بریکنگ نیوز
Home / کالم / امن کا عالمی دن

امن کا عالمی دن

 

دنیا کو امن کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے اور صرف پاکستان ہی ایسا ملک نہیں جہاں پائیدار اور دائمی امن کیلئے کوششیں جاری ہیں بلکہ ہر جگہ سے آنیوالی خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ امن ایک ایسی چیز ہے جس کے بغیر ترقی اور ارتقاء ممکن نہیں ۔ مثال ملاحظہ کیجئے ایک ایسی پیشہ ور تیراک کی جس کا شامی خانہ جنگی میں گھر تباہ ہوگیا تھا وہ شام میں دہشت گرد حملوں سے بچ کر لبنان پہنچی وہاں سے ترکی اور پھر ترکی سے اسے یونان سمگل کردیا گیا ترکی سے یونان سمگلنگ بذریعہ سمندر ہوتی ہے لہٰذا اس نے بھی سمندر کے راستے یونان جانے کا فیصلہ کرلیا کشتی میں کل چھ مسافروں کی گنجائش تھی لیکن اٹھارہ مہاجرین کو کشتی میں بٹھا لیا گیاکشتی کی موٹر نے بیچ سمندر ساتھ چھوڑ دیاکشتی ڈوبنے لگی تو اسنے سمندر میں چھلانگ لگائی اور تیراکی کرتے ہوئے کشتی کو منزل کی طرف دھکیلنے لگی اس کیساتھ تین مزید مہاجرین نے سمندر میں چھلانگ لگائی اور یہ سب مل کر کشتی کو منزل کی طرف لے جانے لگے۔ تین گھنٹے لگاتار تیراکی کے بعد کشتی لیسبوس پہنچ گئی۔ یہاں سے وہ جرمنی پہنچی اور ستمبر دوہزار پندہ میں اس نے برلن میں نئی زندگی کا آغاز کیا اس نے برلن میں نئے کوچ کے ساتھ سوئمنگ ٹریننگ شروع کردی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ معروف تیراک بن گئی محنت رنگ لائی اور دوہزارسولہ کے ریو اولمپکس میں اس نے ایک سو میٹر فری سٹائل اور ایک سو میٹر بٹر فلائی کے لئے کوالیفائی کیا بلکہ ایک سو میٹر بٹر فلائی ہیٹ سمر اولمپکس جیت بھی لیا ۔

یہ شام سے ہجرت کرکے آئے نوجوانوں کیلئے ایک امید کی کرن بن گئی اس وقت اقوام متحدہ پوری دنیا کے مہاجرین کو نئی زندگی گزارنے‘ ہمت نہ ہارنے اور کامیاب زندگی کے لئے نئے راستے تلاش کرنے کا پروگرام تشکیل دے رہی تھی‘ چناچہ اقوام متحدہ نے اسے پوری دنیا کے مہاجرین کیلئے رول ماڈل بنانے کا فیصلہ کیا اور ستائیس اپریل دوہزارسترہ کو اسے یواین کیلئے خیرسگالی کا سفیر مقرر کردیا گیایہ ایک شامی مہاجر ’’یسری مردینی‘‘ کی ہجرت اور کامیابی کی مختصر سی کہانی ہے۔ یسری کو پوری دنیا خصوصاً شام کے مہاجرین کیلئے رول ماڈل بنانے میں اقوام متحدہ کے اقدامات قابل ستائش ہیں ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ اقوام متحدہ دنیا بھر کے مہاجرین کیساتھ اظہار یکجہتی اور ان کی حقوق کی آواز اٹھانے کے لئے نیک نیتی سے کام کر رہی ہے۔اکیس ستمبرکو پوری دنیا میں امن کا عالمی دن منایا جاتا ہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس دن کو تمام قوموں اور لوگوں کے مابین آئڈیلز آف پیس کی مضبوطی کے لئے منتخب کیا ہے۔ رواں برس کا بنیادی خیال لوگوں کو اکٹھا رہنے کے جذبے کو تقویت دیتی ہے اور پوری دنیا کے ان تمام مہاجرین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو کسی مجبوری کے تحت اچھی زندگی کی تلاش میں اپنا آبائی وطن کو چھوڑ کر کہیں اور آباد ہوجاتے ہیں اقوام متحدہ دنیا میں امن کے قیام اور مہاجرین کو بہتر زندگی دینے کیلئے اپنا کردار ادا کررہی ہے لیکن اس مشن کو کامیاب بنانے کیلئے ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے‘آج امن کے عالمی دن کے موقع پر ہمیں اس حقیقت کو ماننا ہوگا کہ آج کی تاریخ میں دنیا کیلئے سب سے بڑے مسئلے امن کے قیام اور مہاجرین کے حقوق کی حفاظت کیلئے عملی اقدامات کرنا ہیں اور کرہ ارض کے تمام انسانوں کا فرض ہے کہ وہ اِن مسائل کے حل کے لئے اپنا حصہ ضرور ڈالیں۔ مہاجرین کو خوراک کی فراہمی‘ نوکری‘ کاروبار کی سہولت‘ ریاستی شہریوں کے برابر سہولتوں‘ جائیداد کی خرید و فروخت اور مہاجرین کے فرائض اور ذمہ داریوں پر بھی مکمل اور موثر قانون سازی ہونی چاہئے اور وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ان قوانین میں وقت اور ضرورت کے تحت تبدیلیاں بھی لائی جانی چاہئیں۔ مہاجرین کو پناہ دینے کے حوالے سے پاکستان کا کردار ہمیشہ سے ہی اہم رہا ہے۔

یواین ایچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کی تعداد پاکستان میں ہے اس وقت پاکستان میں رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد پندرہ لاکھ ستاسی ہزار تین سو چوہتر ہے‘ جن میں اکثریت افغان مہاجرین کی ہے۔ افغان مہاجرین کے علاوہ پاکستان میں روہنگیا اور صومالیہ مہاجرین بھی آباد ہیںیہاں میں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ تعداد صرف رجسٹرڈ مہاجرین کی ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر غیر رجسٹرد مہاجرین کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد لگ بھگ پچیس لاکھ سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔ لمحہ فکریہ ہے کہ ہم آج تک ان مہاجرین میں سے ایک بھی ہیرو تلاش نہیں کرسکے ہمیں اِن میں سے ایک بھی شخص پروفیشنل نہیں لگا ہم ان مہاجرین کو زندگی گزارنے کا سلیقہ نہیں سکھا سکے ہم نے ان مہاجرین کو اپنا اثاثہ سمجھنے کے بجائے بوجھ سمجھا ہے ہم نے انہیں خود مختار بنانے کے بجائے ان کے نام پر دنیا سے امداد لی ہے ‘ہم نے انہیں کاروبار کے لئے رقم دینے کے بجائے بھکاری بنا دیا ہے۔ ہم نے انہیں نوکریاں دینے کے بجائے زکوٰۃ اور فطرانے وصول کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ حکومت پاکستان سمیت مہاجرین کو پناہ دینے والی دیگر حکومتوں سے گزارش ہے کہ آپ اِن مہاجرین میں پروفیشنل لوگوں کو تلاش کرنے کی کوشش کریں اور ملک کے متعلقہ شعبوں کی بہتری کے لئے اِن کی خدمات سے استفادہ کیا جائے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر ارم تنویر۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)