بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / آرمی چیف کی دو ٹوک باتیں

آرمی چیف کی دو ٹوک باتیں

وطن عزیز کے سیاسی منظرنامے‘ خطے کی مجموعی صورتحال اور درپیش چیلنجوں کے تناظر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کیساتھ بات چیت شفاف اور دوٹوک موقف کی عکاس ہے‘ جنرل قمر جاوید باجوہ کہتے ہیں کہ ہمارا پانامہ کیس سے کوئی تعلق نہیں لوگ جوا ندازے لگاتے ہیں لگاتے رہیں۔ آرمی چیف کا کہنا ہے کہ سابق اور موجودہ وزیراعظم سے اچھے تعلقات ہیں اور کلثوم نواز کی جیت پر انہوں نے شہباز شریف کو مبارکباد دی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے وضاحت کے ساتھ کہہ دیا ہے کہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی تناؤ نہیں۔

خارجہ امور سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ چار سال تک وزیر خارجہ نہ ہونے سے نقصان ہوا جبکہ وزارت خارجہ کی سربراہی میں خلاء نہیں ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم بھارت اور افغانستان کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں تاہم تالی دونوں ہاتھوں سے بجنی چاہئے وہ امریکہ کے ڈومور کے مطالبے کو درست قرار نہیں دیتے اور کہتے ہیں کہ ہم سے زیادہ ڈومور کس نے کیا۔ آرمی چیف ایل او سی پر حالات کی خرابی پر کہتے ہیں کہ اس کا ذمہ دار بھارت ہے۔ آرمی چیف کی بات چیت میں فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق اہم بات یہ ہے کہ جنرل باجوہ کہتے ہیں کہ فاٹا کے انضمام کا معاملہ سیاسی سیٹ اپ نے دیکھنا ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ فاٹا کے عوام کو صوبائیت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے فاٹا ریفارمز ناگزیر ہیں۔

جبکہ قبائلی علاقوں میں انتظامی اقدامات جلد کرنے کی ضرورت بھی ہے۔ بھارت اور افغانستان کے معاملات پر پاکستان کایہ موقف عیاں ہے کہ پاکستان دونوں ہمسایہ ملکوں کے ساتھ حل طلب معاملات پر بات چیت کے لئے تیار ہے تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجائی جاسکتی ہے لہٰذا کسی بھی معاملے میں پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے سے پہلے حقائق کا جاننا ضروری ہے پاکستان کلیئر کرتا ہے کہ افغانستان سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں افغان حکومت کو دراندازی روکنے کا کہا گیا ہے اس ضمن میں عالمی برادری کو پاکستان کے اصولی موقف کی روشنی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا‘آرمی چیف کا یہ کہنا انتہائی قابل اطمینان ہے کہ وہ فرسودہ روایات توڑنا چاہتے ہیں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ میں کیوں پارلیمنٹ نہیں جا سکتا یا ارکان پارلیمنٹ جی ایچ کیو کیوں نہیں آ سکتے سیاسی اور فوجی لوگ آپس میں بات کیوں نہیں کر سکتے وہ پورے ایوان کی کمیٹی کو بریفنگ دینے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں آنے کا عندیہ بھی دیتے ہیں۔

قومی اسمبلی کی قراردادیں

قومی اسمبلی میں گزشتہ روز منظور ہونے والی بعض قراردادیں عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے اہمیت کی حامل ضرور ہیں تاہم ان کا ثمر آور ہونا عملدرآمد کیلئے اقدامات سے مشروط ہے ‘ قومی اسمبلی کی قراردادیں جعلی ادویات کی روک تھام گیس لوڈشیڈنگ کے خاتمے‘ نئے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے متعلق بھی ہیں ‘ ایوان کو بتایا گیا ہے کہ جعلی اور دو نمبر کی دواؤں کی روک تھام کیلئے ادویہ ساز کمپنیوں اور میڈیکل سٹوروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں ایوان میں ادویات پر بارکوڈ لگانے کیلئے سخت قانون بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیاگیا‘ سرکاری ملازمین کے لئے تعلیم کی بنیاد پر انکریمنٹس اور وفاقی دارالحکومت میں مزید ہسپتالوں کی تعمیر بھی عوامی ریلیف کے مطالبے ہیں تاہم یہ ضرورت سارے صوبوں میں بھی ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ ایوان سے آنے والی تجاویز کی روشنی میں عملدرآمد کا مکینزم ترتیب دے تاکہ لوگوں کو ریلیف ملے۔