بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / او آئی سی کا مسئلہ کشمیر کا پرامن حل نکالنے پر زور

او آئی سی کا مسئلہ کشمیر کا پرامن حل نکالنے پر زور

نیو یارک۔اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے رابطہ گروپ نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وادی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے قرارداد پر جلد سے جلد عملدرآمد کرائے اس موقع پر وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا کہاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو، مقبوضہ کشمیر میں مکمل طور پر لاقانونیت ہے۔

بھارت کشمیریوں کے خلاف اپنے بربرانہ ظلم اور شرمناک کارروائیوں کو دنیا سے چھپانا چاہتا ہے،10 ہزار سے زائد کشمئیری خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی،بھارتی فوج کے ظالمانہ آپریشن کے بعد سے اب تک 95 ہزار کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا،بھارتی افواج کشمیریوں کو پیلٹ گن سے اندھا کر سکتی ہیں لیکن حق خود ارادیت کی پہچان کے ویژن کو روک نہیں سکتی۔ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائن پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس کی صدارت او آئی سی کے سیکرٹری جنرل یوسف بن احمد العمیش نے کی۔

اجلاس میں ترقی کے نائب وزیر اعظم رجب آلاگ ‘ پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف ‘ آزربائیجان کے وزیر خارجہ ایلمار محمد یاروف ‘ سعودی عرب کے مستقل نمائندے عبداللہ المعلمی اور نائجر کے ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل آرگنائزیشن بویا کاؤ موساریلا نے شرکت کی۔ گروپ کے تمام ممبران نے کشمیری عوام سے اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے اپنی قرار دادوں پر جلد سے جلد عملدرآمد کرائے۔

گروپ میں اپنے بیان میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ 1989ء سے بھارتی فوج کے ظالمانہ آپریشن کے بعد سے اب تک 95 ہزار کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا۔ بھارتی فوج کی جانب سے 10 ہزار سے زائد کشمئیری خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی جن میں زیادہ تر اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ حراست کے دوران بدترین ظلم کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں مکمل طور پر لاقانونیت ہے۔

کسی انسانی حقوق کی تنظیم کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ بھارت کشمیریوں کے خلاف اپنے بربرانہ ظلم اور شرمناک کارروائیوں کو دنیا سے چھپانا چاہتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے فوری طور پر مقبوضہ کشمیر سے بھارتی جارحیت اور ظلم و تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور بھارتی حکومت پر تنازع کے پر امن حل پر زور دیا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج کشمیری لوگوں کو پیلٹ گن سے جسمانی طور پر تو اندھا کر سکتی ہیں لیکن وہ ان کے حق خود ارادیت کی پہچان کے ویژن کو روک نہیں سکتی۔ اس موقع پر ترکی کے نائب وزیر اعظم نے بھی مقبوضہ کشمیر میں بدترین پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور مسئلہ کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں قیام امن ‘ استحکام ‘ معاشی اور سماجی ترقی کیلئے انتہائی ضروری ہے۔

وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تنازع کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل تلاش کرنے کیلئے پر عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی ‘ اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ اس موقع پر آزربائیجان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر بلاتاخیر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ سلامتی کونسل جو عالمی امن اور سلامتی کی علمبردار ہے اسے کشمیری عوام سے اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں اور اس حوالے سے قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔ او آئی سی رابطہ گرو پ سے خطاب میں آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی فوج کی جارحیت کا تفصیلی احاطہ کیا۔

اس موقع پر انہوں نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کو یادداشت بھی پیش کی اور اجلاس کے شرکاء کو مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے حوالے سے تفصیلاً آگاہ کیا۔ او آئی سی کے رابطہ گروپ نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کیلئے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عالمی سطح پر کشمیری عوام کی آواز بن کر رہیں گے۔