بریکنگ نیوز
Home / کالم / کپاس کے پھلوں پراوس کی نمی تھی

کپاس کے پھلوں پراوس کی نمی تھی

ٹوبہ ٹیک سنگھ کے چک دلم میں ساری رات ایک عجیب خواب دیکھتا رہا اور اس کی بنیاد اس فقرے پر تھی کہ سنا ہے کہ روس اغواء ہو گیا ہے خواب بھی کیا دیکھ رہا ہوں کہ چند نقاب پوش شخص ہیں اور وہ ایک ریچھ کو اٹھائے بھاگتے ہوئے جارہے ہیں اور ریچھ دہائی دے رہا ہے کہ میں اغواء ہو گیا ہوں میں اغواء ہو گیا ہوں ۔ اسی طرح ایک اور تصویر نیند میں تیرتی کہ روس کے نقشے کی طرز کا ایک مجسمہ ایک طیارے میں ڈال کر لے جایا جارہا ہے اور ٹیلی ویژن پر خبریں پڑھنے والا اعلان کررہا ہے کہ خواتین و حضرات آج شام پانچ بجے روس کو اغواء کر لیا گیا ہے ۔ گاؤں میں سب سے زیادہ جو چیز مجھے اپنے پاس بلاتی ہے وہ کپاس کی خوشبو ہے اور یہ خوشبو ان چادروں ‘ کھیسوں اور رضائیوں میں مقیم ہوتی ہے جو خاص طورپر مہمانوں کیلئے لکڑی کے صندوقوں میں سے نکالے جاتے ہیں یہ بستر چونکہ گھر کی کاتی ہوئی کپاس سے مقامی کھڈیوں پر بنے ہوتے ہیں اسلئے انکے دھاگوں میں کپاس کی مہک برقرار رہتی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اتنے صاف اور کپاسی خوشبو والے بستر میں ٹانگیں پھیلا کرسونا بہت بڑی خوش قسمتی ہے اور پہلی رات میری خالہ جان نے اپنے صندوق کھول کر ہمارے لئے نویں نکور کھیس اور چادریں نکالیں اور ہم انکی خوشبو میں گم ہو کر سوئے صرف میں روس کے اغواء کے خواب دیکھتا رہا ۔

؂خالو جان مولا ابو الکلام آزاد کی طرح چائے کے رسیا ہیں اور منہ اندھیرے اٹھ کر کیتلی ‘ پیالی اور دیگر برتن میز پر سجا کر اپنے لئے چائے تیار کرتے ہیں ۔ ہماری پہلی صبح کو بھی میرے کانوں میں سب سے پہلے خالو جان کے چلنے پھرنے کی آواز آئی ۔’’ کیا ہو رہا ہے خالو جان ؟ ‘‘ میں نے رضائی میں سے سر نکالے بغیر پوچھااس سے پیشتر کہ میں کچھ کہتا ‘ بچوں کے بستروں میں سے ’’ چلنا چلنا ہے ‘‘ کے نعرے بلند ہونے لگے ۔ ابھی سورج نکل رہا تھا ‘ اندھیرا تیزی سے اٹھ رہا تھا ۔ گاؤں کی گلی میں ہم آہستہ آہستہ چلتے اور اپنے آگے کی ہوا کو سفید بھاپ میں بدلتے چلتے جاتے تھے ۔گاؤں سے باہر کھیت شروع ہوتے تھے اور ان میں ایک پگڈنڈی تھی ‘ پھر کپاس کا ایک کھیت آیا اور اس کے پھولوں پر اوس کی نمی تھی ۔

’’ مستنصر تمہارے پاس کوئی گانے وغیرہ کی کیسٹیں ہیں ۔؟‘‘ خالو نے پوچھا ’’ میرے پاس بہت ہیں خالو ۔ ‘‘ سلجوق کہنے لگا مائیکل جیکسن ‘ میڈونا وغیرہ سب کچھ ہے لو میں نے اپنے بیلوں کو بھگانا ہے وہ تو انگریزی موسیقی سن کر رسے تڑا کر بھاگ جائیں خالو ہنستے ہوئے کہہ رہے تھے مجھے دیسی گانے درکار ہیں ویسے موسیقی آپ خود سنیں گے یا بیلوں کو سنائیں گے میں نے پوچھا بیلوں کو سناؤں گا ولائتی جوڑی کو‘‘ وہ سنجیدگی سے بولے کمال ہے آپ کے بیل کافی پیتے ہیں اور اب یہ ہے کہ موسیقی کے بھی شوقین ہیں نہیں وہ فی الحال تو شوقین نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ اگر ان کو موسیقی سنائی جائے تو وہ زیادہ تیز ہل چلائیں گے ہمارے گاؤں میں ایک شخص نے تجربہ کیا ہے وہ کہتا ہے کہ میں اپنے بیلوں کو جب عطاء اللہ عیسی خیلوی کی کیسٹ سناتا ہوں تو وہ زیادہ تیز کام کرتے ہیں کیا واقعی خالو؟ سمیر رک گیا ۔ بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں خالو نے اسے پیار دیتے ہوئے کہا میں بھی ٹرائی کرنا چاہتا ہوں‘ خالو جان کے ڈیرے پر ایک بہت بڑی اورگھنی بیری تھی اور دو کچی کوٹھڑیاں تھیں اور چار بیل تھے جو سر جھکائے چارے میں منہ مار رہے تھے سمیر کی خواہش تھی کہ وہ بیلوں کو پیار دے لیکن بیل فی الحال زیادہ فرینڈلی موڈ میں نہیں تھے اور سمیر کا ہاتھ دیکھ کر پرے پرے ہوتے تھے وہ کچھ خوفزدہ نظر آتے تھے ۔یہ مجھ سے ڈرتے کیوں ہیں خالو ؟ سمیر نے پوچھا تمہیں بتایا ہے ناں کہ ان کو منہ کھر کی بیماری ہوگئی ہے تو روزانہ ڈنگر ڈاکٹر آکر انہیں ٹیکے لگاتا ہے تمہاری جین کی وجہ سے وہ تمہیں ڈنگر ڈاکٹر سمجھ رہے ہیں اس لئے بدک رہے ہیں اور قریب نہیں آتے ۔ کماد کے کھیت کے ساتھ چارے کا سرسبز کھیت تھا اس کے پہلو میں گندم کے پودے گھاس کی طرح اگے ہوئے تھے اور ان سے پرے کینوؤں کا ایک باغ تھا صبح کی دھند میں ٹھگنے درختوں سے لٹکے ہوئے کنوں زرد بلب لگ رہے تھے یا پھر چینی کے بنے ہوئے پیلے گیند ۔

