بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان کی قسمت کا فیصلہ اب عوام کریں گے ۔ احسن اقبال

پاکستان کی قسمت کا فیصلہ اب عوام کریں گے ۔ احسن اقبال

شبقدر۔وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہاہے کہ سی پیک کے نتیجے میں پاکستان چین دوستی ستاروں سے بھی بلند ہوگئی ہے، ایف سی پاکستان کے سول آرمڈ فورسز کا اہم جزو ہے،۔سول آرم فورسز کے سروس اسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے سول آرمڈ فورسز کے لیے سول آرمڈ فورسز ایکٹ لائیں گے، پاکستان کے دشمن اور دہشتگردوں کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ جس قوم کے پاس ایسے بہادر سپوت ہوں اس کے عزم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا ۔

تمام سیکیورٹی اداروں اور سرکاری مشینری کا یہ عزم ہے کہ ہم پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان بنائیںگے، اب پاکستان کی قسمت کا فیصلہ 20کروڑ عوام کریں گے،پاکستان اورچین کے تعلقات دیوار چین جتنے مضبوط ہیں ان میں نہ کوئی نقب لگا سکتا ہے اور نہ دراڑ ڈال سکتا ہے سی پیک کے نتیجے میں،فاٹا اصلاحات ستر سال سے دفن شدہ ایشو تھا،یہ اس حکومت کا کریڈیٹ ہے کہ اس کو زندہ کیاا ور کابینہ نے اس کی منظوری دی ،اب ہم اس پر عملدرآمد کی طرف بڑھ رہے ہیں،،حکومت کے اقدامات کے باعث فاٹا کے شہریوں کو وہی حقوق حاصل ہونگے جو کراچی ،لاہور،کوئٹہ اورپشاورکے شہری کو حاصل ہیں ۔ بدھ کو احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کو مبارک باد دوں کہ جو معیار جوانوںکا دیکھااور جو ان کی تربیت کا مشاہدہ کیا یہ اپنا ثانی نہیں رکھتے ،جس قوم کے اندر اس قدر پرجوش اور محب وطن فورس ہو اس وطن پر کوئی میلی نگاہ نہیں ڈال سکتا،ایف سی پاکستان کے سول آرمڈ فورسز کا اہم جزو ہے اور اس کے 27ہزار جوان ملک کے دفاع میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

اس وقت ایک لاکھ 77ہزار سول آرمڈ کے جوان ایف سی ،رینجرز اور کوسٹ گارڈز کی صورت میں پاکسان کی سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں،انہوں نے پاک فوج کے ہمراہ آپریشن ضرب عضب میں حصہ لیا اوراب آپریشن ردالفساد میںحصہ لے رہے ہیں ،ان کی قربانیاں کسی سے کم نہیں ہیں ،انہوں نے بھی ملک کیلئے بھی اپنا لہو پیش کیا ہے،اس وجہ سے ہم نے ان کی مراعات میں اضافے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں ،ان کی تنخواہوں میں اضافہ ہورہاہے،اور سب سے اول ترجیح ہماری ہے کہ ان کو جدید اسلحہ اور جدید یونیفارم کی فراہمی کیلئے کام کررہے ہیں،بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کرنے کیلئے بھی اقدامات اٹھائے ہیں،تاکہ ان کی جان کی حفاظت کی جاسکے ۔ان کے سروس اسٹرکچر کوبہتر بنانے کے لیے سول ارم فورسز ایکٹ لائیں گے تاکہ ان کوبہتر مراعات حاصل ہوسکیں پاکستان کے دشمن اور دہشتگردوں کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ جس قوم کے پاس ایسے بہادر سپوت ہوں اس کے عزم کو کوئی شکست نہیں دے سکتا ،تمام سیکیورٹی اداروں اور سرکاری مشینری کا یہ عزم ہے کہ ہم پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان بنائیںگے۔نفرت کو ختم کریں گے مذہب کی بنیاد پر ،فرقے کی بنیاد پر ،نسل ،زبان کی بنیاد پرکوئی فر ق نہیں ہوگا اور ہر پاکستانی کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا،نفرت کے بیج بونے والے پاکستان میں انتشار پھیلاکر،آگ اور خون کا کھیل کھیل کرہمیں کمزور کرنا چاہتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مضبوطی کا دارومدار ملک میںامن اور استحکام پر ہے،آج اقتصادی ترقی کا دو ر ہے،ہمیں ایشن ٹائیگر بننا ہے،اورہم اقتصادی ترقی تب کرسکتے ہیں،جب ملک میں امن اور سیاسی استحکام ہوگا،پالیسیز کا تسلسل ہوگا،سول آرمڈ فورسز نہ صرف سرحدوں بلکہ اندرونی منصوبوں میں بھی کلیدی کردار ادا کررہے ہیں ان کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکومت تمام وسائل مہیا کرے گی،پاکستان میں چند مایوس عناصر ہیں جو اس وقت قوم کو بری خبریں سنانے میں لگی ہے،قوم کو ہر اچھائی میں انہیں برائی نظر آئی ہے،آج پاکستان 2013کے مقابلے میں بدل چکا ہے،2013 میں روزانہ درجنوں افراد دہشتگردی کا نشان بنتے تھے۔آج کئی ہفتوں اور مہینوں کے بعد اکاد کا بزدلانہ کاروائی ہوتی ہے،آج ہم دس سالوں میں سب سے زیادہ گروٹھ ایٹ حاصل کیا ہے،احسن اقبال نے کہا کہ سیاست کو فروغ ہوا ہے جتنا ستر سال میں نہیں ہوا۔پاکستان میں امن قائم ہورہاہے،اور خوشحالی آرہی ہے کھیلوں کے میدان آباد ہورہے ہیں،دنیا کے صف اول کے کھلاڑی پاکستان آرہے ہیں۔

