بریکنگ نیوز
Home / کالم / پیتل سے سونا بنانے کا گر

پیتل سے سونا بنانے کا گر

ملک میں بعض سبزیوں کی نایابی اور ان کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی طرف ذرا ہر صوبائی حکومت اپنے ڈپٹی کمشنروں سے یہ تو پوچھے کہ گزشتہ دو ماہ میں انہوں نے ڈسٹرکٹ پرائس ریویو کمیٹیوں کی کتنی میٹنگز منعقد کی ہیں؟ ہر ضلع میں سپیشل مجسٹریٹوں نے کیا ان دو ماہ میں مارکیٹ پر اچانک چھاپے مار کر بھیس بدل کر سبزیاں خرید کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ انہیں کس قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے ؟ ان چھاپوں کے دوران بلیک مارکیٹنگ کرنیوالے کتنے سبزی فروشوں کو جیل بھجوایا گیا ہے ؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کسی علاقے کے تھانیدار کو یہ پتہ نہ ہو کہ اس کے قانونی دائرہ کار کے اندر واقع علاقے میں کہاں کہاں وہ گودام واقع ہیں کہ جہاں ذخیرہ اندوز ان سبزیوں کا ذخیرہ کر دیتے ہیں کہ جو جلدخراب نہیں ہوتیں اور پھر چوری چھپے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرنے کے بعد ان کو تھوڑا تھوڑا باہرنکال کر اپنی دکانوں میں فروخت کرتے ہیں ؟ گزشتہ دو ماہ میں کیا کسی رکن اسمبلی یا کسی سیاسی پارٹی نے اسمبلی کے فلور پر اس عوامی مسئلے کو اٹھایا ہے ؟ وہ تو کسی اور چکر میں پھنسے ہوئے کوئی فصلی بیٹروں کو دوسری سیاسی پارٹیوں سے توڑ کر اپنی سیاسی پارٹی میں شامل کرنے کی سعی میں مشغول ہے تو کوئی کسی اور دھندے میں لگا ہوا ہے عوام اور ان کے مسائل جائیں بھاڑ میں۔ یہ تو میڈیا کا اعجاز ہے کہ وہ دکھیارے عوام کے دال دلیا کے مسائل کو وقتاً فوقتاً حکومت کے نوٹس میں لاتارہتا ہے آئینہ چونکہ جھوٹ نہیں بولتا اس لئے وہ گاہے گاہے حکمرانوں کو آئینہ دکھاتا رہتا ہے تاکہ اس میں ان کو اپنے چہروں پر پید ا ہونیوالے کالے داغ نظر آ سکیں کہ جنکی وجہ سے وہ دن بہ دن بد صورت ہو رہے ہیں اور عوام کی ہمدردیاں تیزی سے کھو رہے ہیں ہم نے تو آج تک کسی سیاسی لیڈر کو ذخیرہ اندوزوں اور بلیک مارکیٹرزکیخلاف لانگ مارچ یا دھرنا دیتے نہیں دیکھا اور نہ ہی بھوک ہڑتال کرتے کوئی نظر آیا یہ بات بالکل لغو ہے اور یہ دلیل بالکل بھونڈی ہے کہ سرکار کو مارکیٹ میکینزم کے اندر مداخلت نہیں کرنی چاہئے تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اگر مارکیٹ کی قوتوں کو مادر پدر آزاد چھوڑ دیا جائے اور ان پر کوئی کنٹرول یا کسی قسم کی پوچھ گچھ نہ ہو تو وہ پھر لاچار غریب عوام کا خون نچوڑنے سے بھی دریغ نہیں کرتیں مقامی ضلعی سطح پر انتظامیہ کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ سبزی منڈیوں اور بازار پر بھی نظر رکھے اوریہ جاننے کی صرف کوشش ہی نہ کرے کہ اشیائے خوردنی کی قلت کیوں پیدا ہو ئی۔

اس کو پیدا ہونے ہی نہ دے اور جو لوگ جا ن بوجھ کر کسی کھانے پینے کی اور روزمرہ کے استعمال کی چیز کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوشش کریں انہیں جیل کی ہوا دیں ان کو خالی خولی جرمانہ کرنے سے ان کا کوئی نقصان نہیں ہونا اور نہ نرم سزا سے ان کی صحت پر کوئی اثر پڑتا ہے یہ لوگ قابل گردن زنی ہیں جو عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی کھینچ لینے کی کوشش کرتے ہیں عام آدمی تو اب گوشت کا منہ صرف سال میں ایک بار دیکھتا ہے کہ جب اس کے گھر میں اگر کوئی غلطی سے بقر عید کی قربانی کا گوشت بھیج دے وہ سبزیوں اور دالوں پر گزارا کرتا ہے اب نظر یہ آ رہا ہے کہ سبزیاں اور دالیں بھی اس کی قوت خریدسے باہر ہوتی جا رہی ہیں بظاہر حکمران بالکل یہ نہیں چاہتے کہ بلیک مارکیٹز اور ذخیرہ اندوزوں پر آہنی ہاتھ ڈالیں اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ صرف صرف ہوا پھانکنے پر مجبور کر دیئے جائیں گے بلیک مارکیٹرز اور ذخیرہ اندوزوں کو نکیل ڈالنا صرف انتظامیہ کا کام ہے کیونکہ انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے اہلکار ہی ان پر ہاتھ ڈال سکتے ہیں سیاسی لوگ تو کانے کو منہ پر کانا کہہ ہی نہیں سکتے کیونکہ ان کو تو ہر وقت اپنے ووٹ بینک کی فکر رہتی ہے وہ اپنے ووٹر ز کو خفا کر ہی نہیں سکتے اگر وہ کسی جرم میں ملوث ہوں تو وہ الٹا ان کی ضمانتوں کے لئے تھانیدار اور ججوں سے سفارشیں کرتے ہیں اگر سیاسی لوگ واقعی عام آدمی کے خیر خواہ ہیں تو ان کو سماج دشمن عناصر کی سرکوبی میں انتظامیہ کا ساتھ دینا ہو گا۔