بریکنگ نیوز
Home / کالم / مالیاتی خسارہ در خسارہ!

مالیاتی خسارہ در خسارہ!

پانامہ پیپرز کے عنوان سے خفیہ اثاثہ جات رکھنے والے چند بااثر‘ سرمایہ دار اور مختلف ممالک کے حکمران خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام اپریل 2016ء میں بے نقاب ہوئے۔ یہ انکشافات دل ہلا دینے والے تھے کیونکہ صرف دنیا کے چند ترقی یافتہ ممالک ہی نہیں بلکہ فہرست میں ان ممالک کے قومی فیصلہ سازوں کا ذکر بھی درج تھا جہاں کے عوام غربت و افلاس سے دوچار ہیں اور جن ممالک پر قرضوں کا بوجھ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اقتصادی ترقی تو دور کی بات ان ممالک کے لئے قرض و سود کی اقساط ادا کرنے کیلئے مزید قرض حاصل کرنے کے سوا چارہ نہیں رہا‘بدعنوان حکمرانوں کی فہرست میں نواز شریف خاندان کا نام بھی شامل تھا‘ جن کیخلاف حزب اختلاف کی جماعتوں نے عدالت سے رجوع کیا اور قریب 17ماہ میں کوئی دوسرا کام نہیں ہوا مگر پانامہ پیپرز کی تہہ میں چھپے حقائق کھوج نکالے گئے لیکن اگر ہم پانامہ پیپرزمعاملے کا جائزہ لیں تو پاکستانی سیاست کی طرح یہ معاملہ بھی ان خصوصی افراد اور ملک کے خصوصی اداروں کے درمیان تھا‘ جن کی ترجیحات میں عوام کی کوئی اہمیت نہیں۔ پاکستان کی سیاست 1 ہزار 174 خاندانوں کے گرد گھومتی ہے۔ یہ وہی خاندان ہیں جو ملک کے قانون سازاسمبلیوں اور سینٹ کی رکنیت رکھتے ہیں!پاکستان کے انتخابی نظام کے بارے ایک تحقیق بطور خاص ’دعوت فکر‘ ہے۔

ڈاکٹر مغیث احمد نے عام انتخابات کے نتائج کی روشنی کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبہ پنجاب کے شہری و دیہی علاقوں میں ووٹروں کے رجحانات پر مبنی ایک جائزہ کیا جس سے معلوم ہوا کہ ’فیصل آباد‘ میں ہوئے 1977ء‘ 1985ء‘ 1988ء‘ 1990ء‘ 1993ء‘ 1997ء اور 2002ء میں ووٹوں کی اکثریت ’جٹ‘ راجپوت‘ آرائیں‘ بلوچ‘ گجر اُور کھرل‘برداریوں کے حصے میں آئی اور اِنہی برادریوں سے تعلق رکھنے والے انتخابی معرکے میں کامیاب رہے۔مردم شماری 2017ء کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان صرف 1 ہزار 174 خاندانوں کا ملک نہیں بلکہ اس میں 3 کروڑ سے زائد خاندان آباد ہیں اور انہی تین کروڑ خاندانوں کیلئے دو اقتصادی (درآمدی و برآمدی) خسارے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔تجارتی خسارہ: پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا جس طرح مالی سال 2016-17ء کے دوران دیکھنے میں آیا کہ ’’53 ارب ڈالر مالیت کی درآمدات کی گئیں۔‘‘پاکستان کی اقتصادی تاریخ میں ایسا بھی پہلے کبھی نہیں ہوا کہ تجارتی خسارہ 32.58 ارب ڈالر رہا ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر 32.58 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ کیسے پورا کیا جائے؟ خوش قسمتی ہے کہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی ہر سال قریب ’20 ارب ڈالر‘ کی ترسیلات زر کرتے ہیں۔

سوال: بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر شامل کرنے کے بعد باقی ماندہ ’12 ارب ڈالر‘ کا تجارتی خسارہ کس مد سے پورا کیا جائے؟ جواب: قرض‘ قرض اور مزید قرض لے کر ہرسال بڑھتے چلے جانے والے تجارتی خسارے کو پورا کیا جائے۔ پاکستان کی اقتصادی تاریخ میں ایسا بھی پہلی مرتبہ ہی ہو رہا ہے کہ ملکی جاری (کرنٹ اکاؤنٹ) خسارہ 12.09 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہو جیسا کہ مالی سال 2016-17ء کے دوران دیکھنے کو ملا۔ سوال ’12 ارب ڈالر‘ سے زائد جاری کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کس طرح پورا جائے؟ جواب: قرض‘ قرض اور مزید قرض لئے جائیں۔تصور کیجئے کہ پاکستان کا جاری خسارہ ملک کی مجموعی خام پیداوار سے حاصل ہونیوالی آمدنی کے چار فیصدسے زیادہ ہو چکا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی روپے پر دباؤ ہے اور اس کی قدر میں غیرمعمولی کمی بلکہ مزید کمی ناگزیر ہو چکی ہے۔

عام پاکستانیوں کے لئے روپے کی قدر میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ پٹرول‘ ڈیزل‘ بجلی‘ کوکنگ آئل‘ دالیں اور چائے کی قیمتیں بڑھ جائیں گی لیکن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں یہ اضافہ 1 ہزار 174 خاندانوں کیلئے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا اگر پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی جاتی ہے تو اس کا مالیاتی طور پر مطلب یہ ہوگا کہ ملک کے تین کروڑ خاندانوں پر 25ہزار روپے سالانہ کا اضافہ بوجھ ڈال دیا جائے لیکن 1 ہزار 174 برسراقتدار خاندانوں کیلئے یہ امر لائق تشویش نہیں۔اقتصادی خسارہ پیدا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ حکومتی اخراجات اور آمدنی میں توازن باقی نہ رہے۔ تصور کیجئے کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ 1.863 کھرب روپے ہے جو ملکی تاریخ کا بلند ترین خسارہ ہے۔خطرے کی گھنٹی: پاکستان کے ہر ایک خاندان کے حساب سے ہماری حکومت کو سالانہ 60ہزار روپے مالیاتی خسارہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے اور اس خسارے کو بھی پورا کرنیکی صورت یہی ہے کہ قرض‘ قرض اور مزید قرض لئے جائیں۔

مالیاتی خسارہ تمام اقتصادی خرابیوں کی جڑ ہے پاکستان کے مالیاتی خسارے سے متعلق حکومتی اعدادوشمار 6فیصد کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن اگر چارسو ارب روپے کا گردشی قرض‘ دوسوپچاس ارب روپے کے واجب الادأ ٹیکس ادائیگیاں‘ 173 ارب روپے کے مقامی قرضہ جات کو شمار کیا جائے تو قومی مالیاتی خسارہ‘ مجموعی قومی آمدنی کے تناسب سے ’9 فیصد‘ سے زیادہ ہو جائے گا۔ اگرکرنٹ اکاؤنٹ اور مالیاتی خسارہ یکجا کر کے شمار کیا جائے تو یہ جی ڈی پی کے 13فیصد حصے کے مساوی ہوجاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی ’اقتصادی سکیورٹی کو خطرات درپیش ہیں اور یہ خطرات اس حد تک گھمبیر ہیں کہ ملکی تاریخ میں پہلے کبھی بھی ایسے دگرگوں اقتصادی حالات نہیں رہے۔ لمحۂ فکریہ یہ بھی ہے کہ جب ہم قومی سلامتی کی بات کرتے ہیں تو اقتصادی سکیورٹی جیسے اہم محرک کو مسلسل نظرانداز کر دیتے ہیں! (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)