بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہٹلر کے جانشین

ہٹلر کے جانشین

یوں تو دنیا کی تاریخ میں کئی جنگجو بادشاہ اور حکمران گذرے ان میں کچھ ایسے ذہنی مریض بھی تھے کہ جن کو مفتوح فوجیوں کی کھوپڑیوں کے مینار بنانے میں مزہ آتا تھا مگر ہم ماضی بعید کے ان پاگل حکمرانوں کا ذکر نہیں کرینگے ہم ماضی قریب اور موجودہ حالات کے تناظر میں چند معروضات پیش کرینگے کہتے ہیں بندر کے ہاتھ میں چاقو یا کسی بھی قسم کا تیز دھار والا خنجر آجائے تو وہ اپنے آپ کو بھی زخمی کرسکتا ہے اور کسی اور کو بھی‘ خبط عظمت بری شے ہے اور اپنے آپ کو یا اپنی قوم کو دوسری قوموں سے بالاتر تصور کرنا بھی جہالت کی نشانی ہے ہٹلر کے ذہن میں بھی یہی تھا یا ڈال دیاگیا تھا کہ صرف جرمن قوم کو ہی دنیا پر حکومت کرنے کا حق ہے وہ دیگر قوموں کو ہیچ تصور کرتا اس نے نازی پارٹی کے نام سے نسلی تعصب کی بنیاد پر ایک پارٹی بنائی جس نے جرمنوں کی برین واشنگ کی ہٹلر کے ہاتھوں لاکھوں بے گناہ لوگوں کا قتل عام ہوا وہ تمام یورپ پر قبضہ کرنا چاہتا تھا اس کے جرنیلوں نے اسے لاکھ سمجھایا کہ وہ بیک وقت روس اور مغربی ممالک کیخلاف جنگی محاذ نہ کھولے کیونکہ ان کو بعد میں سنبھالنا مشکل ہوجائے گا پر وہ کب کسی کی سنتا تھا اس نے اپنے کئی اعلیٰ جرنیلوں کو شک کی بنا پر مروا دیا تھا حالانکہ وہ محب وطن تھے اور ہٹلر کے ہاتھوں اپنے ملک کی تباہی دیکھنا نہیں چاہتے تھے ہٹلر کیخلاف بعض جرنیلوں نے یہ کوشش کی تھی کہ اسے اقتدار سے پرے کردیا جائے کیونکہ وہ جان گئے تھے کہ یہ مخبوط الحواس جنونی اور سرپھرا شخص خود بھی ڈوبے گا اور اپنے ساتھ جرمن قوم کو بھی لے ڈوبے گا پر وہ سازش ناکام ہوگئی تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ہر دور میں دنیا میں انتہا پسند جنگی جنون رکھنے والے حکمران پیدا ہوتے رہے ہیں ۔

ان کے دماغ میں یہ خناس گھر بنالیتا ہے کہ دنیا میں بس صرف وہی حکمرانی کے قابل ہے جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہٹلر کی فوجوں کی کامیابی کا بڑا راز یہ تھا کہ اس نے دوسری جنگ عظیم شروع کرنے سے پہلے اسلحہ کی صنعت کو بام عروج تک پہنچا دیا تھا اور جرمنی کے پاس جدید ترین ہتھیار اور جنگی جہاز بڑی تعداد میں موجود تھے جنگ کی ابتداء میں تو وہ روس اور مغربی ممالک کو جیسے روندتے چلے گئے ہٹلر کی ہی ڈگر پر چلنے والے حکمران آج ہمیں دنیا میں بعض ممالک میں نظر آرہے ہیں ہم ان تین شخصیات کا نام لیں گے جن پر جنگی جنون بری طرح سوار ہے ان تین سربراہان کے نام ہیں ڈونلڈ ٹرمپ‘ نریندر مودی اورشمالی کوریا کے ڈکٹیٹر کم جنگ ین ‘ان تینوں میں قدرے مشترک یہ ہے کہ یہ اپنے اپنے ملک میں اسلحہ کے انبار لگا رہے ہیں اور بات بات پر عددی یا عسکری لحاظ سے کمتر ممالک کو تڑی دیتے رہتے ہیں ۔

ان کی باتوں میں رعونت ہے ان کو آپ نارمل ذہن کے انسان قرار نہیں دے سکتے اپنے سیاسی حریفوں کو نیچا دکھانے کے لئے کسی بھی وقت یہ کوئی ایسا جنگی قدم اٹھا سکتے ہیں کہ جس سے تیسری عالمگیر جنگ کی ابتداء ہوسکتی ہے ان سب کے آس پاس ایسا دور اندیش قسم کا اتالیق موجود نہیں جو انہیں سمجھا سکے کہ جنگ کی ہولناکی کیا ہوتی ہے ان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ یہ سوچ بچار کی جگہ ترنگ میں آکر فیصلے کرنیوالے ہیں مودی کی تو یہ جبلت ہے کہ وہ مسلمانوں کا خون دیکھ کر خوش ہوتا ہے کچھ عرصہ پہلے اس کی سیاسی پارٹی کے ایک رکن کی گاڑی کے نیچے آکرجب ایک مسلمان ہلاک ہوا اور وہ بات ان کے نوٹس میں لائی گئی تو موصوف نے یہ فرمایا تھا کوئی بات نہیں کتے موٹروں کے ٹائروں کے نیچے آکر روزانہ کیا نہیں مرتے رہتے؟۔