بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / عمران خان مجھے ہٹانے کی وجہ بتائیں ٗ خورشید شاہ

عمران خان مجھے ہٹانے کی وجہ بتائیں ٗ خورشید شاہ

سکھر۔اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ 4 سال ایمانداری سے بطوراپوزیشن لیڈرذمے داریاں نبھائیں، ایشوز پر اپوزیشن کی ہے،میرے علاوہ کوئی اس عہدے کے لیے موزوں ہے تو یہ اچھی بات ہے، عمران خان قوم کو بتا دیں کہ اپوزیشن لیڈر کو تبدیل کرنے کی کیا پس پردہ ضرورت پڑ گئی ہے۔ ہمیشہ اپوزیشن کو متحد کرنے اور ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی ہے جبکہ جس سیاستدان کے قول و فعل میں تضاد ہو وہ قوم کی کیا قیادت کرے گا۔

پارلیمنٹ ہی ایسا ستون ہے جو ملک کو مضبوط کر سکتا ہے، پیپلزپارٹی جمہوریت کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی، ہم گڈا گڈی کا کھیل نہیں کھیلیں گے، ہمارا ایجنڈا ہے کہ ملک میں سسٹم برقرار رہے اور پارلیمنٹ چلتی رہے لیکن صرف ڈرامہ کیا جارہا ہے ، پی ٹی آئی ڈرامہ کر رہی ہے کہ پارلیمنٹ میں کس طرح بد نظمی پیدا کی جائے،عمران خان ایم کیوایم کے پاس جاکر اپنا تھوکا ہوا چاٹ رہے ہیں،جو سیاستدان عدالتوں اور انصاف سے بھاگتا ہے، وہ نظام سے غائب ہو جاتا ہے۔

نوازشریف کی کسی ڈیل کامجھے پتہ نہیں، یہ عمران خان بتا سکتا ہے۔پیر کوسکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ ہمیشہ اپوزیشن کو متحد کرنے اور ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی ہے جبکہ جس سیاستدان کے قول و فعل میں تضاد ہو وہ قوم کی کیا قیادت کرے گا۔ سیاستدان کے قول و فعل میں اتنا فرق نہیں ہونا چاہئے اگر سیاستدان کے قول و فعل میں فرق ہو تو وہ قوم کی کیا خدمت کرے گا۔

دنیا کے لیڈر 50 سال پہلے دیکھتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے شہادت سے قبل جو پیشگوئیاں کی تھیں وہ چیزیں نظر آئیں۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ مشاورت کے بعد ہی چیئرمین نیب کا تقرر ہوتا ہے، انہوں نے چیئرمین نیب کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں سے مشورہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کی تقرری کے لئے حکومت اور اپوزیشن مل کر کام کر ٰن گی حکومت تین نام دے گی اور ان پر غور کیا جائے گا مگر میں نے روایت ڈالی کہ اپوزیشن بھی نام دے گی۔

اگر اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم کسی نام پر متفق نہیں ہوئے تو پھر 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائی جائے گی اور وہاں پر رائے شماری ہو گی۔ حکومت اور اپوزیشن کے ارکان برابر ہیں اور اگر سات ارکان کسی نام پر متفق ہو جائینگے تو اس شخص کو چیئرمین نیب لگا دیا جائے گا اگر پارلیمانی کمیٹی میں ووٹ برابر ہو گئے تو پھر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا اور اگر وہاں بھی ووٹ برابر ہو گئے تو پھر معاملہ سپریم کورٹ چلا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی میں تین رکن پی پی کے ہونگے اور چھ حکومت کے ہونگے اگر پی ٹی آئی کو شک ہے کہ پی پی حکومت سے مل کر یہ کام کرے گی تو پھر حکومت اور پی پی کے 12میں سے 9 ارکان ہیں اگر پی ٹی آئی ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر اپوزیشن لیڈر لے بھی آتی ہے تو پھر بھی حکومت اور پی پی مل کر یہ کام کر سکتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ملک کے اندرونی حالات اور سیاسی صورتحال اچھی نہیں، 30 سال میں ایسے حالات کبھی نہیں دیکھے، دنیا میں کہیں ہماری لابنگ نظر نہیں آتی۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم نے انتخابی اصلاحات کے ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دیا جب کہ عمران خان کہتے ہیں کہ اپوزیشن لیڈر کو ہٹانا میرا حق ہے، جو صوبہ نہیں سنبھال سکا وہ ملک کو کیا سنبھالے گا، اگر ایم کیوایم ملک دشمن تھی تو ان کے ساتھ کیوں بیٹھ رہے ہیں؟ یا تو عمران خان ٹھیک تھے یا ایم کیوایم۔ خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان ایم کیوایم کے پاس جاکر اپنا تھوکا ہوا چاٹ رہے ہیں۔