’’ خالو جان یہ کینوؤں کا جو باغ ہے تو ۔۔‘‘ سلجوق کا فقرہ ابھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ خالو جان گرج کربولے ’’ خبردار کسی نے ان کینوؤں کو ہاتھ لگایا تو دوسروں کے باغ سے کنوں توڑنا بہت بری بات ہے تم یہاں بیٹھ کر گنے چوسو‘ انہوں نے ایک ایک گنا سب کو تھما دیا بچوں نے گنے کو سبزی کے انداز میں پکڑا اور پھر مسکرا کر کہنے لگے اسکو کس طرف سے شروع کر یں ؟اوئے ہوئے خالو کہنے لگے زمینداروں کے خاندان سے ہو کر گنے کا الٹا سیدھا بھی نہیں پتا اور گانے سنتے ہو میڈونا کے ۔۔ میں نے جب گنے کے ٹھنڈے جثے پردانت رکھے تو معلوم ہوا کہ میرے دانت اب صرف کیک وغیرہ کاٹ سکتے ہیں گنے نہیں چھیل سکتے چنانچہ میں بوڑھوں کی طرح ہولے ہولے گنے کو پپولتا رہا ۔ بچوں نے بھی بڑی مشکل سے گنے کا کچھ حصہ چوسا اور پھر لالچی نظروں سے کینوؤں کے باغ کی طرف دیکھنے لگے خالو جان اب اپنے کماد کے کھیت میں کھڑے چھیلے ہوئے گنوں کو بیل گاڑی میں لدوا رہے تھے اور وہ کافی دور تھے ہم اوس سے بھیگتے ہوئے کھیتوں میں سے چلتے ہوئے باغ کے قریب پہنچ گئے یہاں سے خالو جان اور زیادہ دور ہوگئے ۔

بچو‘ میں نے کہا کیا خیال ہے کہ خالو جان وہاں سے ہمیں دیکھ سکتے ہیں ؟ دیکھ تو سکتے ہیں ایک بچے نے جواب دیا لیکن اتنا زیادہ بھی نہیں دیکھ سکتے اور اگر ہم میں سے کوئی ایک چپکے سے جائے اور دو تین کینو توڑ لائے تو کیا ان کو وہاں سے پتہ چل جائے گا ؟ مشکل ہے جواب آیا توپھرتم ذرا دھیان رکھو میں نے کہا اور باغ میں اتر گیا اور اس ٹھنڈک اور دھند والی صبح کو جب میں نے ا یک کینو پر ہاتھ رکھا تو اس کی ٹھنڈی یخ گولائی میں جو تازگی اور لطف تھا وہ یہاں بیان نہیں ہو سکتا میں نے جلدی سے تین چارکینو توڑے اور اپنی چادر میں چھپا کر واپس بچوں کے پاس پہنچ گیا قریب ہی ایک کھال تھا جس میں بہتے ہوئے پانی کے اوپر صبح کی سردی میں بھاپ اٹھ رہی تھی ۔ ہمارے جوتے کیچڑ سے بھر چکے تھے اور ناک بالکل یخ ہو چکے تھے ۔ ہم اس کھال کے کنارے بیٹھ گئے اور یہاں ہماری پشت پر مکئی کے خالی ٹانڈوں کا ایک کھیت تھا اور اس کے پیچھے کہیں خالو جان بیل گاڑی پر کماد لدوا رہے تھے ۔

یہ بہت خفیہ جگہ ہے ابو سمیر کہنے لگا یہاں بیٹھ کر کھاتے ہیں ہم کینو کو چھیلتے اور چھلکے کھال میں ڈال دیتے اور وہ ہماری نظروں کے سامنے بہتے ہوئے صبح کی دھند میں غائب ہو جاتے انہیں منہ میں رکھا تو عجیب آسمانی تازگی اور کھٹاس اور ٹھنڈک تھی کینو کھانے کے بعد ہم نے کھال میں سے ہاتھ دھوئے اور مکئی کے ٹانڈوں میں سے چلنے لگے ۔ خالو جان کے قریب آئے تو وہ اپنے کام سے فارغ ہو چکے تھے تم ادھر باغ کی طرف تو نہیں گئے تھے ؟ انہوں نے پوچھا سب نے انکار میں سر ہلایا اور منہ میں کینوؤں کا ذائقہ محسوس کیا ۔ تم اب واپس گھر چلو میں اس بیل گاڑی کو کانٹے پر تلوا کر واپس آتا ہوں ہم گھر کی طرف چلنے لگے تو میں نے رک کر خالو سے پوچھا وہ روس کا کیا ہوا ؟ ابھی تک اغواء ہے خالو نے سر ہلاتے ہوئے کہا پتہ نہیں کہاں لے گئے ہیں ۔