بریکنگ نیوز
Home / کالم / سوچ کو پاکستانی کریں

سوچ کو پاکستانی کریں

وزیر خارجہ خواجہ آصف کے بیان کے بعد سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کا رد عمل آیا۔خواجہ صاحب نے جو کچھ کہا وہ ان کی اپنی سوچ ہے مگر اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کی بات گھر میں کرنی چاہئے ۔یہ ٹھیک ہے کہ ہمارے ہاں دہشت گردی کا ’ پونگ ‘باقی ہے۔ گو ہم نے سانپ کا سر تو کچل دیا ہے مگر اس کی دم ابھی تک ہل رہی ہے۔اس دم کو بھی ٹھہرانے کی کوششیں جاری ہیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ ہم ایسے دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں کہ جو ہماری سوئی کا پھال بنانے میں دیر نہیں لگاتے‘ اسلئے ہم چوہدری صاحب کی بات سے سو فی صد متفق ہیں کہ ہم نے جو قربانیاں دی ہیں ہمارے وزیر خارجہ کا کام ہے کہ وہ ان کو اجاگر کریں نہ یہ کہ جو تھوڑی بہت کمزوری رہ گئی ہے اسے ہائی لائٹ کریں‘ ہمارے وزیر اعظم صاحب نے اور ہمارے وزیر داخلہ صاحب نے بھی خواجہ صاحب کی ہاں میں ہاں ملائی ہے۔اس کامطلب تو یہی ہے نا کہ ہمارا گھر ابھی تک ٹھیک نہیں ہے اس لئے کوئی بھی ہمارے ہاں انوسٹمنٹ نہ کرے۔ موجودہ وزیر داخلہ نے بجا فرمایا کہ اگر ہمارا گھر ان آرڈر نہیں ہے تو کون ہمارے ہاں انوسٹمنٹ کرے گا۔ بات سو فی صد ٹھیک ہے مگر کیا آج ہم یہ بات کرتے ہیں کہ ابھی ہمیں اپنے گھر کوٹھیک کرنا ہے تو کون ہوگا کہ جو ہمار ے ہاں آ کر اپنا پیسہ ضائع کرے گاتو یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا کو بتائے کہ ہم نے دہشت گردی پر ننانوے فی صد قابو پا لیا ہے اس لئے ہمارا ملک سرمایہ کاری کے لئے محفوظ ہے۔ یہ تو وزیرخارجہ کا کام ہے کہ وہ ساری دنیا کو بتائے کہ ہم نے اپنا ہاؤس ان آرڈر کر لیا ہے۔ہم بیرونی سرمایہ کاروں کو تحفظ دینے کے قابل ہو گئے ہیں اور ہمارے ہاں جو اکا دکا واقعات دہشت گردی کے ہورہے ہیں۔

وہ ہندوستان اور افغانستان کی وجہ سے ہیں اور دنیا کو ان ملکوں کی مذمت کرنی چاہئے ۔ نہ یہ کہ ہم اپنے ہاں کی جانے والی دہشت گردی کو اپنے ہی سر منڈھ لیں۔اب وزیر خارجہ امریکہ میں ہیں توان کو ہندوستان اور افغانستان کی پاکستان میں در اندازی کو کھل کر دنیا کو دکھانا چاہئے اور اگر وہ یہی کہیں گے کہ ہمارا گھر ان آرڈر نہیں ہے تو کون ہو گا کہ جو ہمارے ہاں کی دہشت گردی کو اُن ممالک کی کارستانی کہے گا جو یہ کچھ کر رہے ہیں ‘رہی ہمارے ہاں کی کالعدم پارٹیوں کی بات تو کیا ہمیں معلوم نہیں کہ ان کا ہمارے ملک میں کیا رول ہے۔ اگر ان کو اقوام متحدہ میں دہشت گرد پارٹیاں کہا گیا ہے تو اس میں ان پارٹیوں کا نہیں بلکہ ہماری وزارت خارجہ کی کمزوری ہے کہ اس نے ہندوستان کے پروپیگنڈے کا توڑ نہیں کیا۔کیا ہم نہیں جانتے کہ ہمارے ہاں کی آفات میں چاہے وہ2005 کا زلزلہ ہو یا کوئی سیلاب ہو اس میں ان تنظیموں کاکیا رول رہا ہے ۔

یہ بھی کہ کیا ان تنظیموں نے پاکستان میں کسی بھی دہشت گردی کی کاروائی میں کوئی حصہ لیا ہے۔ہاںیہ ہو سکتا ہے کہ2005 کے زلزلے میں جو کام ان تنظیموں نے دکھایا وہ امریکہ کو اچھا نہ لگا ہو تو وہ دوسری بات ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس آفت کے بعد مغربی قوتیں ‘جنہوں نے اس آفت میں ہمارا ساتھ دیا تھا‘ وہ پھر اس تنظیموں کی مخالف ہو گئی تھیں اسی طرح پنجاب اور سندھ میں سیلاب کی صورت میں جو تنظیم پیش پیش رہی ہے وہ حافظ سعید ہی کی تنظیم ہے یا اس کے ساتھ جماعت اسلامی کے لوگ ہیں جو لوگ ہمارے ہاں ہمارے ملک کے فلاحی کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں انکو اقوام متحدہ کی طرف سے دہشتگر د قرار دینا ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے اورہندوستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی۔ہمارے ہاں ضرب عضب کے بعد اگر کوئی دہشت گردی ہوئی ہے تو وہ افغانستان کی طرف سے یا ہندوستان کی طرف سے ہوئی ہے ہندوستان کا بلوچستان میں کاروائیاں کرنا تو ہم نے ثابت بھی کر لیا ہے اور ان کابہت بڑا نیٹ ورک چلانے والے کلبھوشن کو گرفتار بھی کیا ہے جس نے اعتراف بھی کیا ہے مگر خدا جانے کون سی طاقت ہے کہ جو ہمیں ہندوستان کیخلاف بات کرنے سے روک رہی ہے ہم حافظ سعید کو توپابند سلاسل کر سکتے ہیں مگر کلبھوشن کی سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کر سکتے اور پھر ہم دنیا کو بتا رہے ہیں کہ ہمارا گھر ان آرڈر نہیں ہے۔