بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / حکومت وکیل کرنے کیلئے مدد کرے ٗمشال خان کے والد کی اپیل

حکومت وکیل کرنے کیلئے مدد کرے ٗمشال خان کے والد کی اپیل

پشاور ۔صوبہ خیبرپختونخوا کی باچہ خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کے الزام میں قتل کیے جانے والے طالب علم مشال خان کے والد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے بیٹے کے مقدمے میں وکیل کرنے کے لیے ان کی مدد کرے۔بی بی سی سے گفتگو میں مشال خان کے والد محمد اقبال نے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کی مالی مدد سے اپنی مرضی کے جرائم کے شعبے کے دو ماہر وکیل کرنا چاہتے ہیں۔محمد اقبال نے کہاکہ پشاور اور دیگر مقامات سے وکیل اپنے خرچے سے آ تو رہے ہیں لیکن ہم ایسے وکیل چاہتے ہیں جو آخر تک ہمارے ساتھ چلیں ٗکریمنل مقدمات کے ماہر ہوں ٗ جو آخر تک نہ ڈگمگائیں اور جو ہری پور سے ہوں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہمیں کسی جانب سے کوئی دھمکی نہیں لیکن خدشات ضرور ہیں جس کی وجہ سے میری دونوں ٹاپ کرنے والی بچیاں اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پا رہی ہیں اور گھر پر بیٹھی ہیں۔محمد اقبال نے کہا کہ ان کا مشال اب واپس نہیں آسکتا اس کا انہیں ادراک ہے تاہم یہ مقدمہ ان کے بقول حکومت کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔

انھوں نے کہا کہ مشال واپس نہیں آسکتا لیکن جو مشال پاکستان کے ہر گھر میں ہے ٗاس کے تحفظ کی ضمانت حکومت دے ٗاس سے پاکستان کا چہرہ روشن ہو جائیگا۔محمد اقبال نے کہا کہ باچا خان یورنیورسٹی نے ان سے اب تک اس واقعے کے بارے میں کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔

‘یونیورسٹی نے تو اب تک اس واقعہ کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی ہے ٗ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں یونیورسٹی کے اندر بد انتظامی کا اعتراف کیا گیا ہے شاید اس خوف سے اس نے کچھ نہیں کیا۔ہری پور میں قائم انسداد دہشت گردی کی عدالت اب ہر ہفتے تین روز اس مقدمے کی سماعت کرے گی۔ اس کی وجہ دیگر وکلا کی مصروفیات بتائی گئی ہیں۔ کیس کی آئندہ سماعت اب 26 ستمبر کو ہوگی۔