بریکنگ نیوز
Home / کالم / خارجہ پالیسی:کامیابی کا سفر!

خارجہ پالیسی:کامیابی کا سفر!

کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمارے ان حکمرانوں کی ترجیح ہے جو چار سال تک بناء وزیر خارجہ مقرر کئے ملک کی عالمی تنہائی کا تماشا دیکھتے رہے؟ پاکستان کے حوالے سے عالمی دھمکیوں کے تناظر اور اندرون ملک غیر یقینی سیاسی صورتحال میں سات ہفتے پہلے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانیوالے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے براستہ برطانیہ روانہ ہوئے تو مبصرین اور بالخصوص مسلم لیگ نواز کے مخالفین‘ اس دورے کو فوٹو سیشن قرار دے رہے تھے‘ ناقدین کا خیال تھا کہ شاہد خاقان عباسی مسئلہ کشمیر‘ افغانستان کیلئے نئی امریکی پالیسی‘ مسلم دنیا کے مسائل اور بھارتی سازشوں پر کھل کر بات نہیں کریں گے۔ یہ تنقید بھی نئی نہیں کیونکہ جب میاں نواز شریف وزارت عظمیٰ کے منصب پر براجمان تھے تب انہیں بھی بھارت نواز‘ مودی کا دوست اور کاروباری وزیراعظم کہا جاتا رہا ہے یہ ٹیگ مسلم لیگ نواز پر چسپاں کرکے اسے سکیورٹی رسک قرار دینے کا کھیل نیا نہیں بلکہ محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ بھی یہ کھیل کھیلا جاتا رہا بظاہر کمزور اور ناتجربہ کار وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں نہ صرف مسئلہ کشمیر پر کھل کر بات کی بلکہ بلوچستان میں بھارتی ریشہ دوانیوں اور لائن آف کنٹرول پر جارحیت کا معاملہ بھی اٹھایا۔ عالمی نظام میں ٹوٹ پھوٹ‘ بڑی طاقتوں کی چپقلش سے دنیا میں بڑھتے ہوئے تصادم کے اندیشوں‘ ماحولیاتی تباہی کے خطرات اور چین کے اہم ترین منصوبے ’ون بیلٹ ون روڈ ‘ کے تحت بننے والے سی پیک سمیت ہر اہم معاملے پر وزیراعظم نے پاکستان کی سوچ دنیا کے سامنے رکھی۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی تقریر کا بڑا حصہ مظلوم کشمیریوں سے روا رکھے گئے بھارتی سلوک پر مبنی تھا‘ یہ حصہ اس قدر مؤثر اور جاندار تھا کہ بھارتی ذرائع ابلاغ نے نہ صرف اسے نمایاں جگہ دی بلکہ تمام میڈیا ہاؤسز کی رپورٹنگ میں مشترکہ جملہ تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے سترہ بار کشمیر اور چودہ بار ہندوستان کا نام لیا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قیامِ پاکستان کے فوری بعد سے بھارت کے مخاصمانہ رویئے سے آغاز کرتے ہوئے کشمیر میں حق خود ارادیت کی جدوجہد کو نمایاں کیا۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان 70سالہ مخاصمت کی بنیادی وجہ کشمیر کے مسئلہ کو ٹھہرا کر وزیراعظم نے واضح کردیا ہے کہ تعلقات معمول پر لانے کا واحد راستہ کشمیری عوام کی امنگوں سے جڑا ہے۔ وزیر اعظم نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’کشمیری عوام سے روا رکھے گئے ظلم سے توجہ ہٹانے کے لئے یہ حربہ آزمایا جاتا ہے۔‘ بھارت کی دیدہ دلیری دیکھئے شاہد خاقان عباسی کے کہے کو دوسرے دن ہی سچ کر دکھایا اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج نے بلاجواز فائرنگ اور گولہ باری کرکے سات معصوم شہریوں کو شہید کردیا لائن آف کنٹرول کی اس خلاف ورزی کا مقصد یہی تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے اپنی تقریر کے ذریعے دنیا کی جو توجہ مقبوضہ کشمیر کی طرف مبذول کروائی ہے اسے ہٹا کر بے مقصد جھڑپ کی طرف لایا جائے وزیراعظم عباسی نے کشمیر کیلئے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب کے تقرر کا بھی مطالبہ کیا‘ جس سے اس مسئلے پر انکی گہری سوچ بچار کی عکاسی ہوتی ہے یہ الگ بات ہے کہ بھارت جو لائن آف کنٹرول پر اپنی طرف اقوام متحدہ کے مبصرین کو بھی رسائی نہیں دیتا۔

وہ خصوصی مندوب کا مطالبہ کیسے گوارا کرے گا؟ وزیراعظم نے کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کو اجاگر کرنے کے بعد پاکستان کے اندر بھی بھارتی تخریبی کاروائیوں کا ذکر کیاانکے ناقدین کے پاس اہم نکتہ پھر ایک ہی ہے کہ کلبھوشن کا ذکر نہیں ہوا‘ تاہم اس نکتے پر ڈھول پیٹنے کی بجائے وزیراعظم کے اس بیان کو دیکھنا چاہئے جس میں انہوں نے بھارت کیساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’مذاکرات کے ساتھ ساتھ‘ پاکستان میں بھارتی ریاست کی سرپرستی میں ہونیوالی دہشت گردی بھی بند ہونی چاہئے‘ یہ جملہ اکیلے کلبھوشن کے تذکرے سے زیادہ اہم ہے جس میں کلبھوشن سمیت بھارتی ریاست کی سرپرستی میں چلنے والا ہر نیٹ ورک شامل ہے خواہ وہ بھارت سے آپریٹ کرتا ہو یا کابل اور قندھار کے قونصل خانوں سے۔ وزیراعظم نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے بھارتی اور امریکی الزام کا بھی جواب دیا اور واضح کیا کہ یہ دہشت گردی افغانستان میں چار دہائیوں سے ہونے والی جنگ کا نتیجہ ہے‘ جسے افغان اور پاکستانی عوام بھگت رہے ہیں وزیراعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ افغان مسئلہ کا حل جنگ نہیں اور یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان کسی صورت افغان جنگ میں قربانی کا بکرا نہیں بنے گا وزیر اعظم عباسی نے پارٹی قیادت سے وفاداری کے اظہار میں بھی کوئی کمی نہیں رکھی۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ اٹھائیس جولائی کی صبح ناشتے کے وقت ملک میں حکومت موجود تھی لیکن دوپہر کے کھانے کے وقت پاکستان میں حکومت نہیں رہی تھی وزیراعظم نے کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی عدالتی فیصلے سے متفق نہیں تھے لیکن جمہوریت کی خاطر قبول کیا۔ وزیراعظم عباسی کا انٹرنیشنل فورم پر عدالتی فیصلے کے حوالے سے پارٹی قیادت کے مؤقف کو دہرانا ثابت کرتا ہے کہ وزارت عظمیٰ پانے کے بعد وہ آپے سے باہر نہیں ہوئے مجموعی طور پر وزیراعظم عباسی کا دورہ کامیاب رہا‘ جس سے امید پیدا ہو چلی ہے کہ امریکہ پاکستان کے بارے میں اپنے یک طرفہ مؤقف پر نظرثانی کریگا۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر شہریار تنویر۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام۔)