بریکنگ نیوز
Home / کالم / اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

یہ جو زندگی کارونق میلہ ہے اسکی رنگینیاں اور رعنائیاں ہمیشہ سے قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گی‘بس وقت کیساتھ ساتھ اسکی رونقوں میں تبدیلی آتی رہتی ہے اور آتی رہے گی‘ میلہ ہنگاموں سے عبارت ہوتا ہے اور اس ہنگامے میں اگر کوئی بچھڑ جائے یا اس سے کوئی جڑ جائے اس سے میلے کی رونقیں متاثر نہیں ہوتیں،بس بچھڑنے والے کے حلقہ میں شامل کچھ چہرے ملول ہو جاتے ہیں‘اور یہ اداسی بھی چند روزہ ہوتی ہے کہ زندہ لوگوں کو میلے سے جڑے رہنا ہوتا ہے۔کہیں بچپن میں سکول کی دیواروں پر لکھے ہوئے اشعار میں سے ایک شعر میرے ساتھ ہی پلتا بڑھتا رہا ہے
یہ چمن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں جانور
اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گے

پھر بھی جب کوئی بہت اپنا بچھڑتا ہے تو اداسی، گریہ اورسوگواری کے سیلاب کے آگے کوئی بند نہیں باندھا جاسکتا‘ ابھی کچھ دن پہلے یہ بھرا ہوا رونق میلہ ایک مقبول اور ہر دلعزیز فنکار اور شاعر افتخار قیصر بھی چھوڑ گیا‘اس سے کچھ ہی دن ادھر ایک طویل بیماری سے لڑتے لڑتے تھک ہار کر ایک اور خوبصورت فنکار اور تین نسلوں کو انگریزی سکھانے والا پروفیسر ضیا ء القمربھی جان ہار گیا تھا۔ہر چند کہ افتخار قیصر کے بر عکس ضیاء القمرکے پاس بیماری سے لڑنے کیلئے توانائی بھی تھی اور وسائل بھی لیکن ان لمحات میں جس چیز کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے وہ ان دوستوں کی ڈھارس ہوتی ہے جن کیساتھ زندگی کا ایک طویل اور خوشگوار حصّہ گزرا ہوتا ہے مقبولیت اور شہرت کی دھوپ جب دیواروں سے اترنا شروع ہوجاتی ہے تو شام کے سائے بڑھنے لگتے ہیں وہ شام‘جسکا دن کے ہنگاموں میں بہت کم شاید بہت ہی کم لوگوں کو خیال رہتا ہے ‘اسلئے جب یہ شام دل کے آنگن میں کنڈلی مار کر بیٹھ جاتی ہے تو انسان بہت ہی اکیلا اور خالی خالی رہ جاتا ہے شاید انہی دنوں کے بارے کبھی کہا تھا
عجیب طرح سے خالی یہ دن گزرتے ہیں
خبربھی کوئی نہیں یارِ بے خبر بھی نہیں

