بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / ڈینگی کا عفریت

ڈینگی کا عفریت

ڈینگی جو ایک وباء کی صورت اختیار کرچکاہے کے حوالے سے حکومتی اداروں کی جانب سے تاحال وہ گرمجوشی اور سنجیدگی دکھائی نہیں دے رہی ہے جس کا یہ گھمبیر ہوتا ہوا سنگین مسئلہ متقاضی ہے۔پشاور کے تپہ خلیل کے تہکال‘ سفیدڈھیری‘ پاؤکہ‘ آبدرہ‘ اچینی اور پشتخرہ کے علاقوں میں اس وباء نے پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ سے جو پنجے گاڑھ رکھے ہیں اس کو شروع سے ہینڈل کرنے میں جہاں متعلقہ اداروں اور بالخصوص صوبائی حکومت سے جو کوتاہی سرزد ہوئی اس نقصان کا ازالہ تو ایک طرف الٹا ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ مسئلہ مزید سنگینی سے دو چار ہو رہا ہے۔تہکال میں کئی اموات کے بعدیونیورسٹی ٹاؤن کیساتھ ملحقہ موضع سفید ڈھیری دوسری بڑی بستی ہے جہاں ڈینگی سے اب تک نصف درجن سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں اور جہاں کا شاید ہی کوئی گھر یا محلہ ایسا ہوگا جہاں اس وباء نے ہنستے بستے خوشحال گھرانوں کو متاثر نہیں کیا ہوگا ۔ سفیدڈھیری میں پچھلے کئی ہفتوں سے کیا بچے کیا جوان کیا بوڑھے اور کیا خواتین ہزاروں افراد اس عفریت کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔مایوس کن امر یہ ہے کہ نہ تو اس مصیبت میں قدرتی طور پر کسی کمی کے آثار نظر آ رہے ہیں اور نہ ہی متعلقہ اداروں کی جانب سے کسی قسم کے خصوصی اور ہنگامی اقدامات اٹھتے ہوئے نظر آتے ہیں جس سے متعلقہ بستیوں میں ایک عجیب طرح کی مایوسی اور بد دلی پائی جاتی ہے۔اس وباء سے متاثرہ ایسے گھروں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے جس کا کوئی فرد بھی اس مصیبت سے نہیں بچا۔ایک دوست نے اسی طرح کے ایک گھرانے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ اس فلاں گھر میں ڈینگی سے چھوٹا بڑامرد وخواتین کوئی بھی محفوظ نہیں رہا حتیٰ کہ ان بیچاروں کے لئے دکان سے دوائی اور سودا سلف لانے والاتو کجا نلکے سے پانی بھرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔

حیرت اس بات پر ہے کہ پوری کی پوری آبادیاں ڈینگی کی لپیٹ میں ہونے کے باوجودحکومتی اداروں کی جانب سے نہ تو اس وباء سے بچاؤ کے لئے عوامی سطح پر شعور وآگاہی پھیلانے اور نہ ہی علاج معالجے کے ضمن میں مقامی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر کچھ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے اقدامات ہیں جو حکومت ڈینگی سے بچاؤ اور اس کے علاج معالجے کے سلسلے میں اٹھا سکتی ہے لیکن نہ جانے وہ کس مصلحت کے تحت یہ اقدامات اٹھانے سے معذورنظر آتی ہے اور یا پھر وہ اور اس کے متعلقہ ذیلی ادارے اس ضمن میں ٹال مٹول اور روایتی سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ آگاہی کے حوالے سے جہاں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیاپر مسلسل تشہیری مہم چلانے کی ضرورت ہے وہاں کم خرچ بالا نشین اصول کے تحت اگر ایک جانب سادہ اور عام فہم انداز میں بڑے پیمانے پربروشرزاور ہینڈ بلز تیار کر کے متاثرہ علاقوں کے ہر گلی ومحلے اورگھر تک پہنچانے چاہئیں تو دوسری طرف تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور اساتذہ کو موبلائز کر کے ان تعلیمی اداروں کے ہزاروں طلباء وطالبات کے توسط سے ان کے والدین ‘بہن بھائیوں اور دیگر قریبی عزیز واقارب اور گلی محلوں والوں کی آگاہی کے ذریعے ڈینگی کے اثرات سے بچانے میں خاطر خواہ مدد لی جا سکتی ہے۔

اسی طرح علماء کرام اور آئمہ مساجد کو اس موذی اور جان لیوا بیماری سے بچاؤ اور حفاظتی تدابیرکے ضمن میں اعتماد میں لے کر اور اس حوالے اسے انہیں مناسب رہنمائی اور تربیت فراہم کرکے خطبات جمعہ کے ذریعے جہاں عوام میں ڈینگی کے حوالے سے پائے جانے والے خوف وہراس میں کمی لائی جا سکتی ہے وہاں اسلامی تعلیمات اور ماہرین کی تجاویزکی روشنی میں بڑے پیمانے پر شعور اور آگہی بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔دوسری جانب حکومت کو متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر نہ صرف متاثرہ افراد کی تشخیص اور علاج معالجے کے لئے موبائل طبی اور تشخیصی ٹیمیں بھیجنی چاہئیں بلکہ متاثرہ افراد کو مفت تشخیص اور علاج کیساتھ ساتھ زیادہ متاثرہ افراد بالخصوص جاں بحق ہونے والے خاندانوں کی مالی امدادکا اعلان بھی کرنا چاہئے ‘اس ضمن میں اگرحکومت متاثرہ علاقوں کوآفت زدہ ڈکلیئر کرے تو یہ اور بھی مناسب ہوگا۔ بہر حال اس تمام تر بحث سے قطع نظر اس بات میں یقیناًدو آراء نہیں ہو سکتی ہیں کہ ڈینگی کی وجہ سے ہونیوالے جانی اورمالی نقصانات کے تناظر میں اب بھی جب پانی سرسے نہیں گزرااور بعض فوری اور ہنگامی اقدامات کے ذریعے اس وباء سے نمٹنے اور اس ضمن میں اصلاح احوال کی گنجائش اب بھی موجود ہے تو توقع ہے کہ تمام متعلقہ ادارے ایک ٹیم بن کر ڈینگی کے پھیلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پروہ تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے جن کا اٹھایا جانا از بس ضروری اور ناگزیر ہے۔