بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ایبٹ آباد ناظم و نائب ناظم کے مستقبل کا فیصلہ آج ہو گا

ایبٹ آباد ناظم و نائب ناظم کے مستقبل کا فیصلہ آج ہو گا

اسلام آباد۔سپریم کورٹ خیبر پختونخوامیں مقامی حکومتوں کے قانون کے اطلاق سے متعلق مقدمہ کافیصلہ آج (جمعہ کو)کرے گی عدالت عظمی کے فیصلہ سے ایبٹ آباد کے ضلع ناظم و نائب ناظم کے مستقبل کا فیصلہ بھی ہوگا ۔خیبر پختونخوالوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں اس تیسری ترمیم کے ذریعے انتخابات میں ہار س ٹریڈنگ کو روکنے کیلئے پارٹی چیئرمین کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگرکوئی منتخب نمائندہ پارٹی کے امیدوار کیخلاف ووٹ دے تو پارٹی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پارٹی سربراہ اس امیدوار کوپارٹی سے خارج کرسکتاہے۔

اس ترمیم کی منظوری صوبائی اسمبلی نے17 اگست2015کو دی تھی جس پر گورنر نے21اگست کو دستخط کئے تھے ۔ عدالت اس قانونی نقطہ پرایبٹ آبادکے ضلع ناظم کے انتخابات کے حوالے سے ایک کیس میں آج فیصلہ ہونے کاامکان ہے،۔ مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کررہا ہے ۔ایبٹ آبادمیں 2015کے ضلعی ناظمین کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے دو امیدوار سامنے آگئے تھے ، جن میں تحریک انصاف کے ایک سابق ضلعی رہنما آزاد امیدوار سردار شیر بہادرضلع ناظم اور شوکت تنولی نائب ناظم نے فاروڈبلاک بنا یا اور مسلم لیگ ن کی حمایت سے ضلع ناظم منتخب ہوگئے تھے اور تحریک انصاف کے امیدواروں کو شکست ہوئی تھی ۔

جس پرپارٹی نے انہیں الیکشن کمیشن کے توسط سے فارغ کردیا تھا تاہم ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کافیصلہ معطل کرتے ہوئے انہیں بحال کرنے کا حکم دے دیا تھا، شیر بہادر،شوکت تنولی کے وکیل سرداراسلم ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے وضع کئے گئے قوانین کی روشنی میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں تیسری ترمیم الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد کی گئی اس لئے اس ترمیم کااطلاق آئندہ کے انتخابات پر ہوسکتا ہے اور الیکشن کے روز ایک امیدوار کی جگہ دوسرے امیدوارکو منتخب کرنا جمہوری عمل کے خلاف ہے، جبکہ تحریک انصاف کے وکیل اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اس قانون میں ترمیم ان انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کوروکنے کیلئے کی گئی تھی۔

اس لئے اس ترمیم کا اطلاق فوری طور پر ہونے والے انتخابات پرہی ہونا تھا، عدالت نے جمعرات کو مسلسل ساڑھے تین گھنٹے تک سماعت کی جس میں جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسارکیاکہ خیبر پختونخوامیں یونین کونسلزکا انتخاب غیر جماعتی اور ضلع کونسل کاانتخاب جماعتی بنیادوں پرکس قانون کے تحت کرایا گیا۔اعتزاز احسن نے جواب دیا کہ ضلعی ناظمین کے انتخابات میں پارٹی کی بنیاد پر الیکشن قانون کے مطابق کرائے گئے اور غیرجماعتی بنیادوں پر منتخب نمائندے جب جماعتوں میں شامل ہوئے تو ان پر پارٹی کی جانب سے کچھ قدغنیں تو لگیں گی جن کی پابندی انہیں کرنا ہوتی ہے۔

اس مقدمہ میں فریق جے یو آئی کے وکیل کے دلائل آج سنے جائیں گے جبکہ جے یو آئی کے منحرف ہونے والے رہنماؤں کے وکیل سمیت تمام فریقین کے وکلاء نے دلائل مکمل کرلئے ہیں ، امکان ہے کہ آج عدالت دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنائے گی۔فیصلہ سے بلدیاتی انتخابات میں اپنی پارٹی( تحریک انصاف) کی مخالفت کرکے کامیاب ہونے والے ضلع ناظم ایبٹ آباد کے مستقبل کافیصلہ ہوگا۔