بریکنگ نیوز
Home / کالم / ضمنی انتخابا اور سیاسی مستقبل!

ضمنی انتخابا اور سیاسی مستقبل!

’این اے ایک سو بیس‘ پر ضمنی انتخاب نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان میں دو ہی بڑی سیاسی جماعتیں آئندہ عام انتخابات میں بھی ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔ اِن میں ایک ’مسلم لیگ نواز‘ جبکہ دوسری ’تحریک انصاف‘ ہے۔ مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نوازشریف کی نااہلیت کے باعث خالی ہونے والی لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخاب میں بیگم کلثوم نواز نے چودہ ہزار ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کر کے اہم انتخابی معرکہ سر کیا ہے جبکہ یاسمین راشد کے سوا اُن کے تمام مدمقابل امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد اس حلقہ میں دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں میاں نوازشریف کے مدمقابل تھیں اور اس وقت میاں نوازشریف قریب چالیس ہزار ووٹوں کی اکثریت سے منتخب ہوئے تھے جبکہ اس وقت ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب اکیاون فیصد تھا۔ موجودہ ضمنی انتخاب میں ٹرن آوٹ کم رہا۔ موجودہ ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ نواز کے قائد کے محفوظ حلقے میں ان کے ووٹ کم ہونا تشیویشناک ہونا چاہئے جبکہ تحریک انصاف کے ووٹوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اس انتخابی معرکے میں سب سے زیادہ ہزیمت کا سامنا ’’وفاق کی علامت‘‘ پیپلزپارٹی کو کرنا پڑا جس کے امیدوار فیصل میر نے صرف ایک ہزار چارسوچودہ ووٹ حاصل کئے جبکہ پیپلزپارٹی کے قائدین اس انتخاب میں اپنی پارٹی کے لئے کسی بڑے بریک تھرو کی توقع کررہے تھے۔ فیصل میر اس انتخاب میں پانچویں نمبر پر آئے جبکہ حیران کن طریقے سے لبیک پارٹی کے امیدوار شیخ اظہر حسین رضوی سات ہزار ایک سو تیس ووٹ حاصل کرکے تیسری پوزیشن پر آئے اور حافظ سعید کے حمایت یافتہ محمد یعقوب شیخ نے پانچ ہزار آٹھ سو بائیس ووٹ حاصل کرکے چوتھی پوزیشن حاصل کی دیگر 38امیدواروں سے اکثر امیدوار سو کا ہندسہ بھی کراس نہیں کر سکے اور مووان پارٹی کی امیدوار روحی بانو کھوکھر نے صرف دس ووٹ حاصل کئے۔ اس ضمنی انتخاب کے نتائج جماعت اسلامی کے لئے بھی لمحۂ فکریہ ہیں جس کے امیدوار ضیاء الدین انصاری صرف پانچ سو بانوے ووٹ حاصل کئے جبکہ اُن کے مدمقابل ایک آزاد امیدوار محمد زبیر خاں نیازی نے تن تنہا پانچ سو چونتیس ووٹ حاصل کرلئے۔ اسی طرح پیپلزپارٹی سے اپنی راہیں الگ کرنے والی بیگم ناہید خان کی ورکرز پیپلزپارٹی کو بھی اس ضمنی انتخاب کے نتائج نے اپنی حیثیت کا بخوبی احساس دلا دیا جس کی سیکرٹری جنرل ساجدہ میر صرف باسٹھ ووٹ حاصل کر پائیں۔این اے ایک سو بیس کے ضمنی انتخاب کو نواز لیگ اور تحریک انصاف دونوں نے میاں نوازشریف کی نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ کی بنیاد پر عدلیہ کے لئے چیلنج بنانے کی کوشش کی تاہم یہ ضمنی انتخاب بنیادی طور پر حکمران نواز لیگ کے لئے ہی چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا نواز لیگ کے لئے اس مشکل انتخابی صورتحال میں یہ کٹھن صورتحال بھی پیدا ہوگئی کہ الیکشن کمیشن نے پولنگ کی نگرانی پاک فوج اور رینجرز کو سونپ دی۔

جس سے حکومتی پارٹی کیلئے روایتی انتخابی دھاندلی کے ممکنہ دروازے بند ہوگئے جبکہ بالخصوص دو دینی جماعتوں لبیک پارٹی اور ملی مسلم لیگ نے انتخابی معرکے میں اپنے امیدوار لا کر اور ان کیلئے منظم مہم چلا کر نواز لیگ کے ووٹ تقسیم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا مگر تنہاء مریم نواز ان تمام چیلنجوں کا مقابلہ اور زندگی کو لاحق خطرے سمیت تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے میدان عمل میں آئیں اور پوری انتخابی مہم کے دوران اس حلقے میں موجود رہیں اور اپنی جذباتی و جارحانہ تقریروں کے ذریعے پارٹی ورکروں میں جوش و جذبہ اُبھارتی رہیں جسکے نتیجہ میں نواز لیگ نے اس انتخابی معرکے کا میدان مارلیا ہے تو بلاشبہ یہ اُن کی ذاتی کوششوں کا ہی ثمر ہے‘این اے ایک سو بیس کے انتخابی معرکے میں سرخروئی کے باوجود نواز لیگ اور اس کی قیادت کیلئے مشکلات کم نہیں ہوئیں جوجبکہ بادی النظر میں وہ احتساب عدالت میں پیش نہ ہونے کی خاطر لندن میں مقیم ہیں۔ اس صورتحال میں لازماً ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوں گے اور عدم پیشی پر انہیں عدالت مفرور قرار دے کر قید کی سزا بھی سنا سکتی ہے ‘ اگر دوہزار اٹھارہ کے انتخابی عمل میں نواز لیگ اپنی قیادت کے بغیر ہی میدان میں اتری تو اس کیلئے مشکلات مزید بڑھ جائیں گی نواز لیگ کی قیادت کو اپنا اور اپنی پارٹی کا مستقبل بچانے کیلئے بہرصورت فہم و تدبر سے کام لینا ہے جس کیلئے ریاستی اداروں کے ساتھ مزاحمت اور ٹکراؤ سے گریز ہی بہترین حکمت عملی ہوگی‘(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر شاہد بٹ۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)