بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / پاکستان افغان جنگ میں قربانی کا بکرا نہیں بنے گا ٗوزیراعظم

پاکستان افغان جنگ میں قربانی کا بکرا نہیں بنے گا ٗوزیراعظم

نیو یارک۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے عالمی سربراہان مملکت پر واضح کر تے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان سمیت کسی بھی ملک کے لیے قربانی کا بکرا نہیں بنے گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی بے شمار قربانیوں کے بعد بھی افغانستان میں سیاسی اور فوجی تعطل کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جانا پریشان کن ہے،پاکستان افغانستان کی جنگ اپنی سرزمین پر لڑنے کے لیے تیار نہیں نہ ہی ہم کسی ایسی ناکام حکمت عملی کی تائید کرتے ہیں،پاکستان سے زیادہ افغانستان میں امن کا خواہاں کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے، نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خؒ اف امریکی جنگ میں اب تک 27ہزار پاکستانی دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔

،بین الاقوامی طاقتیں افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر مت ڈالیں، پاکستان کو مشرقی ہمسائے کی جانب سے شدید خطرات لاحق رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی سخت مذمت کرتے ہیں، اگر بھارت ایل او سی کے پار مہم جوئی یا پاکستان کے خلاف محدود جنگ کے نظریے پر عمل کرتا ہے تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا،روہنگیا افراد کے خلاف نسلی فسادات انسانی اقدار کے منافی اور ہمارے اجتماعی ضمیر کے لیے بھی بہت بڑا چیلنج ہے ،فلسطینی علاقوں پراسرائیل کے طویل قبضے اور غیرقانونی یہودی بستیوں کی توسیع سے خطے میں بڑے پیمانے پرجنگ چھڑ سکتی ہے، بھارت کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کو طاقت کے ذریعے کچل رہا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی پر پاکستانی موقف کی دو ٹوک وضاحت کی اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کیبشمار قربانیوں کے بعد افغانستان میں سیاسی اور فوجی تعطل کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جانا پریشان کن ہے۔ انہوں نے کہا ہم کسی کے لیے بھی قربانی کا بکرا بننے کے لیے تیار نہیں۔ وزیر اعظم نے کہا پاکستان افغانستان کی جنگ اپنی سرزمین پر لڑنے کے لیے تیار نہیں نہ ہی ہم کسی ایسی ناکام حکمت عملی کی تائید کرتے ہیں جو افغانستان اور پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو درپیش مسائل میں اضافے کا سبب بنے۔ انہوں نے کہا دنیا سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے اور پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 27 ہزار جانیں دیں۔

120 ارب ڈالر لگائے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں پر کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا طالبان کے محفوظ ٹھکانے پاکستان میں نہیں افغانستان میں موجود ہیں جہاں سے اکثر سرحد پار حملے ہوتے ہیں، جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی سرحد پار سے پاکستان میں حملے کرتی ہیں جب کہ پاکستان نے سرحدی علاقوں سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کئے۔ 16 سال سے جاری افغان جنگ کا حل صرف مذاکرات میں ہے، بین الاقوامی طاقتیں افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر مت ڈالیں۔ پاکستان سے زیادہ افغانستان میں امن کا خواہاں کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے ۔اپنے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے آغاز سے لے کر آج تک 27 ہزار پاکستانی دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔انہوں نے داعش، القاعدہ سمیت دیگر انتہاپسند گروہوں کے ترجیحی خاتمے اور طالبان کے ساتھ سیاسی حل تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ شاہد خاقان عباسی نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی سخت مذمت کی اور بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں وسیع پیمانے پر بلاامتیاز کارروائی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے وزیر اعظم نے ان مظالم کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھارتی ظلم و جبر کا سامنا ہے اور کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 7 لاکھ فوجیوں کو تعینات کر رکھا ہے جو کشمریوں کی جدو جہد آزادی کو طاقت کے ذریعے کچل رہی ہے لیکن پاکستان کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ کشمیری بھارت سے آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں، بھارت کشمیر میں جنگی جرائم سے جنیوا کنویشن کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے لہذا اقوام متحدہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی شفاف تحقیقات کرائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اب ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے اور اسے اسی سطح پر ہی حل ہونا چاہیئے لیکن دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ بھی نہایت ضروری ہے۔ بھارت کشمیریوں پر پیلٹ گن کا استعمال بند کرے اور عالمی برادری بھارت کو کشمیریوں پر پیلٹ گنز کے استعمال سے روکے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی تمام ممالک کے ساتھ دوستی پر مبنی ہو گی لیکن پاکستان کو مشرقی ہمسائے کی جانب سے شدید خطرات لاحق رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بانڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں اور رواں برس بھارت کی جانب سے 600 سے زائد بار فائر بندی کی خلاف ورزیاں کی جا چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لئے تیار ہیں لیکن بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن اگر بھارت لائن آف کنٹرول کے پار مہم جوئی یا پاکستان کے خلاف محدود جنگ کے نظریے پر عمل کرتا ہے تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔اپنے خطاب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نسلی فسادات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف تمام انسانی اقدار کے منافی ہے بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کے لیے بھی بہت بڑا چیلنج ہے۔مسئلہ فلسطین پربات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا فلسطینی علاقوں پراسرائیل کے طویل قبضے اور غیرقانونی یہودی بستیوں کی توسیع سے خطے میں بڑے پیمانے پرجنگ چھڑ سکتی ہے۔