بریکنگ نیوز

نے جہاں

نوازشریف کے دور حکومت میں 18.28 کھرب روپے کے مساوی قرضوں کا موازانہ ماضی میں لئے گئے قرضہ جات سے کیا جائے تو اُنہوں نے مجموعی طور پر 35فیصد زیادہ قرض لئے ‘ یقیناًقرض لینے میں مضائقہ نہیں تھا لیکن اگر سخت گیر مالی نظم وضبط لاگو ہوتا اور قرضوں سے حاصل ہونے والی ہر ایک پائی کا مصرف ’قومی ترقی‘ کے لئے کیا جاتا۔ ہمارے ہاں شاہانہ طرزحکمرانی کسی سے پوشیدہ نہیں اور نہ ہی مالی بدعنوانیوں (کرپشن) کے لامحدود امکانات کی موجودگی سے کوئی ذی شعور انکار کر سکتا ہے۔ حکمرانوں اور افسرشاہی کے تفریحی دورے بنام بیرون ملک علاج معالجہ کسی سے پوشیدہ نہیں رہا۔ صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے قومی وسائل کی ذاتی اثاثوں میں منتقلی اِس قدر عام ہو چکی ہے کہ اِس کی وجہ سے ’سیاست ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ہے‘ جس کے لئے ’عام انتخابات‘ میں باقاعدہ سرمایہ کاری کی جاتی ہے!چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے لے کر دیگر چھوٹے بڑے ترقیاتی منصوبوں اور امدادی سرگرمیوں کے لئے جن کڑی شرائط (بلند سود کی شرح) پر قرض حاصل کئے گئے ہیں‘ وہ خطے کے دیگر ممالک کے تناسب سے زیادہ ہیں جبکہ کئی ایسے ترقی پذیر ممالک کی عملی مثالیں موجود ہیں جن کی قیادت نے قرض لینے میں عجلت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے زیادہ سوچ سمجھ کر فیصلے کئے اور قرضوں کے حصول سے زیادہ اُن باسہولت و آسان واپسی پر توجہات مرکوز کیں۔ بہت پرانی بات نہیں بلکہ رواں ہفتے بھارت اور جاپان کے درمیان تیزرفتار ریل گاڑی (بُلٹ ٹرین) کا معاہدہ ہوا‘

اِس منصوبے کیلئے جاپان 80 فیصد مالی وسائل فراہم کریگا جس پر شرح سود ایک فیصد سے بھی کم(0.1%) طے کی گئی ہے اور اس قدر کم شرح سود ہونے کے باوجود بھی بھارت یہ قرضہ 15برس میں اُس وقت سے ادا کرنا شروع کریگا جب یہ ’تیزرفتار ریل گاڑی‘ چلنا شروع ہوگی یعنی جب بھارت کو ریل گاڑی سے آمدنی حاصل ہونا شروع ہوگی تو اُسکا عشرعشیر جاپان کو اقساط کی صورت میں ادا کیا جائیگا‘ ایک طرف بھارت ہے جہاں ریل گاڑی کے نیٹ ورک کو وسعت دی جا رہی ہے اور دوسری طرف ہمسایہ ملک پاکستان ہے کہ موٹروے جیسی آسائش پر اربوں ڈالر بھاری شرح سود پر قرض لے کر خرچ کر دیئے گئے ہیں اور اِس سے عام آدمی (ہم عوام) کی وہ اکثریت استفادہ نہیں کرتی پاکستان کے طول و عرض (پشاور سے کراچی) تک کا فاصلہ اگر مرکزی شہروں کو شامل کرکے دیکھا جائے تو دوہزار کلومیٹر سے کم ہے اور جاپان سمیت کئی ایسے ممالک ہیں ۔

جہاں تین سے چار سو کلومیٹر ’فی گھنٹہ‘ کی رفتار سے ریل گاڑیاں دوڑ رہی ہیں‘ دنیا کی تیز رفتار ریل گاڑی چین کے شہر شنگھائی میں ہے جس کی زیادہ سے زیادہ حد رفتار 430کلومیٹر فی گھنٹہ ہے‘ دنیا کی دوسری تیزرفتار ریل گاڑی بھی چین ہی میں پائی جاتی ہے‘ جس کی رفتار 380 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ دنیا کی تیسری برق رفتار ریل گاڑی اٹلی میں ہے‘ جس کی زیادہ سے زیادہ رفتار قریب 375 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے! جاپان کا شمار چھٹے نمبر پر آتا ہے جسکی تیزترین ریل گاڑی قریب 320 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے لیکن چونکہ جاپان ایک صنعتی ملک ہے اور اپنی مصنوعات کے ذریعے دنیا پر حکمرانی کر رہا ہے اِسلئے پائیداری اور صنعتی (بڑے) پیمانے پر اشیاء کی تیاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتا اُور اُسے ہمیشہ ہی سے دوستوں کی تلاش بھی رہی ہے۔ پاکستان کے فیصلہ ساز اگر اپنے ملک میں تحقیق اور ایجادات کا ماحول فراہم نہیں کر پائے تو صرف چین اور امریکہ ہی سے نہیں بلکہ ستاروں سے بھی آگے دیکھنا ہوگا۔