بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا اسمبلی میں منشیات کی روک تھام کیلئے نیا بل پیش

خیبر پختونخوا اسمبلی میں منشیات کی روک تھام کیلئے نیا بل پیش

پشاور۔خیبر پختونخوا اسمبلی میں منشیات کی روک تھام کیلئے نیا قانون پیش کر دیا گیا ہے جس کے تحت وفاقی سطح پر قائم انٹی نارکاٹکس فورس اور پولیس کے اختیارات کم کرتے ہوئے صوبائی سطح پر انٹی نارکاٹکس ونگ قائم کیا جائے گا جو محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ماتحت ہو گا منگل کے روز صوبائی اسمبلی میں مذکورہ بل صوبائی وزیر قانون امتیازشاہد قریشی نے پیش کیا جس کے مطابق اے این ایف کا دائرہ اختیار کم کر کے صرف صوبے کے ہوائی اڈوں (ایئر پورٹ) اور خشک گودیوں (ڈرائی پورٹ)تک محدود کر دیا جائیگا۔

اسی طرح خیبر پختونخوا پولیس بھی منشیات اور سمگلرز پکڑنے کے بعد انہیں انٹی نارکاٹکس ونگ کے حوالے کرنے کے پابند ہوں گے انٹی نارکاٹکس ونگ کے ذمہ قانونی چارہ جوئی کا عمل بھی ہو گا جن میں پراسیکیوشن بھی شامل ہے ونگ کی سرابرہی ڈائریکٹر کرے گا جبکہ سٹاف میں 500سے ایک ہزار تک کی نفری بھری کی جائیگی جن کو کسی دوسرے محکمے تبادلہ نہیں کیا جا سکے گا ،ونگ ڈائریکٹر محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ڈائیریکٹر جنرل کو جواب دہ ہو گامسودے میں دیگر 40اقسام کی منشیات کے ساتھ پہلی مرتبہ آئیس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

مسودے کے مطابق منشیات کے کیس اور سمگلروں کے ساتھ پولیس کا کوئی لینا دینا نہیں ہو گا اینٹی نارکاٹکس ونگ خود پورے کیس کی نگرانی کرے گی اسی طرح ونگ کے مخصوص پولیس سٹیشن بھی قائم کئے جائیں گے جن کی سربراہی ایس ایچ او کرے گا ابتدائی طور پر پولیس سٹیشن ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں قائم کئے جائیں گے جس کے بعد انہیں ہر ضلع اور بعد ازاں تحصیل میں بھی قائم کیا جائیگامسودے کے مطابق انٹی نارکاٹکس ونگ پشاور میں عملے کی تربیت کیلئے ایک اکیڈمی بھی قائم کرے گاجبکہ جدید تقاضوں کے مطابق فرانزک لیبارٹری بھی قائم کی جائے گی۔

خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق 18ویں ترمیم کے بعد منشیات سے متعلق کیسز کو ڈیل کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اور خیبر پختونخوا حکومت نے دیگر صوبوں کے برعکس پہل کرتے ہوئے سب سے پہلے یہ قانونی مسودہ تیار کیا ہے ۔