یار بے خبر کے نہ ہونے سے فنکار کے لئے شاید ہی کوئی اور بات اتنی تکلیف دہ ہو۔مقبولیت کے منہ موڑنے کے بعد کراچی کی سڑکوں پر ہر آتے جاتے سے پان کیلئے اٹھنی مانگنے والا شہرہ آفاق فلم پکار اور دوسری ہٹ فلموں کا ہیرو پرنس آف منروا صادق علی ہو‘ یا سرکاری ہسپتال کے جنرل وارڈ میں ایک جوس کے ڈبے کیلئے دست سوال دراز کرنیوالی انڈین فلم انڈسٹری کی معروف و مقبول’’ لارا لپا گرل‘‘ اور پاکستان میں سرفروش جیسی بیسیوں ہٹ فلموں کی مست و الست اور خوبصورت فنکاررہ مینا شوری جس پر فلمائے گئے گیت آج بھی اتنے ہی مقبول ہیں (میرا نشانہ ۔دیکھے زمانہ اور تیری الفت میں صنم) یا پھر ایک رئیس زادہ فنکار وحید مراد جس نے ایک زمانے کو اپنے سحر میں گرفتار رکھا‘جب شہرت نے منہ موڑا تو وہ کہیں کا نہ رہا‘آخری دنوں میں اس نے بہت کوشش کی کہ ایک بار پھر وہی دور لوٹ آئے اور اس کیلئے اس نے معاون اداکار کے طور پر بھی فلمیں کیں بلکہ وہ تواپنے پرانے ڈرائیوراور پشتو‘اردو کے بے حد عمدہ اور مقبول فنکار کیساتھ بھی ایک فلم کرنے پر مجبور ہوا ‘ مگر جب بات نہ بنی توتنہائی کا شکار ہو کرایلوس پریسلے کی طرح بھری جوانی (1938.1983 )میں یہ بھرا میلہ چھوڑ چلا یعنی بات وسائل سے بڑھ کر قریبی دوستوں کے روّیے اور تنہائی کی ہے۔ ’’ خبر بھی کوئی نہیں۔

یار بے خبر بھی نہیں ‘‘ بس اتنا ہے کہ وسائل کی عدم موجودگی سے بچھڑنے والے اور اس کے گھرانے کا دکھ اور زیادہ ہو جاتا ہے اور افتخار قیصر اور اس کے گھر والوں کیلئے یہ اذّیت دہرا عذاب تھی اس سے قبل حفیظ برکی‘شاد اخونزادہ اور پرائیڈ آف پرفارمنس صلاح الدین بھی اسی تنہائی اور کسمپرسی میں بچھڑگئے‘حفیظ برکی جسکو اپنے قرضے نہ اتار سکنے کا دکھ بھی تھا اور جس کیلئے اسکے ہمدرد دوست (جن میں نجیب اللہ انجم‘خالد خٹک‘اعجاز میر سمیت کچھ اور بڑے فنکار بھی شامل تھے) کو شاں رہے کسی حد تک کامیابی ملی تو اس وقت جب حفیظ برکی اپنے آخری سانس گن چکا تھا۔ صلاح الدین کا دکھ اباسین آرٹس کونسل کے دوستوں نے کم کرنے کیلئے ان کیلئے ایک کامیاب بینیفٹ شو کیا وہ اس دن بہت مطمئن تھا مگر دوسرے ہی دن اباسین آرٹس کونسل روتا ہوا آیا کہ بہت سے فنکار دوست جنہوں نے مفت کام کرنے کی حامی بھری تھی انہوں نے اباسین آرٹس کونسل کی طرف سے دی ہوئی ٹوکن فیس واپس کرتے ہوئے کہا کہ اب تو پیسہ خاصا اکٹھا ہو گیا ہے اس لئے ہماری پوری فیس ادا کی جائے البتہ اب سوشل میڈیا خاصا فعال اور طاقتور ہو گیا ہے اس لئے افتخار قیصر کی بیماری کی خبر پر تھوڑی سی حرکت میں سرکار آئی اور انہیں علاج کیلئے اسلام آباد بھیجنے کا اہتمام کیا مگر جہاں سے وہ مؤثردیکھ بھال نہ ہونیکی بنا پر واپس گھر آگئے۔ مجھے یاد ہے کہ جس دن وہ اسلام آباد جارہے تھے مجھے فنکار دوست اور ادب سے جڑے ہوئے احباب کیلئے دل میں تڑپ رکھنے والے دوست مہربان میجرعامر کا فون آیا تھا اس نے بھی کسی چینل پر اس کی بیماری کی خبر دیکھی ہے اس نے کہا کہ افتخار قیصر سے بات کر کے میرا نمبر اسے دے دو اور مجھے بھی اس کا نمبر سینڈ کر دو تاکہ میں کال کروں تو وہ اٹینڈ کر لے۔ میں نے فوراََ افتخار قیصر سے بات کی،تو اس سادہ لوح ( یا قناعت پسند )نے کہہ دیا کہ نہیں نہیں ان کا شکریہ ادا کردیں میرے علاج کا انتظام مریم اورنگزیب نے کر لیا ہے۔ میں نے پھر بھی کہا نمبر بھیج رہا ہوں جب بھی آپ کو ضرورت ہو تو کال کر دیں‘۔

