بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبرپختونخوا میں 5 نئے گرڈسٹیشن لگانے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا میں 5 نئے گرڈسٹیشن لگانے کا فیصلہ


اسلام آباد۔ قومی اسمبلی میں منگل کو بجلی کی ناجائز بلنگ‘ بھاری جرمانوں‘ بجلی کی کمپنیوں میں کرپشن، لائن لاسز کے مسائل پر پارلیمنٹ کے ارکان اور وزارت توانائی کا مشاورتی اجلاس طلب کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ وزیر مملکت برائے توانائی چوہدری عابد شیر علی نے واپڈا کے کرپٹ ملازمین کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے ارکان کو مسائل کے حل کے لئے خیبرپختونخوا ور سندھ کے گورنر ہاؤسز میں اجلاس طلب کرنے کی پیش کش کر دی۔

ایوان میں شیراکبر خان کی تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیرمملکت توانائی چوہدری عابد شیر علی نے کہا کہ ناجائز ریڈنگ کو روکنے کے لئے موباہل ریڈنگ شروع ہوگئی ہے ۔ 2013ء میں 18‘ 20 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ تھی۔ اب 22 گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ دو گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔اس حکومتی دعوی پر اپوزیشن ارکان نے نو نو کے نعرے لگائے۔وزیرمملکت توانائی نے کہا کہ سندھ اور خیبرپختونخوا اراکین کے گرڈ سٹیشنوں سے متعلق خدشات درست ہیں۔ کم وولٹیج کا مسئلہ درست ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کو گرڈ سٹیشن سے متعلق زمین کیلئے پیسے دیئے۔ نوشہرہ‘ چکدرہ‘ ڈیرہ اسماعیل خان میں 220 کے وی کے گرڈ سٹیشنوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔

این ٹی ڈی سی کا بدھ کو اجلاس ہو گا۔ ارکان اس اجلاس میں آ جائیں۔ ارکان قومی اسمبلی کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ خیبرپختونخوا میں فوری طور پر 5 نئے گرڈسٹیشن لگائے جائیں گے جہاں جہاں بجلی کے مسائل ہیں جرگہ بلا لیں۔ میٹرز دینے اور واجبات کے حوالے سے اقساط کرنے کو تیار ہیں۔ ارکان کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز کے ساتھ اجلاس کروانے کو تیار ہیں۔

بعض علاقوں میں سکولوں کے میٹرز سے پورے پورے گاؤں کو بجلی کی فراہمی کی اطلاعات ہیں۔ مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کو تیار ہیں۔ دسمبر 2017ء مارچ 2018ء تک بجلی سے متعلق تمام مسائل حل کر لئے جائیں گے۔ گورنر ہاؤس سندھ گورنر ہاؤس خیبرپختونخوا میں مسائل سے متعلق اجلاس کیلئے تیار ہیں۔ پیسکو‘ حیسکو‘ کے الیکٹرک تمام کمپنیوں کے سربراہان اجلاس میں آئینگے۔ ارکان کی مشاورت کے تحت بھی صارفین کے مسائل حل کئے جائیں گے جیسے یہ راضی ہونگے۔

ہم مسائل حل کرنے کو تیار ہیں۔ میٹرز نہ ہونے‘ ناجائز بلنگ‘ لائن لاسز سمیت تمام مسائل پر کھل کر بات کرینگے۔ ہم معاملات کو متنازعہ نہیں حل کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہ کی جائے۔ اسلام آباد یا صوبوں میں جہاں کہیں آنے کو تیار ہیں۔ پارلیمنٹ میں بھی یہ اجلاس ہو سکتا ہے۔ ٹائم اور تاریخ کا اعلان قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کر دے۔ ہم تیار ہیں۔