بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / اے این پی کی دلیل

اے این پی کی دلیل

اے این پی گذشتہ کچھ دنوں سے فاٹا کے معاملہ میں کھل کر سامنے آتی جا رہی ہے اور کل جماعتی کانفرنس کے بعد اس حوالہ سے اس کالب ولہجہ تیز مگر مدلل ہوتاجارہاہے گذشتہ دنوں پارٹی کی مرکزی کابینہ اور ورکنگ کمیٹی کے اجلاس باچا خان مرکز میں ہوئے جسکے بعداسفندیارولی نے پریس کانفرنس میں اجلا س کے فیصلوں کے حوالہ سے آگاہ کیا اس دوران انہوں نے ایک بارپھر مولانافضل الرحمان اورمحمودخان اچکزئی پرکھل کرتنقید کی اوراس امر پر حیر ت کااظہار کیاکہ چترال سے لے کر بولان تک پختونوں کوایک کرنے کانعرہ لگانے والے اچکزئی آج فاٹا اور خیبر پختونخواکے پختونوں کے ملنے کاتاریخی موقع ضائع کرنے پر تلے ہوئے ہیں جبکہ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی منطق کوبھی مضحکہ خیز اور ناقابل قبول قراردیا جہاں تک مولانافضل الرحمان کاتعلق ہے تو وہ خودبھی انضمام کے مخالف نہیں ان کامطالبہ صرف اتناہے کہ انضمام کیلئے قبائلی باشندوں کی رائے لینی ضروری ہے اگر ان کی مرضی معلوم کئے بغیر انضما م کیاگیا تو افغانستان ڈیورنڈ لائن کاایشو اٹھاسکتاہے کیونکہ فاٹاکی بجائے عالمی سرحد خیبرپختونخواکاحصہ بن جائیگی اس معاملہ میں اسفندیارولی نے پوری ڈیورنڈ لائن کااحاطہ کرتے ہوئے کہاکہ ڈیورنڈ لائن کامحض تیس سے پینتیس فیصد حصہ ہی فاٹا سے گزرتاہے جبکہ دیر اور چترال جوکہ خیبر پختونخواکاحصہ ہیں کی پوری سرحد افغانستان کیساتھ لگتی ہے۔

اسی طرح بلوچستان میں چمن کے نیچے تک کاساراسرحدی علاقہ بلوچستان کے مختلف اضلاع پر مشتمل ہے ان کے بقول اگر ساٹھ سے پینسٹھ فیصد تک ڈیورنڈ لائن بندوبستی علاقوں سے گزرتی ہے اور سات عشروں کے دوران افغانستان کی طرف سے کوئی ایشو نہیں اٹھا تو محض بیچ میں فاٹا والے حصہ کو بندوبستی علاقوں میں شامل کرنے سے کونسی قیامت آجائیگی انکے مطابق یہ انتہائی کمزور دلیل ہے جس سے قبائلی علاقہ جات کو ان کے حقوق سے محرو م رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے فاٹاانضمام کے معاملہ پر صوبائی حکمران جماعت پی ٹی آئی سے کہیں زیادہ مضبوط اور واضح موقف اپوزیشن کی اس چھوٹی سی جماعت نے اپناکریقیناًاپنے غیر فعال ماضی کے اثرات ختم کرنیکی کامیاب کوششیں شروع کردی ہیں فاٹاکے معاملہ پر تمام جماعتوں کواسی قسم کاموقف اپنانے کی ضرورت ہے محض ڈیورنڈ لائن کے ایشوپر اس تاریخی موقع کو ضائع کرناکسی بھی طور مناسب معلوم نہیں ہوتا اس معاملہ پر اب صوبائی حکومت کو بھی متحرک ہونیکی ضرورت ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کی طرف سے بھی وفاق کو ایک بارپھر ایک موثر پیغام دیئے جانے کی ضرورت پہلے سے بڑھ کرہے اگر صوبہ کی بات کی جائے تومحض ایک جماعت ہی انضمام کی مخالفت کررہی ہے۔

باقی تمام جماعتیں اس کے حق میں ہیں اور اگر اے این پی نے مزید متحر ک ہونے کافیصلہ کرلیاہے تو اس سلسلے میں بغیر کسی حیل وحجت کے تمام حامی جماعتوں کو اکٹھا کرنے کیلئے کوششیں جاری رہنی چاہئیں جہاں تک عوامی نیشنل پارٹی کاتعلق ہے تو روزاول سے یہ فاٹامیں اصلاحات کی حامی رہی ہے اور جب سے انضمام کی بات چلی اس نے کھل کراس کی حمایت کی کیونکہ اس سے خیبر پختونخوا کاادھورا نقشہ مکمل ہونے کی راہ ہموارہوسکتی ہے عوامی نیشنل پارٹی فاٹا سیاسی اتحادکابھی حصہ ہے جو انضمام کے حوالہ سے مہم چلارہاہے عوامی نیشنل پارٹی نے سیاسی بلوغت کاثبوت دیتے ہوئے انضمام مخالفین پرکوئی الزام عائدکرنے سے گریزکی راہ اختیار کرتے ہوئے دلیل کے ذریعے ان کوقائل کرنے کی جوراہ اختیار کی ہوئی ہے اس سے نہ صرف یہ کہ باہمی کشیدگی نہیں بڑھے گی بلکہ مکالمہ کی راہ بھی ہموارہوگی ویسے بھی مولانافضل الرحمان اے این پی کی اے پی سی میں اپنے الگ اور بالکل مختلف موقف کے باوجودبات چیت اور رابطوں کادروازہ کھلارکھنے کااعلان کرچکے ہیں۔

جو اس لحاظ سے خوش آئندہے کہ اس معاملہ پرباہمی اختلاف رائے سیاسی کشیدگی اوراختلافات کاذریعہ نہیں بن سکے گی اگر اے این پی کے سربراہ اسفندیارولی خان اس حوالہ سے وقت نکال کر انفرادی سیاسی ملاقاتوں کاسلسلہ بھی شروع کردیں تو مثبت نتائج کی توقع رکھی جاسکتی ہے اس ضمن میں چارسدہ اوروادی پشاور کی انتخابی سیاست کوبالائے طاق رکھتے ہوئے اگر وہ انضمام کے معاملہ پر قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب شیرپاؤ کو بھی ہمنوابنانے میں کامیاب ہوسکیں تو پھر مولانا فضل الرحمان کو قائل کرنا کچھ زیادہ مشکل نہ ہوگا رہی اچکزئی کی بات تو ان کو زیادہ سنجیدہ لینے کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں کیونکہ وہ کسی بھی طورفاٹا کی نمائندگی کے دعویدار نہیں ہوسکتے ان کے واحد امیدوار نے 2013ء کے انتخابات میں فاٹا سے محض 282 ووٹ لے رکھے ہیں جس کے بعدان کو کم از کم فاٹا کے ایشو پر بات کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا چاہئے