بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ہماری کارکردگی کا فیصلہ عوام کی عدالت میں ہوگا ٗ پرویز خٹک

ہماری کارکردگی کا فیصلہ عوام کی عدالت میں ہوگا ٗ پرویز خٹک

پشاور ۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان ایک بہترین ملک ہے مگر اسے ڈاکوراج نے تباہ کیا۔ پاکستان کے مسائل کا واحد حل ایماندار قیادت ہے ۔ماضی میں اس صوبے کے عوام کو ایم ایم اے نے اسلام کے نام پر ، پیپلزپارٹی نے روٹی ، کپڑا اور مکان کے نام پر اور سرخوں نے پختونوں کے نام پر دھوکہ دیا ۔ان سیاسی مجرموں کے دور میں نہ ہی اسلام کیلئے کوئی قدم اُٹھایا گیا نہ عوام کو روٹی ملی نہ پہننے کیلئے کپڑا اور نہ رہنے کیلئے چھت دی گئی ۔ پختونوں کے نام پر ایک عجیب ڈرامہ رچایا گیا ۔یہ سیاسی ڈاکو الیکشن قریب آتے ہی بلوں سے نکل کر ڈرامہ شروع کردیتے ہیں۔عوام کو چاہیئے کہ اپنے مستقبل کی خاطر دغا بازوں اور ایمانداروں میں فرق کریں ۔ 2018 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ چاروں صوبوں اور وفاق میں حکومت بنائے گی اور عمران خان ہی اس ملک کے وزیر اعظم ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمن،آصف علی زرداوری، اسفندیار ولی خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ اُن لوگوں پر افسوس ہے جو چند ٹکوں کی خاطر اپنا مستقبل داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ عوام کے ایک غلط فیصلے (ووٹ دینے کے عمل )کی وجہ سے پورانظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔دُنیا میں جتنی اقوام نے بھی ترقی کی اُ س کی وجہ اُن کی ایماندار قیادت اورمضبوط سسٹم تھا۔پاکستان کے کھربوں پتی لوگ باہر ہیں جو اپنا پیسہ پاکستان میں نہیں لگاتے کیونکہ وہ سیاسی ڈاکوؤں سے ڈرتے ہیں۔ اُنہیں اس بدعنوان نظام پر اعتماد نہیں ہے۔وہ اپنا سرمایہ پاکستان میں لانے کیلئے تیار ہیں مگر ایماندار قیادت کے منتظر ہیں۔ صوبائی حکومت نے اپنے منشور کے مطابق گزشتہ چارسالوں میں نظام کی اصلاح اور اداروں کی بحالی کیلئے اخلاص کے ساتھ جدوجہد کی ۔ہم اپنے اس مقصد میں کتنے کامیاب ہیں اس کا فیصلہ اﷲ تعالیٰ کرے گا۔ ہم نے عوام کی آسانی کیلئے اور اُن کی زندگی کو مثبت تبدیلی سے ہمکنار کرنے کیلئے عملی اقدامات کئے۔تحریک انصاف عوام دوست پالیسیوں ، نظام کی شفافیت اور چارسالہ مجموعی کارکردگی کی بدولت نہ صرف صوبے میں دوبارہ حکومت بنا کر تاریخ بدل دے گی بلکہ مرکزی سطح پر بھی حکومت بنا ئے گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے معراجی بالا بہادر خیل ، تنگی خٹک ضلع نوشہرہ میں گیس سپلائی پائپ لائن کا افتتاح کرنے کے بعد عوامی جلسے سے اور با بی قدیم میں شمولیتی جلسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر ضلع ناظم نوشہرہ لیاقت خٹک، ایم این اے ڈاکٹر عمران خٹک،ایم پی اے میاں خلیق الرحمن، اسحاق خٹک، احد خٹک عثمان خان اور دیگر نے بھی جلسے سے خطاب کیا جبکہ اس موقع پر مقامی منتخب نمائندوں ، سیاسی و سماجی شخصیات اور معززین علاقہ نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ با بی قدیم میں حاجی عبد الرشید خان ، حاجی حکیم خان ، حاجی بنات خان، حاجی اول خان، حاجی ابراہیم خان، امان خان، ماسٹر ارشاد، پرداد خان، یوتھ کونسلر ملک عامر شہزاد ،ملک جواد ، ملک فخر عالم، ملک عرفان، ملک کامران ، کلیم اﷲ، یوسف خان اور دیگر نے اپنے خاندان ، سینکڑوں ساتھیوں سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔اس موقع ڈاکٹر عمران خٹک نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی قیادت میں حلقہ این اے 05 میں تین سو ستر کلو میٹر گیس کی منظوری لے چکے ہیں اور آج معراجی بالا، تنگی خٹک بہادر خیل میں 23 کلو میٹر پائپ لائن آچکی ہے جس پر کام شروع ہوچکا ہے انہوں نے کہا ہ عاشہ خیل پلوسئی سمیت آٹھ دیہات کاسروے شروع ہوچکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ سب کچھ صوبائی حکومت کی بدولت ممکن ہوا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ تحریک انصاف ملک میں سیاسی ڈاکوؤں کی ضد کے طور پر سامنے آئی ہے ۔ یہ واحد جماعت ہے جس نے سیاسی ڈاکہ زنی کے خلاف عملی جدوجہد کی اور طاقتور سیاسی مافیا کو احتساب کیلئے پیش ہونے پر مجبور کیاجس کے نتیجے میں نواز شریف کو نااہل ہو کر وزارت عظمیٰ سے دستبردار ہونا پڑا ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاکستانی سیاست کا عجیب المیہ ہے کہ الیکشن سے پہلے سیاسی جماعتیں بڑے بڑے دعوے کرتی ہیں مگر حکومت میں آکر کسی ایک وعدے پر بھی عمل درآمد نہیں کرتیں۔ انہوں نے عوام سے کہاکہ مستقبل عوام کے اپنے ہاتھ میں ہے وہ ووٹ جیسی اہم امانت اہل کے سپر د کریں ۔اس امانت کا غلط استعمال کرکے اپنا سب کچھ داؤ پر نہ لگائیں کیونکہ اس ملک میں سیاسی مجرموں نے ہمیشہ اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دی ہے عوام سے دھوکہ کیا ۔ان مجرم حکمرانوں نے اپنے دور حکومت میں کبھی غم نہیں کیا کہ غریب عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولت دستیاب ہیں کہ نہیں۔ یہ فکر عمران خان کو ہے جس کے منشور پر عمل درآمد کرتے ہوئے موجودہ صوبائی حکومت نے اداروں کی کارکردگی میں واضح فرق ڈالا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ حیرت ہے کہ اقتدار کی بھوک نے اسلام کو بھی سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا ۔مولانا فضل الرحمن بتائیں کہ انہوں نے اپنے دور میں اسلام کیلئے کیا کیا ۔ وہ ایک قانون تک نہیں بنا سکے۔ہماری حکومت نے سکولوں میں پرائمری کی سطح تک ناظرہ قرآن جبکہ چھٹی سے بارہویں تک قرآن بمعہ ترجمہ نصاب کا حصہ بنایا۔نجی سود کے خلاف قانون سازی کی ۔ غیر شرعی جہیز کے خلاف قانون بنا رہے ہیں جو جلد اسمبلی سے پاس کیا جائے گا۔ ہم نے علماء سے کہا کہ وہ درسی نصاب میں اصلاح کے لئے تجاویز دیں۔ حکومت عمل درآمد یقینی بنائے گی ۔صوبے کی 4 ہزار مساجد میں شمسی توانائی فراہم کر رہے ہیں۔ جنازہ گاہوں کی تعمیر کا عمل جاری ہے۔آئمہ مساجد کو سرکاری سطح پر معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ فضل الرحمن ہمارے اس اقدام کو یہودی ایجنڈا کہتے ہیں۔

