطے میں پاکستان کا امن کیلئے کردار اجاگر کرنا ہے جس کیلئے بھاری قربانیاں دی گئی ہیں دوسری جانب ضرورت اپنی معیشت کو مستحکم کرنے اور بیرونی قرضوں پر اسکا انحصار کم سے کم کرنے کی ہے اس سب کے ساتھ ضرورت عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات کی بھی ہے ضرورت صوبوں اور مرکز کے درمیان این ایف سی ایوارڈ اور اس جیسے دیگر معاملات بھی یکسو کرنے کی ہے سیاسی اختلافات اپنی جگہ سہی عوامی ریلیف اور اہم ملکی امور پر سیاسی قیادت کا باہمی مشاورت سے معاملات طے کرنا اپنی اہمیت رکھتا ہے جس پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے ۔

میونسپل سروسزمیں ایک بڑا چیلنج

تمام تر دعوؤں‘ اعلانات‘ اقدامات اور زبانی کلامی منصوبوں کے باوجود پشاور اور صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں کچرا ٹھکانے لگانے کا فول پروف نظام عملی شکل اختیار نہ کر سکا میونسپل سروسز کے ذمہ دار ادارے کوڑا کرکٹ اٹھائے جانے کی رپورٹس منوں اور ٹنوں کے حساب سے اعداد وشمار کیساتھ پیش کرتے رہتے ہیں تاہم یہ اٹھایا جانے والا کوڑا کرکٹ کہاں گرایا گیا اور اس سے ماحول اور آبادی کو محفوظ رکھنے کیلئے کیا انتظام کیا گیا اس پر اکثر خاموشی ہی رہتی ہے گندگی ٹھکانے لگانے کا کام ایک آدھ اجلاس اور خوش کن اعلان سے ممکن نہیں اس کیلئے باقاعدہ منصوبہ بنانا ہوگا بصورت دیگر مستقبل میں صورتحال ناقابل علاج ہوتی چلی جائیگی اعلیٰ سطح پر حکومتی اداروں کو مزید چشم پوشی سے گریز کرنا چاہئے۔