کوشش ہے کہ کراچی ،پشاور ،کوئٹہ میں انٹرنیشنل میچز کرائے جائیں۔ یہ علامتیں پاکستان کی ترقی کی علامتیں ہیں ،مایوسی پھیلانے واے عناصر کو قدم رد کرے گی۔ملک میں جمہوریت کی بنیادیں مضبوط ہیں ،ہم نے تجربات کرتے ہوئے سترسال ضائع کردیے ۔کئی ممالک ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔چند ناکام دانشوروں اور سیاستدان کو نظر آتاہے،کہ آگر جمہوریت چلتی ہے توہماری دکان نہیں چلے گی،اب ان کا وقت گزر گیا ہے،انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کا فیصلہ 20کروڑ عوام کریں گے،آئین ،قانون کرے گا،اور جمہوریت کے ساتھ اس کا تعلق کوئی نہیں توڑ سکتا ،دہشتگردی کو شکست دینے کیلئے پوری قوم متحد ہے اور ہمیں اپنے اداروں پر فخر ہے،اور شہدا پر فخر ہے،سترسال کے تجربے کی روشنی میںکہہ سکتے ہیں کہ پاکستان اورچین کے تعلقات دیوار چین جتنے مضبوط ہیں ان میں نہ کوئی نقب لگا سکتا ہے اور نہ دراڑ ڈال سکتا ہے سی پیک کے نتیجے میں پاکستان چین دوستی ستاروں سے بھی بلند ہوگئی ہے چین کی دوستی پر ہمیں فخر ہے چین نے پاکستان کا ہاتھ اس وقت پکڑا جب کوئی پاکستان پر دس ڈالر لگانے پر تیار نہ تھا۔انہوں نے پاکستان پے اعتماد کیا اور46 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی۔انہوں نے کہا کہ اس قدم نے دنیا کے سامنے پاکستان کا امیج تبدیل کردیا۔

اب ہر کوئی پاکستان کی طرف متوجہ ہورہا فاٹا اصلاحات ستر سال سےہے دفن شدہ ایشو تھا،یہ اس حکومت نے اس کو زندہ کیا ور کابینہ نے اس کی منظوری دی ،اب ہم اس پر عملدرآمد کی طرف بڑھ رہے ہیں،ہماری فاٹا کے عوام سے کمٹمنٹ ہے کیونکہ فاٹا کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانی دی ہے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ انہیں سیاسی حقوق دیں اور ان کے اقتصادی بحالی کیلئے بھی وسائل فراہم کریں،حکومت کے اقدامات کے باعث فاٹا کے شہری کو وہی حقوق حاصل ہونگے جو کراچی ،لاہور،کوئٹہ اورپشاورکے شہری کو حاصل ہیں۔