بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / آفت زدہ قسمت!

آفت زدہ قسمت!

خیبرپختونخوا کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں ترقی اور بحالی کی ذمہ داری وفاقی و صوبائی حکومتوں میں برابر تقسیم کرنے کا مقصد یہی ہوگا کہ آفت زدہ علاقوں کے رہنے والوں کی تیزرفتار امداد ممکن بنائی جا سکے لیکن حکمرانوں کی جانب سردمہری کا مسلسل مظاہرہ درحقیقت جرم کے زمرے میں شمار ہونا چاہئے کیونکہ آٹھ اکتوبر 2005ء کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں رہائشی بستیاں‘ تعلیمی ادارے اور رابطہ شاہراہوں کی تعمیرومرمت اور بحالی باوجود اعلانات بھی مکمل نہیں کی جا سکی ہے بالاکوٹ میں نیا شہر آباد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس حوالے سے مختص مالی وسائل کا بڑا حصہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کی نذر ہونے کے بعد مذکورہ منصوبہ سردخانے کی نذر ہو چکا ہے۔ مقامی افراد کی جانب سے صحافیوں کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ اور بالخصوص بالاکوٹ نیو سٹی پراجیکٹ کا مقصد ان زمینی حقائق کا مشاہدہ کرانا تھا‘ جنہیں دیکھ کر یقین ہی نہیں آتا کہ کسی قدرتی آفت کا شکار ہونے والوں کو حکومت اس طرح بے یارومددگار چھوڑ دے گی!دوہزارپانچ کے زلزلے میں بالاکوٹ کا پچانوے فیصد حصہ زمین بوس ہو گیا تھا جس سے ہزاروں کی تعداد میں خاندان عارضی رہائشگاہوں یا قریبی علاقوں میں منتقل ہو گئے تھے اور گرمجوش حکومتی اِعلانات اُور عالمی اِمداد کی بارش کو دیکھتے ہوئے اُمید تھی کہ جلد ہی مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت پرانے بالاکوٹ کے اس مقام پر دوبارہ تعمیرات نہیں کریں گے جو زیرزمین زلزلے کی فالٹ لائن پر ہے اور ایک ایسے محفوظ مقام پر رہائشی بستی بمعہ جملہ ضروریات تعمیر کی جائیگی‘ جہاں زلزلہ آنے کی صورت بھی بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات نہ ہوں۔

بالاکوٹ زلزلے سے متاثرہ علاقے میں تعلیمی ادارے زمین بوس ہوئے اور نئے سکول تعمیر ہونے تک خیمے فراہم کئے گئے جو وقت گزرنے کیساتھ یا تو خراب ہو گئے یا انکی تعداد کم تھی اور بچے آج بھی کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں‘اسی طرح تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بھی منتظر ہے کہ اس کی تعمیرنو اور علاج معالجے کی سہولیات میں اضافہ کیا جائے‘ تصور کیجئے کہ ایک تباہ کن زلزلہ جس نے سترہزار سے زائد افراد کی زندگیوں کو نگل لیا۔ ایک لاکھ زخمی ہوئے اور تیس لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا لیکن متاثرہ علاقوں میں بحالی و امدادی سرگرمیاں بدترین طرزحکمرانی کا نشانہ بن گئیں۔ ایرا کے نام سے ایک خودمختار ادارہ بنایا گیا جسکی کارکردگی اور کردار کو مقامی افراد کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کیونکہ وفاقی حکومت نے مالی وسال دوہزار سولہ سترہ کی ذیل میں ’ایرا‘ کو سات ارب روپے دیئے اور رواں مالی سال دوہزار سترہ اٹھارہ میں بھی ساڑھے سات ارب روپے دینے کا اعلان کیا گیا لیکن اس قدر بڑی رقم کہاں گئی کیونکہ برسرزمین نہ تو کوئی بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی مقامی افراد کو کسی قسم کی مالی امداد دی گئی ہے۔ عمدہ اور قابل عمل تجویز تھی کہ بالاکوٹ کے متاثرین زلزلہ کی نادرا رجسٹریشن کے ذریعے تعداد اور خاندان کے افراد کے کوائف جمع کرنے کے بعد متاثرہ افراد کو براہ راست فی خاندان اس قدر مالی امداد دی جائے جس سے وہ اپنی معیشت و معاشرت بحال کر سکیں۔ اربوں روپے ایرا کو دینے سے سرکاری ملازمین کے وارے نیارے دکھائی دیتے ہیں لیکن زلزلہ متاثرین کی قسمت وہی کی وہی ’آفت زدہ‘ ہے!

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے تحریری درخواست کی گئی ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر ’اِیرا‘ کا اجلاس طلب کریں‘ جس میں بالخصوص ’بالاکوٹ‘ اور دیگر زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیروترقی اور بحالی کے حوالے سے ’ایرا‘ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے کوئی ایسا متبادل و تیزرفتار و پائیدار بندوبست کیا جائے جس سے آٹھ اکتوبرکو ایک اور سال مکمل ہونے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو عوام اور ذرائع ابلاغ کی تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ صوبائی حکومت متنازعہ اراضی پر نیوبالاکوٹ سٹی پراجیکٹ‘ تیزی سے مکمل کرنے کی خواہش رکھتی ہے لیکن اُس کی اپنی چارسالہ حکومتی کارکردگی اِس منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی! صرف بالاکوٹ ہی نہیں بلکہ مانسہرہ اور گلیات کے علاقے بھی زلزلے سے متاثر ہوئے اور سبھی کی کہانی ایک جیسی ہے۔ کئی علاقوں میں ایسے سکول بھی ہیں‘ جن کی بنیادیں تعمیر کرنے کے بعد ٹھیکیدار نے کام روک دیا اور اب وہاں صرف بنیادیں اور کھمبے حکومتی ترجیحات اورایرا کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جبکہ بچے سکول کے ڈھانچے پر کھلے آسمان تلے حصول علم میں مگن نظرآتے ہیں! کیا انکی یہی قسمت تھی یا انکی قسمت کسی اور کی ذاتی اثاثوں اور بدنیتی کی نذر ہو چکی ہے؟ زلزلے سے زیادہ بڑا المیہ فیصلہ سازوں کی کارکردگی اور سیاسی حکمرانوں کی بے حسی ثابت ہے۔ اگر کوئی سُن رہا ہے تو جان لے کہ بھلے ہی دل برداشتہ زلزلہ متثرین کی دعائیں فوری قبول ہوتی دکھائی نہ د رہی ہوں لیکن مظلوموں کی آہیں‘ فریادیں اور بددعائیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں!