بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاست کو سیاست رہنے دیں

سیاست کو سیاست رہنے دیں

عمران خان اور شیخ رشید نے نواز شریف کی نا اہلی پر بھر پو رجشن منایا ۔جو سیٹ وزیر اعظم کی نا اہلی سے خالی ہوئی تھی اُس پر الیکشن کا اعلان ہوا تو ان دونوں حضرات نے اس الیکشن کو عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے تناظر میں اُبھارا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ حلقے کے لوگ ایک سزا یافتہ شخص کی حمایت کرتے ہیں یا عدالت عظمیٰ کی۔ اس سیٹ سے ن لیگ کی جیت کا مطلب ہو گا کہ عدالت کا فیصلہ غلط تھا۔اور اُس کے ہارنے کا مطلب عدالت عظمیٰ کی جیت ہو گی۔ہم یہ سمجھنے سے قاصر تھے اور قاصر ہیں کہ ایک سیاسی الیکشن میں عدالت عظمیٰ کا کیا لینا دینا مگر ہمارے بعض سیاست دانوں نے اس کو ایسا رنگ دیا کہ آج سارے پاکستانی اس بات کو سمجھنے کی کوشش میں ہیں کہ کیا واقعی ہماری عدالت عظمیٰ کا فیصلہ ایک سیاسی فیصلہ تھا کہ جس کو لاہور کے نواز شریف کے حلقے کی عوام کی اکثریت نے نہیں مانا۔ عدالتوں کے فیصلے تو ماننے کے لئے ہوتے ہیں چاہے وہ کسی فریق کے حق میں ہوں یا مخالفت میں۔مگر اس الیکشن کو جو رنگ پہلے جناب عمران خان اور پھر شیخ رشید نے دیا اُس نے عدالت کے وقار کو مجروح کیا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ جس طرح شیخ صاحب اور خان صاحب اس الیکشن کا نقشہ پیش کر رہے تھے وہ کسی بھی طرح مناسب نہیں تھا ۔ اسی طرح مریم نواز صاحبہ کا رد عمل بھی ٹھیک نہیں تھا۔ مگر یہ عمران خان کے رد عمل میں تھا۔اگر یہ لوگ الیکشن کو الیکشن ہی سمجھتے کہ جیسے بہت سے ضمنی الیکشز میں ہوتا آیا ہے تو عدالت عظمیٰ کا وقار مجروح نہ ہوتا۔اس میں شک نہیں کہ یہ حلقہ ایک مدت سے ن لیگ کا حلقہ رہا ہے ۔

اس میں نواز شریف اور دوسرے لیگی حضرات ہی جیتتے آئے ہیں۔باوجود اس کے کہ یہاں حکومتیں دوسری پارٹیوں کی بھی رہی ہیں تب بھی اس حلقے سے عام طور پر مسلم لیگ ن ہی کا امیدوار جیتا ہے۔ اس دفعہ تو عوام کے سامنے دو طرح کے چوائس تھے۔ایک کہ یہ سیٹ اُنکے منتخب کردہ ممبر کی تھی اور دوسرے جو شخصیت اس میں مقابلے پر تھی اُس کا ایک اپنا بھی منفرد مقام ہے۔ یہ وہ شخصیت ہے کہ جس نے ایک آمر کے سامنے ڈٹ کر اپنی پارٹی کی قیادت سنبھالی جب کہ پارٹی کے اعلیٰ عہدے داران کو بن باس بھیج دیا گیا تھا۔ جس طرح نصرت بھٹو مرحومہ نے ضیاء الحق کے مارشل لاء میں اپنی پارٹی کی قیادت سنبھالی تھی اسی طرح کلثوم نواز نے پرویزمشرف کے مارشل لاء میں اپنی پارٹی کو سنبھالا دیا۔ اب ایسی شخصیت کے سامنے کوئی امیدوار کیسے ٹک سکتا ہے۔جس کا سیاسی کیرئیر بس اتنا ہے کہ وہ نواز شریف کے مقابلے میں پی ٹی آئی کی امیدوار تھی۔الیکشن میں جو و وٹ کلثوم نواز کو پڑے وہ اُس کے اپنے تھے۔ اس میں کسی بھی دوسری شخصیت کا دخل نہیں تھا۔

ہمارے ہاں یہ وطیرہ ہے کہ ہارنیوالی جماعت اپنی ہار کو جانتے ہوئے پری پول رگنگ کا رونا شروع کر دیتی ہے۔ اسی طرح یاسمین راشد صاحبہ کے سمجھانے والوں نے بھی پہلے سے ایک بند باندھنا شروع کر دیا کہ الیکشن کمیشن نے انتیس ہزار ووٹ ادھر اُدھر کر دیئے ہیں۔ اگر دو چار سو ووٹوں کا معاملہ ہوتا تو کوئی یقین بھی کر لیتا مگر انتیس ہزار ووٹ کیسے ادھر اُدھر ہو سکتے ہیں۔ محترمہ یاسمین راشد کو سو فی صد یقین تھا کہ وہ اتنی بڑی شخصیت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں اسی لئے انہوں نے پیش بندی کے طور پر کہہ دیا کہ میں جیتوں یا ہاروں میں نے الیکشن کمیشن سے یہ ان انتیس ہزار ووٹوں کا ضرور پوچھنا ہے۔ اب الیکشن کمیشن اس کا کیا جواب دیتاہے یہ تو معلوم نہیں مگر ایک بار پھرہلہ گلہ شروع ہو ہی جائیگا‘ویسے ہمیں اس بات کی سمجھ آج تک نہیں آ سکی کہ پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کو مانتی بھی نہیں اور اُ س کے سامنے اپنے مقدمات بھی پیش کرتی ہے عدالت عظمیٰ کا واسطہ دے کر الیکشن لڑنا کسی بھی طور مناسب نہیں ہے۔ اب یاسمین راشد کے ہارنے کو ہم عدالت عظمیٰ کی ہار تو نہیں نا مان سکتے۔ مگر کیا عمران خان بتا سکیں گے کہ اُن کے کہنے کے مطابق واقعی یہ عدالت عظمیٰ کی ہار ہے۔ حقیقت یہ ہے یہ انتخابات ایک سیاسی اور جمہوری عمل ہے اس کو عدالتوں کے فیصلوں کے ساتھ منسلک کرنا کسی بھی طور درست طرز عمل نہیں، دونوں طرف سے ایسے طرز عمل سے اجتناب ہی بہتر ہے جس سے عدالتوں کا استحقاق اور احترام مجروح ہونے کا خطرہ ہو۔انتخابات میں کسی ایک امیدوار ہی جیت ہوگی اور کسی کی ہار، تاہم انتخابی عمل بذات خود ایک جیت ہے، جمہوریت اور عوام کی۔