بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کا آغاز

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کا آغاز

نیویارک۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے اپنی تقریر سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی لیڈروں کے خطابات پر مبنی چھ روزہ اجلاس کا آغاز کر دیا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے72 ویں سالانہ اجلاس کی عام بحث نیویارک میں شروع ہو گئی ہے۔مباحثے کا موضوع ہے”افراد پر توجہ۔امن کی جدوجہد اور کرہ ارض پر سب کیلئے بہتر زندگی”مباحثے میں دیرینہ تنازعات ، شدید غربت وافلاس اور پناہ گزینوں کے بحران سمیت دور حاضر کے کئی عالمی مسائل پر بین الاقوامی تبادلہ خیال ہوگا۔

اجلاس کے آغاز پر سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ دنیا شمالی کوریا کے ساتھ جوہری جنگ سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کے لاکھوں انسان شمالی کوریائی اشتعال انگیزیوں کی وجہ سے خوف میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ گوٹیرش نے اس تقریر میں یہ بھی کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ عالمی ادارے کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ سرد جنگ کے بعد دنیا کو شدید اضطراب کا سامنا ہے۔

انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں عالمی تشویش بلند ترین سطح پر ہے ۔انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہئے۔انہوں نے سیاسی حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی تدبر دکھانے کا وقت ہے،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریز نے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے میانمار پر زور دیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوجی کارروائی بند کرے۔

انہوں نے کہا کہ میانمار میں حکام کو لوگوں تک بلارکاوٹ رسائی دینی چاہئے اور روہنگیا کے مسائل حل کرنے چاہئیں جو طویل عرصے سے حل طلب ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ شمالی کوریا کی طرف سے جوہری اور میزائل تجربات کی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں لاکھوں لوگ خوف اور دہشت کا شکار ہوگئے ہیں،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا کو خطرہ ہوا تو شمالی کوریا کو ختم کرنے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے جوہری تجربات پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی حکومت کرپٹ ہے اور اختلاقی طور پر یہ ایک ناکام ریاست ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے لیڈر کو جارحانہ رویہ ترک کرنے تک تنہا کرنے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہدہشت گردوں اور انتہا پسندوں نے طاقت کو یکجا کیا ہوا ہے، دہشت گرد دنیا کے کونے کونے میں پھیل گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی کو ختم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ امریکی عوام کا مفاد سب سے بالاتر رکھتے ہیں، منتخب ہونے کے بعد سے اب تک حکومت نے قابل قدر کام کیے، امریکی فوج جلد پہلے سے زیادہ مضبوط ترین فوج بن جائیگی۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہر ملک سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے لوگوں کے مفادات کا خیال رکھے، تمام ممالک دوسری اقوام کے حقوق کا بھی خیال رکھیں۔انہوں نے کہا کہ شام تنازعے کا ایسا سیاسی حل نکالا جائے جو عوام کیلئے باعث احترام ہو ،کمیائی ہتھیاروں کا استعمال پریشان کن ہے۔ خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے یہ پہلاخطاب ہے۔