بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ایبٹ آباد میں بین الاقوامی طرز کے سپورٹس کمپلیکس کا منصوبہ

ایبٹ آباد میں بین الاقوامی طرز کے سپورٹس کمپلیکس کا منصوبہ

پشاور:خیبرپختونخوا کے وزیر ابتدائی وثانوی تعلیم محمد عاطف خان کی زیر صدارت منگل کے روزمنعقدہ ایبٹ آباد پبلک سکول اینڈ کالج کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس نے بورڈآف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ایبٹ آباد کی جانب سے ایبٹ آباد پبلک سکول اینڈکالج کی غیر استعمال شدہ اراضی پر25 کروڑ روپے کی لاگت سے عالمی معیارکے جدید سہولیات سے آراستہ سپورٹس کمپلیکس کے قیام کے لئے مذکورہ سکول اوربورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی باقاعدہ منظوری دے دی اورمتعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس اہم منصوبے پر بلاتاخیر کام شروع کریں ۔

اجلاس میں دوسروں کے علاوہ سیکرٹری تعلیم ڈاکٹر شہزاد بنگش،سپیشل سیکرٹری قیصر عالم،سکول کے پرنسپل ،بورڈ آف گورنرز کے ارکان اوردیگرمتعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں اس اہم منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیاگیا اورتفصیلی بحث ومباحثے اورغور وخوض کے بعد اس کی منظوری دے دی۔ وزیر تعلیم نے اپنے مختصر خطاب میں تمام ماڈل سکولز اورکالجز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے بجٹ کی تیاری ہرسال اپریل کے مہینے سے شروع کریں اورجولائی کے پہلے ہفتے میں ہر حال میں بورڈ آف گورنرز سے اس کی منظوری لے تاکہ انہیں اپنے مالی امور چلانے میں دشواری کاسامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے ایبٹ آباد بورڈ کی جانب سے مذکورہ منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ایبٹ آباد تعلیمی بورڈ اپنے مینڈیٹ کے مطابق اس اہم منصوبے پر 25 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کرنے پر رضامند ہے اور وہاں کے مقامی لوگوں کوصحت مندانہ ماحول فراہم کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کررہا ہے ۔عاطف خان نے کہا کہ صرف شفاف امتحانات کاانعقاد تعلیمی بورڈز کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں بلکہ طلبہ کو کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنا بھی ان کا مینڈیٹ ہے اورتمام بورڈز حسب ہدایت اس سلسلے میں تندہی سے اپنا کام کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پارٹی قائد عمران خان کے وژن کے مطابق پرائمری سے لیکرہائیرسطح تک طلبہ کوکھیلوں کی سہولیات فراہم کررہی ہے اوراب تک کھیلوں کی سہولیات سے محروم 10 ہزارمیں سے 7 ہزار سے زیادہ پرائمری سکولوں میں پلے ایریاز قائم کرچکی ہے جبکہ ہائی سکولوں میں سپورٹس گراونڈ پر بھی کام جاری ہے ۔اسی طرح تمام تعلیمی بورڈز کو اس سلسلے میں اپنے اضافی اورغیر استعمال شدہ اراضی پر یہ سہولیات فراہم کرنے کا ٹاسک دیاگیاہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم کام میں کوئی رکاوٹ یا غیر ضروری تاخیر کسی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