بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / منجن بیچنے کے طریقے

منجن بیچنے کے طریقے

اُس دن میرے مریضوں کا معائنہ ختم ہوا تو سیکریٹری نے کہا کہ ایک میڈیکل ریپ بہت وقت سے انتظار کررہا ہے۔ مناسب ہو تو بُلالوں۔ میرے پاس ابھی وقت تھا اس لئے میں نے بلا لیا۔ اچھے خاصے سوٹڈ بوٹڈ جنٹل مین تھے۔ سلام کیا اورمیرے کہنے پر کرسی پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے ایک عام اینٹی بیاٹک کا بروشر نکالا اور کہنے لگے کہ سر دیکھئے آپ فلاں کمپنی کا اینٹی بیاٹک استعمال کرتے ہیں ۔ آپ کو پتہ ہے ان کے مالک کن کاموں میں مشغول ہوتے ہیں۔ شراب پیتے ہیں۔ ناچ گانا دیکھتے ہیں۔ جبکہ ہمارے مالک بہت ہی دیندار انسان ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اس دوا میں کیا خاص بات ہے کہ میں ایک اینٹی بیاٹک جو سستی بھی ہے اور موٗثر بھی، اسکو چھوڑ کر آپ کی اینٹی بیاٹک استعمال کروں۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ سر دیکھئے ہم اسکی پیکنگ کتنی مہنگی کررہے ہیں۔ ذرا ڈبّی تو دیکھیں، کتنی خوبصورت پرنٹنگ ہوئی ہے اس پر۔ میں نے پھر پوچھا کہ یہ بتائیے کہ اس سے مریض کو کیا فائدہ ہوگا۔ وہ کہنے لگے سر ہم ہر ہفتے آپ کو لنچ کروائیں گے۔ اس پر میرا پارہ چڑھ گیا اور میں نے اسے کلینک سے نکال دیا۔ہا ہا ہا۔ یہ کوئی سچا واقعہ نہیں۔ میں نے ویسے ہی ایک فرضی کہانی بنا کر پیش کردی ۔ یہ اس لئے کہ آپ کو بتاؤں کہ اپنا منجن بیچنے کا یہ سب سے بھدا طریقہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے میڈیا جس میں سوشل میڈیا سب سے آگے ہے، میں یہی کچھ چل رہا ہے۔ ہر شخص کسی ایک لیڈر کے پیچھے بھیڑ بکریوں کی طرح سر جھائے چل رہا ہے۔ نہ کسی کو کوئی ٹھوس پروگرام معلوم ہے کہ ان کے موصوف لیڈر آکر عوام کیلئے کیا کریں گے۔ ہر کوئی بس ایک ہی بات جانتا ہے کہ بس اُسکا لیڈر ہی پاکستان کی بقا کا ضامن ہے۔ اور اس میں کسی خامی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ بعض اوقات تو یہ لیڈر ایسی بونگی بات کرلیتے ہیں کہ ان کے اپنے ورکروں کو اس کی وضاحت کرتے ہوئے پسینہ آجاتا ہے۔

