بریکنگ نیوز
Home / کالم / اب تو جاگ جاؤ

اب تو جاگ جاؤ


امریکی صدر کے پاس حسینہ واجد اور بھارتی وزیر خارجہ کیساتھ ملنے کا تو وقت تھا پر ہمارے وزیراعظم کیلئے نہیں‘ انہیں اس بات پر ٹرخا دیاگیا کہ بھئی تم امریکی نائب صدر سے مل لو۔ رضا ربانی کا مشورہ بالکل قومی غیرت کی عکاسی کرتا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کو امریکی نائب صدر سے ملاقات کرنے سے معذرت کرلینی چاہئے تھی پر اس قسم کی غیرت ہم کہاں سے لائیں جو کیوبا جیسے چھوٹے سے ملک کے سربراہ کاسٹرو میں تو تھی جو جمال عبدالناصر میں تھی جو سوئیکارنو میں تھی‘ جو چواین لائی اور ماؤزے تنگ میں تھی جو شمالی ویت نام کے حکمران ھون چوں من میں تھی‘ جو ایرانی قیادت میں امام خمینی کے جانے کے بعد اب بھی نظر آتی ہے اور جسکا مظاہرہ شمالی کوریا کے نوجوان حکمرن کم جونگ ین کررہے ہیں‘ ہمارے حکمران تو 1947ء سے تواتر کیساتھ وائٹ ہاؤس کا طواف کرتے آئے ہیں اور امریکی صدر کیساتھ اپنی ملاقات کو ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ جیسا انہوں نے بڑا تیر مارلیا ہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو رٹی ہوئی تقریر گزشتہ منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کی وہ ظاہر ہے انہیں کسی یہودی تھنک ٹینک نے لکھ دی ہوگی کیونکہ انہوں نے اپنی تقریر میں ہر جگہ امریکہ کے مفادات کی بات کی تو اسرائیل کا بھی ذکر کیا، انکی تقریر پر جنرل اسمبلی میں موجود اسرائیلی حکومت کے وفد نے سب سے زیادہ تالیاں بجائیں‘ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہر امریکی صدر کا مسلمانوں کیساتھ رویہ متعصبانہ رہا ہے۔

‘ اگر وہ مسلمانوں کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتے کہ جتنی انہوں نے ہر دور میں یہودیوں کو دی تو آج دنیا میں شاید امریکہ کے خلاف اتنی نفرت نہ پائی جاتی کہ جتنی موجود ہے‘ امریکہ کے صدر نے اپنی تقریر میں شمالی کوریا اور ایران کو ایک مرتبہ پھر تڑی دی بلکہ شمالی کوریا کے بارے میں تو یہ بھی کہا کہ امریکہ اسکو تباہ کرسکتا ہے بھئی یہ کہاں کاا نصاف ہے کہ تم خود تو ہر قسم کے مہلک ایٹمی ہتھیار بناتے رہو اور جب کوئی چھوٹا ملک انہیں ایجاد کرنے کی کوشش کرے تو تمہارے پیٹ میں مروڑ اٹھیں‘ کیا یہ پاکستان کے ایٹم بموں کا کمال نہیں کہ آج ہم سے عسکری قوت میں چھ گنابڑا ملک پاکستان پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرسکتا، دلی کے ایئرپورٹ پر ایک مرتبہ جنرل ضیاء الحق نے مذاق مذاق میں بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی سے کہا تھا سنا ہے تم پاکستان پر ایٹمی حملہ کرنے کی سوچ رہے ہو‘ پر یاد رکھو ہمارے پاس بھی ایٹم بم ہیں‘ اگر پاکستان اور بھارت میں ایٹمی جنگ چھڑ گئی تو جہاں تم ہمیں تباہ کرو گے ہم بھی بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور یہ نہ بھولو کہ ہم اگر مکمل طورپر مٹ بھی گئے تو پھر بھی دنیا میں پچاس مسلمان ملک موجود رہیں گے۔

پر بھارت کے مٹ جانے کے بعد دنیا میں کوئی ہندو ملک باقی نہ بچے گا‘ امریکی صدر نے اپنی تقریر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے بارے میں امریکہ کے عزم کا اظہار بھی کیا پر کیا یہ اگر کسی اور کانہیں تو ہمارے وزیراعظم کا فرض نہ بنتا تھا کہ وہ اپنی تقریر میں امریکی صدر کو برملا کہتے کہ حضور آپ کیوں مذاق کرتے ہیں‘ دنیا میں کیا امریکہ کئی ممالک میں فوجی ڈکٹیٹروں کو سپورٹ کرتانہیں آیا ہے‘محض اسلئے کہ وہ امریکہ کی ڈگڈگی پر ناچنے کو تیار ہوتے تھے‘ شنید ہے کہ حکمران پارٹی نے امریکہ کی ایک معروف لابینگ فرم کو کروڑوں روپے کے عوض ہائر کیا ہے کہ وہ امریکی کانگریس اور سینٹ کے اراکین میں اس کی ساکھ بحال کرے اگر یہ خبر درست ہے تو یہ قابل افسوس ہے کہ اب بھی اگر ہمارے رہنماؤں کی آنکھیں نہیں کھلیں گی تو پھر اس ملک کا خدا ہی حافظ!