بریکنگ نیوز
Home / کھیل / خالد لطیف پربھی کرکٹ کے دروازے بند

خالد لطیف پربھی کرکٹ کے دروازے بند

لاہور۔پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل)کے دوسرے ایڈیشن کے دوران سامنے آنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث کھلاڑی خالد لطیف پر 5 سال کی پابندی اور 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا گیا۔جسٹس ریٹائر اصغر حیدر کی سربراہی میں سابق چیئرمین پی سی بی لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیا اور سابق وکٹ کیپر وسیم باری پر مشتمل پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی)کے اینٹی کرپشن ٹریبیونل نے خالد لطیف کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کیس کا فیصلہ سنایا اور ان پر لگائے گئے الزامات ثابت ہونے کے بعد ہر طرز کی کرکٹ کھیلنے پر 5 سال کی پابندی عائد کردی گئی۔ٹریبیونل نے خالد لطیف کے حوالے سے فیصلہ گذشتہ ماہ 20 اگست کو محفوظ کیا تھا جسے گزشتہ روزخالد لطیف اور ان کے وکیل بدر عالم کی غیر موجودگی میں سنایا گیا۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی کا کہنا تھا کہ الزامات کو ثابت کرنا پی سی بی کا کام ہے اور اس حوالے سے فیصلہ دینا ٹریبیونل کے دائرہ اختیار میں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹریبیونل کے فیصلے کے خلاف خالد لطیف کے پاس سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا حق ہے۔خالد لطیف پرآرٹیکل 2.1.1 کے تحت میچ فکسنگ میں ملوث ہونے، کرپشن کے معاملات کو نظر انداز کرنے یا کسی بھی طرح غلط طریقے سے کرپشن کے معاہدے کرنے یا اس حوالے سے اثرانداز ہونے کے الزامات لگائے گئے، جن کی وجہ سے ڈومیسٹک میچز سمیت دیگر میچز میں جان بوجھ کر غیر تسلی بخش کاکردگی جیسے عوامل رونما ہوئے۔ٹیسٹ کرکٹر پر آرٹیکل 2.1.2 کے تحت الزام لگایا گیا جس کے مطابق خالد لطیف ڈومیسٹک میچز کے دوران کرپشن میں ملوث پائے گئے۔

آرٹیکل 2.1.3 کے تحت خالد لطیف پر کسی بھی طرح کی رشوت لینے، قبول کرنے، پیش کش کرنے یا اس کے لیے رضامندی ظاہر کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔خالد لطیف پر آرٹیکل 2.4.4 کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا گیا، اس آرٹیکل کے تحت کرکٹر پر میچ فکسنگ سے متعلق کسی طرح کی بھی معلومات کرکٹ بورڈ کے محکمہ نگرانی کو نہ بتانے کا الزام لگایا گیا۔کرکٹر پر آرٹیکل 2.4.5 کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا کہ خالد لطیف کرپشن یا میچ فکسنگ سے متعلق کسی بھی واقعے کی معلومات پی سی بی کے سیکیورٹی اور محکمہ نگرانی کو بتانے میں ناکام ہوئے،اور یہ عمل کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی کا کہنا ہے کہ خالد لطیف پر تمام 6 الزامات ثابت ہوئے ہیں، خالد لطیف پر پانچ سال کی پابندی لگائی گئی ہے جرم ثابت ہونے پر پوری سزا دی جاتی ہے۔

صحافی نہ سوال کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے تاحیات پابندی کی درخواست کی تھی کیاآپ پانچ سال کی سزا سے مطمئن ہیں جس پر تفضل رضوی کا کہنا تھا کہ سزا تو کم ہے لیکن تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ہی اپیل کرنے کا فیصلہ کریں گے۔تفضل رضوی نے مزید کہا کہ خالد لطیف قصور وار تھے جبھی بار بار ٹریبونل کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ سزا کیخلاف خالد لطیف اور ان کے وکیل چاہیں تو کسی بھی عدالت جاسکتے ہیں انہیں بھی اپیل کا حق دیا گیا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی سی بی بکی یوسف کیخلاف کارروائی کا اختیار نہیں رکھتا۔