بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ویمن یونیورسٹی صوابی کی تعمیر کا آغاز

ویمن یونیورسٹی صوابی کی تعمیر کا آغاز

پشاور ۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ خواتین میں اعلیٰ تعلیم کا فروغ اور انکی تعلیم اور تحقیق کیلئے زیادہ وسائل کی فراہمی ہماری تعلیمی ایمرجنسی کا اہم ترین جز ہے صوابی میں خواتین یونیورسٹی کا قیام اور جدید سہولیات سے آراستہ نئے کیمپس کی تعمیر ہمارے اخلاص کا واضح ثبوت ہے جو یونیورسٹی سے بڑھ کر خواتین کا وسیع الاغراض تعلیمی کمپلیکس بنے گا کیونکہ اس میں یونیورسٹی کی آرٹس و سائنس کی تمام فیکلٹیوں کی علاوہ گرلز کالجز، کامرس کالج اور سکولز بھی قائم کئے جارہے ہیں۔

خواتین کی جدید سائنسی بنیادوں پر تعلیم و تربیت باشعور اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لئے ناگزیر ہے صوبائی حکومت انہیں زندگی کے تمام شعبوں میں بھرپور مواقع مہیا کرنے کیلئے کوشاں ہے صوبے میں خواتین کیلئے پاکستان کا پہلا کیڈٹ کالج بھی قائم کیا گیاہے صوابی میں پاک فضائیہ کے زیر اہتمام کیڈٹ کالج ، ڈگری کالج اور ہسپتال کے قیام کے علاوہ تمام جدید سہولتوں سے آراستہ گجو خان میڈیکل کالج اور ٹیکنیکل یونیورسٹی کا کیمپس بھی قائم کیا جا رہا ہے وہ ویمن یونیورسٹی صوابی کے نئے کیمپس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔

تقریب سے سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر،سینئر صوبائی وزیر صحت شہرام ترکئی،مشیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق احمد غنی،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اعلیٰ تعلیم کے چیئرمین کرنل ریٹائرڈ امیر اللہ مروت، رکن قومی اسمبلی عثمان خان ترکئی، یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خانزادی فاطمہ خٹک اور سیکرٹری اعلیٰ تعلیم سید ظفر علی شاہ نے بھی خطاب کیا اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ نیز ایجوکیشن ایمرجنسی کے تحت تعلیم نسواں کی ترویج کیلئے صوبائی حکومت کی اصلاحات اور اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی جبکہ تقریب میں کثیر تعداد میں طالبات، والدین، عمائدین علاقہ اور ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے علاوہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد، محکمہ اعلی تعلیم کے حکام اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی پرویز خٹک نے کہا کہ بدقسمتی سے جب ہماری حکومت برسراقتدار آئی تو ہمیں ہر قسم کی بدعنوانیوں اور برائیوں سے بھرا کرپٹ نظام اور ٹوٹی پھوٹی سرکاری عمارات ورثے میں ملی تھی جب ہم اقتدار میں آئے تو ہمارے ہاں کوالٹی ایجوکیشن کی کوئی بنیاد ہی نہیں تھی نمبروں کی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری تھا تعلیمی نظام بیٹھ چکا تھاجب دنیا سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف جا رہی تھی توہمارا تعلیمی نظام بابو پیدا کر رہا تھا ہمارے لوگوں کے پاس کوئی وژن ہی نہیں تھا ہمیں کب سمجھ آئے گی کہ تعلیم و تحقیق کا معیاری ہونا ضروری ہے ورنہ تعلیمی عمل بے سود ہوجاتا ہے ہم نے اپنے پارٹی قائد عمران خان کے تبدیلی کے وژن کے ساتھ قانون سازی اور اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا اور آج ہماری ان کوششوں کے ثمرات واضح طور پر عوام کے سامنے آچکے ہیں تمام اداروں اور محکموں کا قبلہ درست کردیا گیا ہے، اوپر سے لے کر نیچے تک کوئی کرپشن کا سوچ بھی نہیں سکتا اور ایسا کریگا توجلد دھر لیا جائے گا جبکہ محکمہ تعلیم سمیت تمام ادارے پوری گنجائش اور دلجمعی کے ساتھ عوام کی خدمت میں مصروف ہیں وزیراعلیٰ نے زیرتجویز تعلیمی ایکٹ پر شورشرابے کو بلاجوازقرار دیتے ہوئے کہا کہ سٹیٹس کو کی قوتیں اس ایکٹ پر سیاست کیلئے دوبارہ نکل آئی ہیں جو افسوسناک ہے کیونکہ ابھی تو اس بارے میں کوئی فیصلہ ہی نہیں ہوا اور یہ صرف تجاویز تک محدود ہے تعجب کی بات ہے کہ اس ملک میں نظام کی اصلاح کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی سیاست ہوتی ہے۔

