بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خواتین تعلیم خیبر پختونخوا حکومت کے اہداف میں سرفہرست

خواتین تعلیم خیبر پختونخوا حکومت کے اہداف میں سرفہرست

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ خواتین کو معیاری تعلیم کی فراہمی ہماری تعلیمی ایمرجنسی کے اہداف میں سرفہرست ہے ایک خاتون کو معیاری تعلیم کی فراہمی کا مطلب ماں، بہن یا بیٹی کو تعلیم یافتہ بنانا ہے جوپورے کنبے، معاشرے اور بحیثیت مجمو عی آئندہ نسل کی تعلیم و تربیت یقینی بنائے گی ۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے وسائل اور اہداف کا 70فیصد خواتین جبکہ باقی 30فیصد مرد ہیں ہم نے صوبے میں اردو، انگریزی میڈیم اور مدرسہ کے دہرے تہرے طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کرکے پہلی جماعت سے انگریزی اوراسلامی تعلیم کا یکساں نظام رائج کر دیا ہے جو در حقیقت خاموش تعلیمی انقلاب کا نقطہ آغاز ہے اور اگلے چند عشروں میں ہماری نوجوان نسل پر اسکے مثبت اثرات علوم و فنون کے تمام شعبوں پر دسترس کی صورت میں ظاہر ہونا شروع ہونگے افسوس کہ ماضی میں معیار تعلیم پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور آج ہم بنیادی و اعلیٰ تعلیم کے تمام شعبوں میں انحطاط کی شکل میں اسکا خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔

خواتین کی تعلیم بھی نظر انداز کی گئی صوبے میں 13سال قبل صرف ایک خواتین یونیورسٹی قائم کی گئی مگر پی ٹی آئی کی حکومت نے نہ صرف یونیورسٹیوں کا دائرہ اضلاع کی سطح پر پھیلانے بلکہ خواتین، سائنس و ٹیکنالوجی اور فنی تعلیم کے شعبوں میں الگ الگ یونیورسٹیوں کے قیام کی داغ بیل ڈالی ہے تاکہ خواتین سمیت طلبا کو اعلیٰ تعلیم تک تمام سہولیات بآسانی مہیا ہوں وہ شہید بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور کی 13ویں رسم تاسیس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے ۔

تقریب میں صوبائی مشیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق احمد غنی،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹررضیہ سلطانہ ، محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حکام اور مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے علاوہ طالبات اور انکے والدین نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے یونیورسٹی کیمپس میں سوئی گیس سپلائی سکیم اور یو بی ایل کی اے ٹی ایم برانچ کا افتتاح کرنے اور ایم فل و پی ایچ ڈی طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے علاوہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام سمیڈا، نیفا، لیزان کارپوریشن اور نظامت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ چار معاہدوں پر دستخط کی تقاریب میں بھی شرکت کی ۔

انہوں نے یونیورسٹی کی رابطہ سڑک کو کشادہ و پختہ کرنے اور مطلوبہ بسوں کی فوری فراہمی کا اعلان بھی کیاوزیر اعلیٰ نے کہا کہ بد قسمتی سے ہماری حکومت کو کرپشن اور تعلیم و صحت سمیت تمام محکموں کی زبوں حالی ورثے میں ملی تھی۔ ہم نے بد عنوانی اور اقرباء پروری کے دروازے بند کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ایمرجنسی کا اعلان کیا کیونکہ قومی تعمیر و ترقی میں ان دونوں محکموں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

صوبے میں تعلیم کا یہ حال تھا کہ سکولوں میں دوکلاس روم اور دو یا تین استاد پرائمری تک پانچ کلاسوں کے سینکڑوں بچوں کو پڑھاتے تھے مگر ان سکولوں میں فرنیچر نہ ہونے کی وجہ سے بچے ٹاٹ یا ننگے فرش اور ٹھنڈی یخ بستہ یا گرم زمین پر بیٹھنے پر مجبور ہوتے اور ستم یہ کہ اکثر سکولوں میں پنکھے سے لے کر پانی اور ٹائلٹ کی سہولت بھی نایاب ہوتی۔ یہی حال ہمارے ہسپتالوں اور دیہی طبی مراکز اور تھانوں سمیت دیگر سرکاری عمارات کا تھا ہم نے صورت حال کی بہتری کیلئے 200سے زائد قوانین بنانے کے ساتھ ساتھ ٹھوس تعلیمی اقدامات کا آغاز کیا۔ تعمیر سکول پروگرام کے تحت پرائمری سکولوں میں چھ کمروں اور اساتذہ سے لے کر دیگر بنیادی سہولیات کی کمی پوری کرنے کے لئے وسائل کا بندوبست کیا اور اب تک اربوں روپے کی لاگت سے 70تا 80فیصد پرائمری و ہائی سکولوں کی حالت بہتر بنائی گئی ہے اور بچوں کی صحت اور ضروریات کے مطابق بہترین تعلیمی ماحول کیلئے ہماری کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

