بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / صحت کاخیال

صحت کاخیال

 

ڈاکٹر اسحاق ہمارے کلاس فیلو تھے‘ سرجن تھے‘ کالج کے پرنسپل تھے‘پروفیسر تھے لیکن پکارے جاتے تو میجر اسحاق کے نام سے ۔ کیا ہمہ جہت شخصیت تھی۔ اپنی ذات میں انجمن تھے۔ زندہ د ل تھے اور زندگی کو بھرپور طریقے سے گزارنا جانتے تھے۔ تعلقات پر آتے تو جہاں ایک طرف وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ تک رسائی تھی وہاں ہر وقت پرانے کلاس فیلوز اور ساتھیوں کو مدعو کئے رکھتے تھے۔ ہماری میڈیکل کی کلاس سال دو سا ل بعد میل ملاپ کرتی ہے گزشتہ ری یونین اسحاق ہی نے منظم کی تھی۔ سٹیج پر آکر غیر مشروط طور پر تمام کلاس فیلوز کو آفر دی کہ اپنے کلاس فیلوز کے بچوں کو میڈیکل کالج میں آدھی فیس پر داخلہ ملے گا اور اس عہد کو نباہتے رہے۔

کچھ ہی عرصہ قبل معلو م ہوا کہ بیمار ہیں تو ہم نے معمول کی بیماری سمجھ کر فون پر ہی عیادت کی۔ تاہم ہماری تشویش بڑھی جب معلوم ہوا کہ علاج کیلئے باہر تشریف لے گئے ہیں پھر اسکے بعد ایک سے ایک بری خبر آتی گئی اور ہماری آخری ملاقات آئی سی یو میں ہوئی جب وہ تھوڑی دیر کیلئے ہوش میں آئے۔ اگلے ہی دن میجر‘ پروفیسر‘ ڈاکٹر‘ سرجن‘ پرنسپل اسحاق مالک حقیقی سے جاملے اور اپنے ہاتھوں کے لگائے ہوئے پودے یعنی میڈیکل کالج کے احاطے میں دفن ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اجر عظیم دے‘ جس طرح سے انہوں نے طلبہ اور مریضوں کی خدمت کی‘ اسکے بدلے ان کو قبر و آخرت میں آرام آئے، آمیناسحاق صاحب کی بے وقت موت سے ہم تمام کلاس فیلوز میں بے حد اداسی پھیل گئی اور درحقیقت ہم سب ہی ڈپریس تھے۔ میں انکا تذکرہ دو حقائق سامنے رکھنے کیلئے کرنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ ڈاکٹر خواہ کتنا ہی مرتبے میں بڑا نہ ہو یا بہت زیادہ پیسے کماتا ہو‘ وہ مریض کے علاج کیلئے کئی خطرات مول لیتا ہے‘ یہ وہ خطرات ہیں جن سے مریض کے قریبی عزیز بھی بھاگتے ہیں۔ مرحوم کو ایک مریض ہی سے ہیپاٹائٹس کا انفیکشن ہوا‘ جو بعد میں کینسر کی شکل اختیار کر گئی۔اس لئے ڈاکٹروں کی صرف یہ ایک ہی قربانی بھی کافی ہے کہ خطرناک مریضوں کا علاج کرنے سے بھی کبھی منہ نہیں موڑتے۔ اسحاق مرحوم اپنے پیشے کے واحد شہید نہیں ‘ان سے قبل پروفیسر رحیم گل‘ ممتاز خٹک اور کئی نوجوان ڈاکٹر اپنے مریضوں سے مرض کا تحفہ لے کر مٹی کے ڈھیر کے نیچے جاسوئے۔

دوسری حقیقت یہ ہے کہ عمر کیساتھ ساتھ صحت کو روگ لگتے رہتے ہیں‘ اس لئے پینتالیس پچاس سال کی عمر کے بعد اپنی صحت کا زیادہ خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اسحاق مرحوم کا کینسر کافی بڑھ گیا تھا۔ اگر پہلے سٹیج میں پتہ چل جاتا تو سرجری ممکن تھی‘ اپنی خاندانی بیماریوں کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے اگر کسی خاندان میں شوگر کا مرض ہے تو کم عمر ہی میں اپنے شوگر کا وقفے وقفے سے ٹیسٹ کرنا چاہئے۔ میرے دونوں والدین کے خاندانوں میں بلڈ پریشر کا مرض عام ہے۔ چنانچہ میں نے پینتیس سال کی عمر میں بلڈ پریشر چیک کیا تو علاج شروع کیا‘ سچ بتاؤں تو انگلینڈ میں قیام کے دوران جی پی نے ضروری معائنہ کیا تو معلو م کیا‘ تاہم اسوقت سے باقاعدہ علاج کررہا ہوں۔