نظام کی اصلاح سے اگر کسی کا نقصان ہوتا ہے تو وہ سٹیٹس کو کی قوتیں ہیں کیونکہ ان کے مفادات بد عنوان سسٹم سے ہی وابستہ ہوتے ہیں صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مضبوط اور با اختیار بنانے کے لئے پر عزم ہے اس سلسلے میں مجوزہ ایجوکیشن سروس ایکٹ پر سیاست افسوسناک ہے حیرت ہے کہ ایک چیز ابھی مشاورت کے مرحلے میں ہے جس کو ابھی تک حتمی شکل بھی نہیں دی گئی سٹیٹس کو کی قوتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے اسے متنازعہ بنانے میں مصروف ہیں حالانکہ ہمارا مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق فعال بنانا ہے سمجھ نہیں آتی کہ نجکاری کا معاملہ کہاں سے آ گیا مجوزہ ایکٹ سے اساتذہ کو نقصان نہیں ہو گا بلکہ ان کا مستقبل زیادہ محفوظ ہو جائے گا سٹیٹس کو کی قوتوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ہم اس سسٹم اور اداروں سے کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے ہم نے قوم کی حیثیت سے پہلے ہی بہت دیر کر دی ہے اب اس سسٹم کو بدلنا ہو گااپنی ترجیحات کا از سر نو تعین کرکے قومی خوشحالی اور ترقی کے راستے ہموار کرنا ہوں گے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم یقین دلاتے ہیں کہ یہ ایکٹ اساتذہ اور ماہرین تعلیم کی مشاورت سے اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور اس قانون سازی سے اساتذہ کو معمولی نقصان بھی نہیں پہنچے گاالبتہ قوم کے بچوں کا تعلیمی مستقبل تابناک بنے گاانہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے صوبے میں تعلیمی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے شعبہ تعلیم میں ایمرجنسی نافذ کی اور نا خواندگی کے خلاف جہاد شروع کیا ہم نے قوم کو یہ وژن دیا کہ اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے فروغ کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہماری حکومت نے یکساں نظام تعلیم کی بنیاد رکھی تعلیم کے شعبے میں ابتدائی ، ثانوی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کا معیار بلند کرنے کے لئے قابل عمل منصوبہ بنایا اور ایک ساتھ تینوں شعبوں کی ترقی کے لئے اقدامات کئے اس مجموعی عمل پر اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔

ہم نے بہت سے تعلیمی ادارے بنائے اور موجود اداروں کو اضافی سہولیات فراہم کیں صوبہ بھر میں نئی یونیورسٹیوں اور کالجوں کا قیام عمل میں لایا گیاخواتین کے لئے دو یونیورسٹیوں سمیت صوبے میں10 سے زائدنئے جامعات اور کیمپس قائم کئے گئے موجودہ صوبائی حکومت نے اس نا کارہ سسٹم کو ٹھیک کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے صوبائی حکومت نے سی پیک کے تناظر میں فنی تربیت کے جدید اداروں کی بنیاد ڈالی ان اداروں کو کامیابی سے چلانے کیلئے پاک فضائیہ کی معاونت بھی حاصل کی گئی ہے تحریک انصاف کی حکومت نے اب ٹیکنیکل ایجوکیشن کا سفر بھی شروع کیا ہے ہم نے ایسا سٹرکچر کھڑا کرنا ہے جو بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے تناظر میں ہماری ضروریات کو پورا کر سکے ہمارا مقصد صوبے کے نوجوان مردوں اور خواتین کو معیاری تعلیم و تحقیق اور فنی تربیت سے آراستہ کرکے قومی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے ہم ایک ایسی قوم بنانا چاہتے ہیں جس میں آگے بڑھنے کی صلاحیت ہوجو اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا جذبہ رکھتی ہوہم ایسی قوم دیکھنا چاہتے ہیں جو غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہووزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت صوبے میں وسیع بنیادوں پر غیر ملکی سرمایہ کاری یقینی بنانے کے علاوہ چین میں بیجنگ روڈ شو کرایا گیا جس میں ایک سو سے زائد معاہدے کئے گئے جن میں 21تعلیمی معاہدے شامل ہیں جنہیں فوری عملی شکل دی جا رہی ہے اور اسکے تحت 300اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو چینی یونیورسٹیوں میں چینی زبان سیکھنے کیلئے روانہ کیا گیا صوبائی حکومت یہ کام خاموشی کے ساتھ بغیر کسی پبلسٹی کے کررہی ہے کیونکہ ہم قوم کو ایسا نظام دینا چاہتے ہیں جس میں سب کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں حقدار کو حق ملے اور کسی سے نا انصافی نہ ہو چار سال کے مختصر عرصے میں نظام کی اصلاح اور اداروں کی بحالی کے لئے جو اقدامات اٹھائے وہ سابق حکمرانوں کی سوچ سے بھی زیادہ ہیں در اصل یہی وہ تبدیلی ہے جس کا ہم نے عوام سے وعدہ کیا تھا پرویز خٹک نے اس موقع پر ٹوپی صوابی سے و یمن یونیورسٹی کے نئے کیمپس تک لنک روڈ کو ویمن یونیورسٹی روڈ کا نام دینے اور اسکی بلا تا خیرتوسیع و مرمت کا اعلان کیا اسی طرح انہوں نے تین ارب روپے کی لاگت سے و یمن یونیورسٹی کی نئی عمارات کی تعمیر کے دوسرے مرحلے کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کا اعلان بھی کیا انہوں نے طالبات پر بھی زور دیا کہ وہ خوشحال اور ترقیافتہ معاشرے کیلئے اعلیٰ تعلیم کے تمام شعبوں پر دسترس کے علاوہ اپنی خداداد صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کریں۔