فضل الرحمن کی باتوں سے لگتا ہے کہ اس کا دماغ خراب ہے۔صوبائی حکومت کی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت نے شروع دن سے رشوت کے خلاف جہاد شروع کیا ۔رشوت نے صوبے کو تباہ کردیا تھا۔ہم نے رشوت کے خاتمے اور نظام کی شفافیت کا وعدہ کیا تھا ۔اس کے لئے عملی اقدامات کئے اور رشوت کے خلاف سخت قانونی سازی کی ۔انہوں نے کہاکہ رشوت کا مکمل طو رپر خاتمہ اُسی صور ت میں ممکن ہے جب عوام اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور صوبائی حکومت کے اصلاحات کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے آگے آئیں۔ا نہوں نے کہاکہ اسلام میں رشوت لینے والا ہی مجرم نہیں بلکہ رشوت لینے اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ شعبہ تعلیم اور شعبہ صحت میں حکومتی اقداما ت کا ذکر تے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ آج صوبہ بھر کے سکولوں اور ہسپتالوں میں سو فیصد عملہ موجود ہے ۔ وہ تمام اضافی سہولیات جو ماضی میں میسر نہ تھیں آج فراہم کی جارہی ہیں۔ غریب کے علاج کا بندوبست کرنے کیلئے صحت انصاف کارڈ کا اجراء کیا گیا۔یہ کارڈ ہر گاؤں تک پہنچ چکا ہے۔جس کے تحت سالانہ 5 لاکھ روپے تک حکومت کی طرف سے منتخب کردہ سرکاری اور پرائیوٹ ہسپتالوں میں علاج کی مفت سہولت فراہم کی جارہی ہے۔رواں سال مزید 10 لاکھ کارڈ کی تقسیم جاری ہے۔اس طرح اس سہولت سے مستفید ہونے والے مستحق خاندانوں کی کل تعداد 24 لاکھ ہو جائے گی۔بیروزگار ی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں بیروزگاری ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے ہر بندہ سرکاری نوکری مانگتا ہے مگر ایسا ممکن نہیں ہے۔کارخانوں کا قیام ہی بیروزگاری کے مسئلے کا واحد حل ہے۔جس پر ماضی میں سرے سے سوچا ہی نہیں گیا۔ موجودہ صوبائی حکومت نے صوبے کو سرمایہ کاری کیلئے کھول دیا ہے۔موٹروے ، جلوزئی ، حطار اور دیگر اضلاع میں کارخانوں کے قیام پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔

سی پیک کی وجہ سے خیبرپختونخوا پاکستان کے دیگر صوبوں سے زیادہ فیزیبل ہے۔وزیراعلیٰ نے سابقہ حکومتوں خصوصاً زرداری اور حیدر ہوتی کی طرف سے وادی پشاور اور نوشہرہ کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے ضمن میں نظر انداز کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بارہا حکمرانوں کو اہم مسئلے کی طرف متوجہ کیا مگر کسی نے اس بات پر توجہ نہ دی اور اُنہیں اس نیک کام کی توفیق نہ ہوئی۔ اب قدرت نے موقع دیا ہے تو دریائے کابل کے دونوں اطراف میں 13 ارب روپے کی خطیر لاگت سے حفاظتی پشتوں کی تعمیر پر کام شروع ہے ۔اب اگر 2010 سے بڑا سیلاب بھی آئے تو انشاء اﷲلوگوں کے جان و املاک تباہی سے محفوظ رہیں گے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ نوشہرہ کے عوام سے جھوٹی ہمدردیاں جتانے والے سیاستدان اپنے دور میں کہاں تھے ۔ انہوں نے کبھی بھی یہاں کے عوام کودرپیش تکلیف کا احساس نہیں کیا۔ موجودہ حکومت نے یہاں کے عوام کی احساس محرومیوں کا خاتمہ کیا۔ پاکستان کی پہلی ٹیکنکل یونیورسٹی نوشہرہ میں قائم کی جارہی ہے۔قاضی حسین احمد ہسپتال کب سے تشنہ تقلید تھا مگر کسی کو اسے مکمل کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔موجودہ صوبائی حکومت نے اسے مکمل کیا۔ ہم نوشہرہ میں ایئر یونیورسٹی بنار ہے ہیں۔ میڈیکل کالج بن چکا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ صرف نوشہرہ ہی نہیں بلکہ صوبائی حکومت صوبہ بھر میں کالجوں ، صحت کے مراکز اور یونیورسٹیوں کا جال بچھا رہی ہے۔قبل ازیں وزیراعلیٰ نے معراجی بالا پایان، تنگی بالا اور بہارد خیل کلے کو گیس کی سپلائی کیلئے 23 کلومیٹر طویل پائپ لائن کا افتتاح کیا۔