بریکنگ نیوز
Home / کالم / الیکشن ریفارمر

الیکشن ریفارمر


فارسی زبان میں ایک سبق آموز مصرعہ ہے ’’خشت اول چو نہد معمار کج ‘تا ثریا می رود دیوار کج‘‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دوران تعمیرکسی دیوار کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی جائے تو پھر وہ سالم دیوار ٹیڑھی ہی بنتی ہے الیکشن کسی بھی جمہوری نظام کی عمارت کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے یہ دیوا ر کی اینٹ ہوتی ہے اسے اگر کج رکھ دی جائے گی تو دیوار کسی بھی وقت دھڑام سے گر سکتی ہے کچھ عرصے سے حکومت اور اپوزیشن کے حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ الیکشن کمیشن اور الیکشن کے معاملات میں کس قسم کی اصلاحات درکار ہیں ؟ اگر الیکشن کمیشن کو چلانے والے یعنی اس کے ارباب بست و کشاد درست قسم کے لوگ ہوں گے تو کیا مجال کہ نا اہل یا کرپٹ عناصر پارلیمنٹ جیسی مقدس جگہ میں داخل ہو سکیں کئی سوالات اٹھتے ہیں اور ہر سوال دوسرے سوال کے ساتھ جڑاہوا ہے الیکشن کمیشن کی تشکیل کیسے ہو؟ یہ بنیادی سوال ہے اب تک تو ہم یہ دیکھتے آئے ہیں کہ اس ادارے کے کرتا دھرتوں کی تعیناتی میں سیاسی مصلحتوں کا زیادہ ہاتھ ہوتا ہے اس طریقہ کا ر کو ہمیں ختم کرنا ہو گا چیف الیکشن کمشنر اور چاروں صوبوں کے صوبائی الیکشن کمشنروں کی تعیناتی کا اختیار سپریم کورٹ کو دیا جائے اور وہ صرف سپریم کورٹ کو جواب دہ ہوں اسی طرح الیکشن کمیشن اور اس کے صوبائی اداروں کو چلانے کیلئے جو عملہ درکار ہوتا ہے۔

اس کی سلیکشن کااختیار الیکشن کمشنروں کو دیا جائے اس ملک میں جو کوئی بھی صدر بنا یا وزیراعظم کے منصب پر تعینات ہوا تو پھر اس نے یہ کوشش ضرور کی کہ وہ تا حیات اقتدار میں رہے اس لئے ضروری ہے کہ الیکشن اصلاحات کرکے یہ پابندی لگا دی جائے کہ کوئی بھی شخص دو مرتبہ سے زیادہ وزیراعظم نہیں رہ سکتا الیکشن مہم کے دوران ہر سیاسی پارٹی جلسوں پر کروڑوں روپے خرچ کر دیتی ہے اور آج تک الیکشن کمیشن کو یہ جرات نہ ہو سکی کہ کسی کو اس جرم کی پاداش میں قرار واقعی سزا دے سکے اس بات کیلئے الیکشن اصلاحات کی جا سکتی ہیں او ر جلسوں اور جلسوں کے بجائے الیکٹرانک میڈیا کے استعمال کی قانون میں گنجائش مہیا کی جاسکتی ہے اس عمل سے لا اینڈآرڈر کا کوئی مسئلہ بھی پیدا نہ ہو گا آخر تہذیب یافتہ ممالک میں یہی کچھ تو کیاجاتا ہے جدید ٹیکنالوجی کا آخر ہم لوگ بھی استعمال کیوں نہ کریں۔

اس طریقہ کار سے الیکشن کمیشن کو بھی باآسانی پتہ چل سکے گا کہ الیکشن مہم میں کس کس سیاسی پارٹی نے کتنا کتنا خرچہ کیا ہے کیونکہ الیکٹرانک میڈیا کو ہر قسم کی پے منٹ بذریعہ بینک چیک ہوتی ہے الیکشن اصلاحات میں تمام سیاسی پارٹیوں کو اس بات کا بھی پابند کیا جائے کہ وہ الیکشن کی تاریخ سے کم ازکم ایک سال پہلے جملہ مسائل کو حل کرنے کے لئے ان کا جو پروگرام ہے اسے عوام میں سیمینارز اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے مشتہر کریں تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ آخر ان کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ جس سے وہ یہ مسائل حل کرینگے الیکشن کمیشن کی اصلاحات میں سیاسی پارٹیوں کو سختی سے اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ صرف ایشوز پربات کریں گی نہ کہ شخصیات یا انکی کردار کشی پر‘ کاغذات نامزدگی کے وقت سکروٹنی کے عمل کو سخت سے سخت بنایا جائے اور اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف تمام اپیلیں ایک ماہ کے اندر اندرلازمی نبٹا دی جائیں۔