میں نے میجر عامر کو کہہ دیا اس سے بہتر کون جانتا ہے کہ سرکاری اعلانات اور انتظامات در اصل کیا اور کتنے دن کیلئے ہوتے ہیں مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کچھ ہی دن پہلے ملک ریاض سے بات کر کے ملاکنڈ کے جان لیوا بیماری میں مبتلا پشتو کے ایک معروف شاعر کے علاج کیلئے 80 لاکھ روپے کا انتظام بھی کر چکے ہیں‘مگر میرا خود دار فنکار دوست سرکاری امداد پر قناعت کر گیا جس کی چاندنی چار دن بھی روشنی نہ دکھا سکی ۔اس صدارتی ایوارڈ یافتہ فنکار کو تو سرکاری ہسپتال میں بر وقت بیڈ بھی نہ مل سکااسکی اس ناگفتہ بہ حالت نے فنکاروں کو تڑپا دیا کچھ ساتھی فنکاروں نے بہت دوڑ دھوپ بھی کی مگر دیر ہو چکی تھی۔ سینئر فنکارہ عفت صدیقی نے (جو بیماری میں بھی خبر گیری کرتی رہی ) فوراََ ہی ایک شام ملال کا اہتمام کیا جہاں جونیئر اور سینئرفنکاروں کیساتھ ساتھ شاعر ادیب بھی اکٹھے ہوئے اور اس بات پر متفق ہوئے کہ جلد ہی ایک تنظیم بنائی جائے گی جو افتخار قیصر اور دوسرے بے یار و مددگار رہ جانے والے فنکاروں کی مالی امداد کا اہتمام کریگی۔

میرا خیال ہے یہ ایک اچھی کوشش ہو گی مگر اس سے پہلے اس وقت بہت سے فنکار باچاجی ممتازعلی شاہ‘ عشرت عباس‘قاضی محمد خامس ‘ نثارعادل‘ہدایت اللہ‘خیال محمد‘خالقدادامید‘ پروفیسر شاہ طہماس ‘ پروفیسر رفیق ‘عالمی شہرت یافتہ شاعر سجاد بابر‘ساجد سرحدی اور نوشابہ سمیت بہت سے فنکار ہیں جن میں سے بہت سوں کو کسی طورمالی امداد کی ضرورت نہیں مگر اپنے دوستوں‘یاروں اور ایک ساتھ دنیا کے رونق میلے میں قہقہے لگانے والے ساتھیوں کی دل جوئی کی ان سب کو سخت ضرورت ہے اپنی مصروفیات میں سے چند لمحے ان کی خبر گیری کیلئے نکال لئے جائیں یا ادبی اور ثقافتی تنظیمیں انکے اعزاز میں تقریبات کا اہتمام کریں ان کیساتھ شام منانے کاڈول ڈالا جائے تو اپنے دوستوں کی یہ محبت ان کیلئے آکسیجن کا کام دیگی اور ان کو شام کی آہٹ سے خوف نہیں آئیگا اور تنہائی کا کو ہِ بے ستوں وہ فرہاد کی سی توانائی سے کاٹ سکیں گے‘سیانے کہہ گئے ہیں کہ ہمت عالی کاعقاب اپنے پروں کی طرف دیکھتا ہے سو میرے نزدیک دوستو! اداروں کے سہاروں کی تلاش کی بجائے اپنے خلوص اور محبت کی مشعل کو روشن کرنا زیادہ بہتر ہو گا۔فراز نے راستہ دکھا دیا ہے نا….
شکو�ۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جانا