اسی طرح ہماری حکومت نے یکساں نظام تعلیم کی بنیاد رکھی کیونکہ سکولوں کو اردو اور انگریزی میڈیم میں تقسیم کرکے امیر اور غریب کے بچوں میں فرق واضح کر دیا گیا تھا یہ فرق انکے مستقبل پر بھی پڑتا تھا اور سرکاری اردو میڈیم سکولوں میں پڑھنے والے طلبا اور طالبات آگے جا کر نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے مدارج طے کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے بلکہ مقابلے کے امتحانات میں بھی انگریزی میڈیم کے امیر زادوں سے پیچھے رہتے اور انہیں یا تو کلرکوں کی نوکریاں ڈھونڈنا پڑتیں اور یابے روزگاری کا شکار رہتے جس سے معاشرتی بگاڑ کا جنم لینا بھی فطری بات ہے۔

اسی طرح ہم نے اپنے اسلامی اقدار کے مطابق سکولوں میں پرائمری تک ناظرہ اور میٹرک تک با ترجمہ قرآن پاک کی تعلیم کا لازمی مضمون بھی متعارف کیا جس کی توفیق ماضی میں اسلام کے نام پر بر سراقتدار آنے والی حکومتوں اور جماعتوں کو بھی نہیں ہو سکی تھی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے سرکاری تعلیم کے شعبے میں ابتدائی ، ثانوی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کا معیار بلند کرنے کیلئے بھی قابل عمل منصوبہ بنایا اور ایک ساتھ تینوں شعبوں کی ترقی کے لئے اقدامات کئے۔ اس مجموعی عمل پر اربوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ہم نے بہت سے تعلیمی ادارے بنائے اور موجود اداروں کو اضافی سہولیات بھی فراہم کیں۔

صوبہ بھر میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔خواتین یونیورسٹیوں سمیت صوبے میں کئی نئی یونیورسٹیاں اور کیمپس اضلاع کی سطح پرقائم کئے گئے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ایک با شعور اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لئے خواتین کی تعلیم و تربیت زیادہ اہمیت رکھتی ہے بد قسمتی سے پاکستان میں ترقی کی اس بنیاد پر وہ توجہ نہیں دی گئی جو دینا چاہئے تھی۔ دنیا ایک طرف جا رہی ہے اور ہم دوسری طرف بھاگ رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم 70سالوں میں بین الاقوامی معیار کی ایک یونیورسٹی تک نہیں بنا سکے۔موجودہ صوبائی حکومت نے اس نا کارہ سسٹم کو ٹھیک کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ اس ملک میں نظام کی اصلاح کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی سیاست ہوتی ہے پرویز خٹک نے کہا کہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مضبوط اور با اختیار بنانے کے لئے پر عزم ہے۔ صوبائی حکومت نے سی پیک کے تناظر میں ٹیکنیکل اداروں کی بنیاد ڈالی اور اس سلسلے میں پاک فضائیہ کی معاونت بھی حاصل کی اسی طرح صوبے میں وسیع پیمانے پر چینی سرمایہ کاری کے پیش نظر چینی زبان سیکھنے کا اہتمام کیا ۔

اس مقصد کیلئے 200طلبا کو چین کی تین بڑی یونیورسٹیوں میں زبان سیکھنے کیلئے روانہ دیا گیا چینی زبان سیکھنے کے سلسلے میں طالبات کی بھی پوری حوصلہ افزائی کی جائیگی۔ہم نے ایسا سٹرکچر کھڑا کرنا ہے جو بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے تناظر میں ہماری ضروریات کو پورا کر سکے۔ ہمارا مقصد صوبے کے نوجوان مردوں اور خواتین کو معیاری تعلیم و تحقیق اور فنی تربیت سے آراستہ کرکے قومی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔

ہم ایک ایسی قوم بنانا چاہتے ہیں جس میں آگے بڑھنے کی صلاحیت ہو۔ جو اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا جذبہ رکھتی ہو۔ہم ایسی قوم دیکھنا چاہتے ہیں جو غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہو۔ وزیر اعلیٰ نے مختلف شعبوں میں بہترین نتائج پر یونیورسٹی کی انتظامیہ اور طالبات کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