بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / خورد بردکب تک؟

خورد بردکب تک؟

بیان کرنے کو ’کارنامے‘ تو بہت ہیں لیکن ’کارہائے نمایاں‘ نہیں۔ خیبرپختونخوا میں ’تبدیلی کے ثمرات‘ یقینی طور پر ظاہر ہوتے اگرقانون سازاراکین صوبائی اسمبلی سے یہ اختیار واپس لے لیا جاتا کہ وہ اپنے اپنے انتخابی حلقے میں ترقیاتی عمل کی نگرانی اور اِس کے انتخاب سے متعلق ترجیحات کا تعین کریں۔ ماضی کے تجربات سے حاصل ہونے والے نتائج متقاضی تھے کہ اراکین اسمبلی کے پیش نظر رہنے والے ذاتی‘سیاسی اور جماعتی مقاصد کے باعث اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی نہ تو ترقی کا معیار پائیدار ثابت ہوا ہے اور نہ ہی اس سے کسی علاقے میں اجتماعی بہبود کی ضروریات پوری ہوئی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں تین سطحی ضلعی حکومتوں کا نظام متعارف کرنا ہی کافی نہیں تھا بلکہ اسے اختیارات کی منتقلی اور سوفیصد ترقیاتی کاموں کی ذمہ داری سونپ دینی چاہئے تھی۔ المیہ ہے کہ دنیا کا بہترین اور اصلاح شدہ مثالی ’بلدیاتی نظام‘ وضع اور لاگو تو کر دیا گیا لیکن اسے ملک کے کسی بھی دوسرے صوبے کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی خاطرخواہ فعال نہیں کیا گیا‘ اعدادوشمار عیاں ہیں کہ موجودہ صوبائی حکومت نے کسی ایک بھی مالی سال ضلعی نمائندوں کو حسب دستور تیس فیصد ترقیاتی فنڈز نہیں دیئے!

علاوہ ازیں ضلعی حکومتوں کی موجودگی میں کمشنر‘ ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنروں اور ان کے شاہانہ دفاتر‘ سرکاری رہائشگاہوں‘ گاڑیوں اور ماتحت عملے کی فوج ظفرموج کو گود لینے کی ضرورت ماسوائے مالی وسائل کے ضیاع اور کیا ہو سکتی ہے لیکن چونکہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونیوالے مالی وسائل استعمال ہو رہے ہیں‘ اسلئے روایت پسند سیاسی فیصلہ سازوں کو سادگی‘ بچت اور کم خرچ بالانشین طرزحکمرانی کے بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ اِس موافق ماحول میں وی آئی پی کلچر کے دلدادہ ’انقلابیوں‘ کی کمزوریوں سے افسرشاہی خوب فائدہ اٹھا رہی ہے اور اپنے صوابدیدی اختیارات کی بقاء و مراعات برقرار رکھے ہوئے ہے! سیاسی فیصلہ ساز بظاہر ’فرمان تابع‘ افسرشاہی کی تعریف و توصیف سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ تبدیلی اسوقت تک ممکن ہی نہیں ہو سکتی جب تک سرکاری محکموں میں سزاوجزاکا نظام متعارف نہ ہو جائے‘ سالہا سال سے ایک ہی ضلع میں تعینات اور انتظامی عہدوں پر صوابدیدی اختیارات رکھنے والوں کے اثاثہ جات کی خفیہ ذرائع سے چھان بین ضروری ہے۔ مئی دوہزارتیرہ کے عام انتخابات کے بعد جب تحریک انصاف کو صوبائی حکومت ملی تو سرکاری دفاتر میں پہلے ایک سال خوف کی وجہ سے بدعنوانی کی شرح کم رہی لیکن رفتہ رفتہ یہ خوف زائل ہو چکا ہے اور متعلقہ عزت مآب سیکرٹریوں سے لیکر عوامی نمائندوں‘ وزراء اور مشیروں کی اکثریت بہتی گنگا میں صرف ہاتھ نہیں دھو رہی بلکہ غسل فرما رہی ہے۔

آج کامل چار سال چار ماہ بعد خیبرپختونخوا میں حکمرانی کا حال یہ ہے کہ کسی ایک بھی سرکاری محکمے کی کارکردگی مثالی نہیں!کیا یہی وہ جنون‘ تبدیلی اور احتساب ہے‘ جس کا خواب دکھاتے ہوئے ’تحریک انصاف‘ نے مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل بلندبانگ وعدے کئے گئے تھے؟تمہید طویل ہو گئی لیکن ’تین اَمور‘ (ترقیاتی فنڈز پر اراکین اسمبلی کی اجارہ داری‘ ضلعی حکومتوں کی عدم فعالیت سے اَفسرشاہی کی حکمرانی اور سرکاری ملازمین کی خراب کارکردگی سے نشوونما پانے والے مضمرات کی نشاندہی اس لئے بھی ضروری تھی کہ تحریر کے مرکزی خیال کی اہمیت واضح ہو جائے جس میں بظاہر ذکر تو ضلع ایبٹ آباد کی یونین کونسل ’میرپور‘ کا ہے جسکی رہائشی بستی ’سول آفیسرز کالونی‘ کی گلی نمبر آٹھ کی ’اَدھوری فرش بندی‘ منتخب نمائندوں کی دلچسپی اور حکومتی اداروں کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔یہ معاملہ صرف کسی ایک گلی کا نہیں بلکہ ترقی کے نام پر جاری مالی و اِنتظامی بدعنوانیوں کی وجہ سے دن دیہاڑے‘ کھلم کھلا اُور علی الاعلان ترقیاتی وسائل کی خوردبرد کا ہے اور ترقی کے لئے مختص وسائل کا بڑا حصہ ذاتی اثاثوں میں منتقل ہو رہا ہے۔

’گلی نمبر آٹھ‘ صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’PK-44‘ اور قومی اسمبلی کے حلقہ ’NA-17‘ کا حصہ ہے جس کی ’پختہ فرش بندی‘ کے لئے رکن قومی اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز سے ’دس لاکھ روپے‘ فراہم کئے گئے۔ مذکورہ گلی کی تعمیر مکمل کرنے کی حامی بھرنے والے محکمے سے استفسار اور تحقیق ہونی چاہئے تھی کہ کس طرح قریب 300 میٹر لمبی اور چودہ فٹ چوڑائی گلی کی فرش بندی ’نو لاکھ روپے‘ میں مکمل کی جائے گی جس سے قبل پوری گلی کا لیول ہونا چاہئے۔ ٹھیکیدار نے کل 6 دن کام کرنے کے بعد دو تہائی گلی میں اڑھی ترچھی ریت‘ بجری اور سیمنٹ بچھائی اور چلتا بنا ‘عمران خان‘ پرویز خٹک‘ متعلقہ رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون اور رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی سے درخواست ہے کہ وہ ’گلی نمبر آٹھ‘ کو بنیاد بنا کر ترقیاتی فنڈز میں ہونے والی بڑے پیمانے پر خوردبرد کا نوٹس لیں۔