بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / چاروں صوبے این ایف سی اجلاس جلد بلانے پر متفق

چاروں صوبے این ایف سی اجلاس جلد بلانے پر متفق

پشاور۔پنجاب سمیت دیگر صوبوں نے این ایف سی اجلاس کیلئے خیبر پختونخوا کی تجاویز کی توثیق کرتے ہوئے مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کر لیا ہے اور وفاقی حکومت سے این ایف سی اجلاس فوری طلب کرنے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے خیبر پختونخوا حکومت کی دعوت پر قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کا اجلاس جلدطلب کرنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی غرض سے تمام صوبوں کا طلب کردہ مشاورتی اجلاس میں خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں منگل کے روزمنعقد ہوا جس کی صدارت خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کی ۔

جس میں چاروں صوبوں کی جانب سے اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی مذکورہ اجلاس میں دوسرے صوبوں کے تمام شرکاء نے خیبرپختونخوا کی تمام تجاویز کی توثیق کرتے ہوئے متفقہ فیصلہ کیا کہ وفاقی حکومت سے این ایف سی اجلاس فوری طورپر طلب کرنے کی استدعا کی جائے اورتسلسل کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے این ایف سی ایوارڈ کے لئے اپنی سفارشات جلد از جلد مرتب کریں تاکہ نئے ایوارڈ کااجراء اگلے مالی سال سے ممکن بنایا جاسکے اوروفاق وصوبائی حکومتیں اپنے اس اہم آئینی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھاسکیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا کہ وفاقی حکومت مزید تاخیر کی بجائے فوری طورپر قومی مالیاتی کمیشن کااجلاس بلائے اورقابل تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ 80 فیصد رکھا جائے جبکہ 20 فیصد مرکز اپنے پاس رکھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں صوبوں کودرپیش مسائل اور ضرورت کے مطابق وسائل نہیں مل رہے جس سے صوبوں میں بے چینی پھیل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے این ایف سی اجلاس بلانے کا وعدہ صوبوں کے ساتھ پورا نہیں کیا جبکہ اس ایوارڈ کی تاخیر سے وفاق آئین شکنی کامرتکب ہورہا ہے واضح رہے کہ اجلاس میں باہمی مشاورت کے بعد وفاقی حکومت پر نویں مالیاتی کمیشن کا اجلاس بغیر کیس مزید تاخیر کے جلد بلانے پر زور دیاگیا۔ اجلاس میں سنیٹر سلیم مانڈی والہ نے خیبرپختونخوا حکومت کے مطالبے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ نویں این ایف سی ایوارڈ کااجلاس جلد از جلد منعقد ہونا انتہائی ناگزیر ہے ۔

انہوں نے تجویز دی کہ اگر وفاق اس سلسلے میں کوئی نتیجہ خیز اقدام نہیں اٹھاتاتواس صورت میں تمام صوبے متفقہ طورپر وزیراعظم پاکستان سے درخواست کریں کہ وہ ذاتی طورپر اس معاملے میں اپنا کردار اد اکریں۔ اجلاس میں ممبر این ایف سی پروفیسر محمد ابراہیم نے وفاق کی جانب سے این ایف سی میں تاخیر پر افسوس کااظہار کیا اور کہا کہ مرکز اس سلسلے میں بلاوجہ تاخیر کوصوبوں کی ذمہ داری قرار دے رہا ہے جو درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی کی تاخیر کی وجہ وفاقی حکومت کی یہ تجویزہے کہ قابل تقسیم محاصل میں 7 فیصد رقم مختص کی جائے جس میں 3فیصد برائے قومی سلامتی فنڈ اور4 فیصد حصہ خصوصی علاقہ جات یعنی فاٹا ،آزاد جمو ں وکشمیر اورگلگت بلتستان کے لئے مختص کیاجائے۔