بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / عوام کا فیصلہ

عوام کا فیصلہ

این اے 120کے فیصلے پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا،علم کی دولت سے یکسر یا جزوی طور پر محروم لوگوں نے بھی آپس کے تبادلہ خیال اور باہمی گپ شپ کے دوران اس انتخابی نتیجے کو موضوع سخن بنایاجبکہ اہل علم و دانش نے بھی اپنی اپنی طاقت شعور کو کام میں لاتے ہوئے اس معرکے کے نتائج پر تجزیئے اور تبصرے کئے ‘اس ضمنی انتخاب کو مدمقابل جماعتوں نے دیانت و بددیانتی کی لڑائی‘ انصاف اور نا انصافی کی جنگ اور سچ و جھوٹ کے معرکے کی حیثیت دے رکھی تھی‘ اب جبکہ حلقے کے عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے تو جمہوری اصولوں کے تحت تو شکست سے دوچار ہونیوالے تمام فریقوں کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ فتح بددیانتی کے مقابلے میں دیانت کی ہوئی ہے ‘ جیت ناانصافی کے مقابلے میں انصاف کے حصے میں آئی ہے اور سرخروئی جھوٹ کے مقابلے میں سچ کو نصیب ہوئی ہے‘ہارنے والے بعض فریق بادل نخواستہ یہ مان بھی رہے ہیں لیکن بعض ایسے بھی ہیں جو اس بات کو اب دھاندلی وغیرہ جیسے الزامات کے بوجھ تلے دبانے کی کوشش میں ہیں تاکہ اس قسم کے آ ئندہ معرکوں خصوصاََ آنے والے عام انتخابات کے دوران انھیں یہ کہنے کا موقع مل سکے کہ این اے 120کے انتخابی معرکے کا فاتح ان ہی کو ہونا تھا لیکن دھاندلی کے زور پر بددیانتی کو دیانت پر نا انصافی کو انصاف پر اورجھوٹ کو سچ پر غلبہ دلا یا گیا۔

سوال یہ ہے کہ کیا این اے 120کے انتخابی معرکے میں ناکام رہنے والی سیاسی قوتوں کیلئے اس الیکشن کے بعد سامنے آنے والی حقیقتوں کودھاندلی اور اس جیسے دیگر الزامات کی آڑ میں چھپانا ممکن ہو گا اور کیا یہ جماعتیں اپنے اس استدلال او ر اس کے ساتھ ساتھ اس نکتہ نظر جس کی بنیاد پر وہ این اے 120کے ضمنی انتخابی عمل میں شریک ہوئیں کی بنیاد پرآنے والے انتخابی معرکوں میں عوام کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گی؟ اس سوال کے جواب تک پہنچنے کی کوشش میں پہلا غور طلب معاملہ یہ عمومی رائے ہے کہ ’’پاکستان میں جہاں ہر الیکشن کے بعد ہارنے والے کی جانب سے دھاندلی کے الزامات عائد کیا جانا ایک فیشن بن چکا ہے اب انتخابی دھاندلی کے الزامات کو سنجیدہ نہیں لیا جا تاجبکہ انتخابی عمل کو قریب سے مانیٹر کرنیوالے بھی بخوبی جانتے ہیں کہ یہاں ہرتگڑا امیدوار انتخابات میں اپنی جیت یقینی بنانے کیلئے ہر جائز ، ناجائز حربہ استعمال کرتا ہے لہٰذا نتیجہ سامنے آنے کے بعدہارنے والے کا دھاندلی دھاندلی کا شور بھلے میڈیا کے لئے خبری اہمیت (نیوز ویلیو) رکھتا ہو یہ عوام کے فکر وخیال کو کچھ زیادہ متاثر نہیں کرتا‘‘اس عمومی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ این اے 120کی فاتح جماعت پر دھاندلی کے الزامات عائد کردینا اور اس طرح مذکورہ ضمنی انتخاب کے بعد سامنے آنے والے حقائق سے آنکھیں چرا لینا ہارنے والی سیاسی جماعتوں کیلئے سود مند نہیں ہوگا۔

دوسرا معاملہ ’’اس موقف کا جائزہ لینے سے تعلق رکھتا ہے جس موقف کو لیکرسیاسی جماعتیں این اے 120کے معرکے میں اتریں‘اس الیکشن میں فاتح رہنے والی سیاسی جماعت نے جن دعوؤں کیساتھ خود کوحلقے کے عوام کے سامنے پیش کیااس کی تفصیلا ت سے بھی سب آگاہ ہیں اور الیکشن ہار جانیوالی سیاسی قوتوں نے جس نکتہ نظر کیساتھ انتخابی مہم چلائی وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،‘‘ اب جمہوری اصول تو یہ کہتے ہیں کہ این اے 120کے ضمنی الیکشن کا نتیجہ سامنے آنے کے بعد جیت اس اظہار خیال کی ہوئی ہے جو فاتح جماعت نے حلقے کی عوام کے سامنے رکھا جبکہ ان نظریات کو شکست کا سامنا ہوا ہے جو ہارنے والی سیاسی جماعتوں کی جانب سے رائے دہندگان تک پہنچائے گئے،یوں اس معاملے کا جائزہ یہی بتا رہا ہے کہ اس ضمنی انتخاب میں کامیاب نہ ہو سکنے والی سیاسی جماعتوں کے نکتہ نظر کووہ عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی جو آنے والے عام انتخابات میں ان جماعتوں کو فیصلہ کن عوامی حمایت سے ہمکنار کر سکے، لہٰذااین اے 120کا ضمنی انتخاب ہارنے والی جماعتوں کی قیادت کیلئے ضروری ہو گیا ہے کہ اگر وہ آنیوالے عام انتخابات میں بھر پور کامیابیوں کی متمنی ہے تواپنے اظہار خیال‘اپنے طرز عمل اور اپنی ترجیحات کااز سرنوجائزہ لے اوردرکار اصلاحات کے تعین اور ان پر عمل درآمد میں قطعاََ تاخیر نہ کرے ،اگر اس موقع پر بھی یہ سمجھنے کی کوشش نہ کی گئی کہ خلق خدا کا غائبانہ پیغام کیا ہے اور اس پیغام کے تقاضوں کے مطابق غلطیوں و کو تاہیوں کو سدھارا نہ گیا تو یہ نقصان کا باعث بنے گا۔