ہمارے ہاں دستور ہے کہ اچھے خاصے زندہ دل افراد ساٹھ کے پیٹے میں پہنچتے ہیں تو بلاوجہ سنجیدگی اختیار کرلیتے ہیں‘گویا دنیا سے ناطہ توڑلیتے ہیں‘ لیکن یاد رہے کہ سب سے بڑی عبادت اللہ کے بندوں کی خدمت ہے‘ جوانی کے گزرتے ہی زندہ دلی رخصت ہوجاتی ہے۔ خود سے زندہ دل ہی ہوں‘لیکن دوسرے لوگ ہنسی مذاق کو عمر کیساتھ منسوب رکھتے ہیں اور ذرا داڑھی میں سفید بال نمودار ہوئے، ہر کوئی کہنے لگتا ہے کہ اللہ اللہ کرنے کی عمر ہے۔ حالانکہ یہی عمر ہے جب بچوں کی تعلیم ختم ہوجاتی ہے، ان کی شادیاں بھی ہوجاتی ہیں اور میاں بیوی کو پہلی مرتبہ کچھ وقت مل جاتا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت کی تجدید کرلیں۔ کہیں گھر سے باہر بھی سانس لیں۔ محلے کی غمی خوشی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔کچھ کمایا ہے اور بچت کی ہے تو اسے اپنے آرام اور گھومنے پھرنے پر خرچ کریں۔اپنی دولت اور جائیداد بچوں کے لئے چھوڑکے جانا نہ صرف بے وقوفی ہے بلکہ بچوں کے ساتھ بھی ظلم ہے اگر ان بچوں کو شروع سے ہر چیز تھالی میں پیش ہوتی رہے تو وہ پالتو جانوروں کی طرح جنگل میں کبھی بھی زندہ نہیں رہ سکیں گے۔بچوں میں آپکی سب سے بڑی سرمایہ کاری تعلیم و تربیت ہے۔ پرندے بھی بچوں کے بڑے ہونے پر ان کو دھکا دے کر اپنے گھونسلے سے باہر گراتے ہیں ورنہ وہ پوری عمر اُڑ نہ پائیں۔ یہ ان بچوں کی کامیاب زندگی کیلئے نہایت ضروری ہے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوں۔

کچھ لوگ اپنی زندگی میں ساری جائیداد اپنے بچوں کے نام لکھوالیتے ہیں۔ اس سے بڑی غلطی کوئی نہیں ہوسکتی ۔ بہوئیں آتی ہیں تو پھر بیٹے ان کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں۔ بیٹیاں اپنے سسرال سے دباؤ کا شکار ہوتی ہیں اور ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح سے بڑے بڑے امیر لوگ جائیداد کے ہوتے ہوئے دربدر ٹھوکریں کھاتے ہیں‘ کبھی بیٹے زبردستی جائیداد اپنے نام لکھواتے ہیں اور کبھی خوشی سے ۔ لیکن ایک دفعہ جائیداد ان کے قبضے میں آجاتی ہے تو پھر نہ وہ عزت رہتی ہے اور نہ کوئی خیال۔

تابعدار اولاد اللہ کی نعمت ہے۔ تاہم اچھی اولاد کی موجودگی میں بھی یاد رہے کہ موجودہ زمانے کے تقاضے خاصے سخت ہیں اگر پروفیشنل بیٹا ہے تو اپنے جاب کے تقاضے اسے اس بات کے قابل نہیں چھوڑتے کہ وہ ہر وقت آپ کے سرہانے بیٹھے۔ نہ ہی شادی شدہ بیٹیوں کو بچوں سے وہ فرصت ملتی ہے کہ وہ ہفتوں اور مہینوں آپ کی خدمت کریں۔ اس کو قطعاً اس نظر سے نہ دیکھیں کہ وہ آپ سے محبت نہیں کرتے۔ بس وہ اپنے حالات سے مجبور ہوتے ہیں۔اس لئے یہ اور زیادہ ضروری ہے کہ آپ اپنی بچت اپنی صحت پر لگائیں۔

آپ کو کوئی معذور ی ہے تو اسکے لئے اب نئے سے نئے آلات بازار میں آگئے ہیں جو آپ کی روزمرہ زندگی آسان بناتے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ سے بچنے کیلئے سولر سسٹم لگائیں جو کم از کم آپ کے بیڈروم کی ساری ضروریات پوری کرسکے۔ شوگر ہے تو اسکے کیلئے اب جدید مشین موجود ہے جس کیلئے آپ کو انگلی میں سوئی چبھونی نہیں پڑتی بلکہ ایک چھوٹی سی مشین ہاتھ کے اوپر سے گزار کر ہر وقت اپنا شوگرلیول معلوم کرسکتے ہیں۔ جوڑوں میں درد ہے تو اسکے لئے مصنوعی اعضا ء کے ماہرین آپ کیلئے ایسے آلات بناسکتے ہیں جو آپ کو پیالی پکڑنے میں‘ چلنے میں‘ ٹوائلٹ پر بیٹھنے میں ‘کرسی سے اٹھنے میں جرابیں اور جوتے پہننے میں مدد دے سکتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ آپ کسی کے محتاج نہ ہوں۔ صحت کی معمولی خرابی بھی نظر انداز نہ کریں اور فوراً متعلقہ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو معذوری سے بچائے ۔ آمین