خدا بخشے ایک لندن میں بیٹھے لیڈر ایسی ہی حرکتیں کرتے تھے جن کو دیکھ ان کے پاکستانی لیڈروں کی پیشانیاں عرق آلود ہوجایا کرتیں۔ رُعب اتنا تھا کہ مجال ہے کسی چینل سے ان کے خلاف ایک جملہ کہا جاتا۔ لیکن ان کے کارکن دیواروں پر چاکنگ کرتے کہ جو ان کا غدّار ہے وہ موت کا حقدار ہے۔ گز شتہ روز لاہور کے ایک حلقے میں الیکشن کا جو سماں بنا تھا، اس نے پوری قوم کو ہیجان میں مبتلا کیا تھا۔ ہر لیڈر کے پیچھے چلنے والی کسی بھیڑ بکری نے یہ اقرار نہیں کیا کہ ہاں میرے لیڈر میں یہ کمزوری ہے۔ اور امید ہے کہ ہم ان کو کہہ کر اس کمزوری کو دور کرکے دم لیں گے۔بلکہ ساری کمزوریا ں اور خرابیاں مخالفین کے کھاتے میں ہیں ۔اس وقت سوشل میڈیا ایک طرف تو مختلف سیاسی محاذو ں میں بٹ چکا ہے ، دوسری طرف لبرل ازم اور مذہبی شدت پسندی ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ایک اور مقابلہ جمہوریت اور آرمی کے حامیوں میں ہورہا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کی پوسٹ طنز سے شروع ہوتی ہے اور گالیوں پر ختم ہوتی ہے۔ بالکل یہی لگتا ہے کہ پرانی گلیوں میں پاپا کٹنیاں ایک دوسرے کو جلی کُٹی سنارہی ہیں۔ یہ ایک بہت خطرناک صورت حال ہے۔ اگر تو مقصد اپنے دل کی بھڑاس نکالنی ہے تو پھر تو ٹھیک ہے اور ان کو پاپا کُٹنیاں سمجھ کر نظر انداز کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم جب اچھے خاصے سنجیدہ لوگ بھی یہی طرز عمل اختیار کرلیتے ہیں تو تشویش ہونا لازمی ہے۔ مثال کے طور پر ایک مذہبی اور سیاسی جماعت جو اب تک بہت حد تک سنجیدہ بحث کیلئے مشہور تھی، اس کے جیالے بھی اب وہی لب و لہجہ اختیارکرتے جارہے ہیں۔ ان کے لیڈر کے بارے میں کوئی وضاحت طلب کرے تو بے شک انہوں نے غلطی کی ہو لیکن ان کا رویّہ وہی ہوتا ہے جو لندن سے خرافات برسانے والے کی وضاحتیں کرنے والوں کا ہوتا تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ آپ اپنے پسندیدہ سیاسی جماعت، فرقے، نظرئے کیلئے لوگوں کو دلائل سے قائل کریں، آپ کا لہجہ معتدل ہو، آپ اپنے لیڈروں کی کمزوریوں کو مانیں۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اس دنیا میں کوئی شخص بھی ناگزیر نہیں۔ جب فرانس کے صدر چارلس ڈیگال سے کہا گیا کہ آپ پھر سے صدر بن کر فرانس کی رہنمائی کریں کیونکہ آپ جیسا لیڈر ملنا مشکل ہے۔

تو انہوں نے جواب دیا کہ جو لوگ اپنے آپ کو ناگزیر سمجھتے تھے ، ان سے قبرستان بھرے پڑے ہیں۔ ہم سب انسان ہیں اور ہم سے ہر روز غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ یہ صرف انبیاء ہوتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی نظر ہوتی ہے اور ان کو غلطی سے روکتے ہیں۔ اپنے تمام فیس بکی قارئین سے درخواست ہے کہ ایسی پوسٹو ں اور کمنٹوں سے احتراز کریں جن سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہو۔ ہاں دلائل دے کر کسی عمل یا اقدام کو اچھا یا برا قرار دیا جاسکتا ہے ۔ لیکن نہ تو تمام مخالف لیڈران سرتاپا شیطان ہیں اور نہ اپنے تمام لیڈران فرشتہ ہیں۔ وہ انگریزی میں کہتے ہیں کہ ہر ایک کی الماری میں ہڈیوں کے ڈھانچے پڑے ہوئے ہیں۔ یہ کم از کم بد ترین سیلز مین شپ ہے۔ اس طریقے سے کوئی اپنا منجن نہیں بیچ سکتا تو نظریہ کیسے پھیلا سکتے ہیں۔ اس لئے دلائل ایک مقام پر آکے دھیمے پڑ جاتے ہیں۔ لیکن کم از کم ہم اپنی زبان تو معقول رکھ سکتے ہیں۔ ہم اپنے محبوب لیڈر کی محبت میں اور دوسروں کی مخالفت میں اتنا آگے چلے جاتے ہیں کہ فوٹو شاپ تصویریں حقیقت کے طور پر آگے پھیلاتے جاتے ہیں۔ اچھے خاصے گہرے دوستوں کی بات چیت ختم ہوچکی ہے۔ مثبت سوچ انسان کی اپنی ذہنی صحت کیلئے ضروری ہے۔ منفی خیالات کی عینک اُتارنے کی ضرورت ہے۔ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے والوں کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہئے، اور کسی بھی لمحے شرافت اور لہجے کی شیرینی نہیں چھوڑنی چاہئے۔