بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / سیاست میں خواتین کا کردار

سیاست میں خواتین کا کردار

جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیرمشتاق احمد خان نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کے نام اپنے ایک یاد داشتی خط میں مطالبہ کیاہے کہ تمام ایسی خواتین جن کی عمر 18 برس سے زائد ہے کو ووٹر کی حیثیت سے درج کرنے کا اہتمام کر کے ان تمام خواتین کے شناختی کارڈ بروقت بنوانے کا بندوبست کیا جائے ۔ نادرا رجسٹریشن دفاتر کی تعداد دوگنی کی جائے اور گشتی ٹیموں کی تعداد بڑھائی جائے نیز ان دفاتر میں زنانہ عملہ مقرر کیا جائے اور خواتین کے لئے خصوصی سہولیات فراہم کی جائیں ۔ خواتین پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد مردوں کے مساوی رکھی جائے اور وہاں مکمل زنانہ عملہ تعینات کیا جائے نیز عملے کی مناسب تربیت کا بندوبست کیا جائے زنانہ پولنگ اسٹیشن کی عمارتوں میں خواتین عملے اور ووٹرز کیلئے پانی،بجلی، روشنی، فرنیچرا ور دیگر سہولیات کا مکمل بندوبست کیا جائے اور ان کی نگرانی کا نظام تشکیل دیا جائے۔ زنانہ پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کے دن شکایات کے ازالے کے لئے مؤثر انتظام کیا جائے ٹول فری نمبروں کا اعلان کیا جائے اور گشتی نگران ٹیمیں مقرر کی جائیں جو فوری طور پر موقع پر پہنچ سکیں یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ہمارے ہاں خواتین کو چونکہ زندگی کے ہر معاملے میں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتاہے اسلئے انکے ساتھ اس سوچ اور ذہنیت کے زیر اثر ملکی سیاست اور خاص کر انتخابی عمل کے دوران بھی دوسرے بلکہ بسا اوقات تیسرے درجے کا سلوک روا رکھا جاتاہے۔

شاید اسی احساس کے تحت جماعت اسلامی نے اگر ایک جانب صوبے میں دس لاکھ خواتین کی ممبر شپ مہم شروع کر رکھی ہے تو دوسری جانب خواتین کے ساتھ انتخابی عمل کے دوران روارکھے جانے والے امتیازی سلوک کے خلاف جہاں الیکشن کمیشن کے روبروآواز اٹھانے کی کوشش کی ہے وہاں میڈیا کے ذریعے بھی خواتین ووٹرز میں ووٹ کی اہمیت اور انتخابی عمل میں خواتین کے کردار کے حوالے سے شعور وآگہی پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا اور سب سے بڑھکر قبائلی علاقوں میں انتخابی عمل پر مردوں کی اجارہ داری نیز سیاسی جماعتوں میں خواتین کے نہ ہونے کے برابر کردا ر اورانہیں پارٹی عہدے اور ٹکٹ دینے سے لیکر پولنگ سٹیشنز کے قیام وہاں درکار سہولیات کی فراہمی ، خواتین پولنگ عملے کی ناتجربہ کاری ، خواتین کی پولنگ میں مردوں کی کھلم کھلا مداخلت اور خواتین ووٹرز کو ہر اساں کرنے کے علاوہ مردوں کی جانب سے باپ ، بھائی یا خاوند کی حیثیت سے خواتین ووٹرز کی رائے پر اثر انداز ہونے تک نہ جانے کتنے ایسے مراحل ہیں جن سے گزرتے ہوئے ہر مرحلے اور موقع پر خواتین کا استحصال ہمارئے سماجی رویوں اور سیاسی وانتخابی عمل میں خواتین کو کوئی حیثیت اور اہمیت نہ دینے کی واضح عکاسی کرتاہے ۔

اس پس منظر میں جماعت اسلامی جیسی مذہبی سیاسی جماعت جس پر اسکے سیاسی مخالفین کی جانب سے خواتین کے حقوق اور پارٹی صفوں میں خواتین کو فعال کردارنہ دینے کے حوالے سے اکثر اوقات اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں کی طرف خواتین کو بڑی تعداد میں پارٹی ممبر بنانے کے علاوہ آئندہ عام انتخابات میں مخصوص نشستوں کے ساتھ ساتھ جنرل نشستوں پر خواتین امید وار ان کو ٹکٹ دینے اور انتخابی عمل میں خواتین کے فعال کردار کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خواتین ووٹرز کی تعداد نیز خواتین کی پولنگ کی شرح میں اضافے کیلئے اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کرنا اور اس ضمن میں بعض نمایاں عملی اقدامات اٹھانے کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہوگی۔ اسی طرح جماعت اسلامی کی جانب سے دس لاکھ خواتین ممبرز بنانے کی مہم کے آغاز اور نومبر میں صوبے کی سطح پر ایک لاکھ خواتین پر مشتمل خواتین کنونشن کے انعقاد کے اعلان سے بھی یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ آنیوالے دنوں بالخصوص آئندہ عام انتخابات میں خواتین کا کردار نمایاں اہمت کا حامل ہوگا‘ اسی طرح جماعت اسلامی نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ پاکستان کی کل آبادی کے 60فیصد حصے پر مشتمل نوجوانوں کو یوتھ ممبر شپ اور یوتھ انٹرپارٹی الیکشن کے ذریعے پارٹی صفوں میں سمانے اور انہیں مرکزی کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے بعد اب معاشرے کے ایک اور اہم ترین طبقے خواتین کی دس لاکھ ممبرسازی اور انہیں سیاسی اور انتخابی عمل میں اہم کردار ادا کرنے کا جوروڈمیپ دیا ہے وہ بھی یقیناًلائق تحسین ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ جماعت اسلامی کی ان مثبت اور تعمیری کو ششوں کا فائدہ اگر ایک جانب جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت میں اضافے کا موجب بنے گا تو دوسری طرف ا کا وشوں کا اثر یقینی طور پر ہمارے سیاسی اور انتخابی عمل میں خواتین کے موثراور فعال کردار کی ادائیگی کی صورت میں بھی سامنے آئے گا۔