پی ٹی آئی نے ایم کیوایم کے بارے میں جو کہا اس پر وہ ان سے معذرت کریں ،پی ٹی آئی نے کراچی والوں کی جو دل آزاری کی اس پر معذرت کرنی چاہیے۔خورشید شاہ نے کہا کہ 4 سال ایمانداری سے بطوراپوزیشن لیڈرذمے داریاں نبھائیں، میرے علاوہ کوئی اس عہدے کے لیے موزوں ہے تو یہ اچھی بات ہے، ایشوز پر اپوزیشن کی ہے۔ اس میں کئی مرتبہ ایسے ایشوز بھی آئے جن میں تقریباً پی ٹی آئی اسمبلیاں چھوڑ چکی تھی مگر ان کو سمجھا کر بتایا کہ سیاست کیا ہوتی ہے۔

جمہوریت کیا ہوتی ہے، ان کے پاس ناتجربہ کاری تھی۔ وہ کہتے تھے سڑکوں پر نکلیں گے، سارا کام ختم ہو جائے گا، میں نے اعتزاز احسن اور دیگر سب نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ پارلیمنٹ ہی ایسا ستون ہے جو ملک کو مضبوط کر سکتا ہے، اور ہمیں اپنا دباؤ پارلیمنٹ کے اندر بڑھانا چاہئے جس کے نتیجے میں بہت سی تبدیلیاں بھی آئیں۔ اس کے بعد ایم کیو ایم نے بھی ایسا کام کیا ان کو بھی سمجھایا اور حکومت کو بھی سمجھایا کہ ان کے استعفے منطور نہ کریں۔

پیپلزپارٹی جمہوریت کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی، پی پی قوم سے بددیانتی نہیں کرے گی،ہم گڈا گڈی کا کھیل نہیں کھیلیں گے، ہمارا ایجنڈا ہے کہ ملک میں سسٹم برقرار رہے اور پارلیمنٹ چلتی رہے لیکن صرف ڈرامہ کیا جارہا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی صرف ڈرامہ کر رہی ہے کہ کسی طریقہ سے پارلیمنٹ میں کس طرح بد نظمی پیدا کی جائے ۔ میں کسی کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتا۔ میری بات ریکارڈ پر ہے کہ پی ٹی آئی کے ایکشنز نے اور پی پی آئی رہنما کے ایکشنز نے ہمیشہ نوازشریف کو مضبوط کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تقسیم اپوزیشن حکومت کو مضبوط کرتی ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے پاس واضح ایجنڈا ہے کہ نظام چلتا رہے گا۔

پارلیمنٹ چلتی رہے گی۔ اپنی مدت پوری کرتی رہے گی۔ یہ نظام مضبوط ہونے سے ہی پاکستان مضبوط ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹیاں آپس میں گھتم گتھا ہیں جس کی وجہ سے عوام متاثر ہو رہی ہے۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ میں نے کہا تھا کہ نوازشریف کو واپس آنا چاہئے اور وہ آئیں گے اور آ کر کیسز کا سامنا کرنا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو سیاستدان عدالتوں اور انصاف سے بھاگتا ہے اور پھر وہ نظام سے غائب ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ وہ بات کی ہے جو پاکستان اور اس کے اداروں کے لئے بہتر ہو، میں نے بہت کچھ دیکھا ہے میری سیاست کو 2018ء میں 50 سال ہو جائینگے۔

میں نے بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں بہت سے ڈکٹیٹروں کو دیکھا ہے کوڑے کھائے ہیں۔ جیلیں کاٹی ہیں۔ اقتدار دیکھا ہے، مخالفت دیکھی ہے۔ ان سب چیزوں کا نچوڑ ذہن میں آتا ہے پھر بات کرتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے؟ نوازشریف کی کسی ڈیل کے حوالے سے مجھے پتہ نہیں مگر یہ عمران خان بتا سکتا ہے۔ خورشید کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ایم کیو ایم کو اتنا برا بھلا کہا اور آج ہاتھ جوڑ کر ان کے پاس جا رہے ہیں کہ ہمیں ووٹ دو ان پہلے یا ایم کیو ایم صحیح تھی یا عمران خان صحیح تھا۔

عمران خان نے ایم کیو ایم کے لئے کیا کیا نہیں کیا۔ آج میڈیا کو یہ دکھانا چاہئے۔ آج ان کے گھر جا رہے ہیں اپنا تھوکا ہوا چاٹنے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان قوم کو بتا دیں کہ اپوزیشن لیڈر کو تبدیل کرنے کی کیا پس پردہ ضرورت پڑ گئی ہے۔

لیڈر قوم کے سامنے کھلی کتاب ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا، اینکرز، ادیب، دانشور اور پاکستان کے نوجوان یہ بتا دیں کہ چار پانچ سال کے دوران عمران خان نے کوئی پروگرام دیا ہے جو آدمی اپنا صوبہ جو لوگوں نے اسے دیا وہ اس کو نہیں سنبھال سکا اور اس نے خود تسلیم کیا کہ میں ناکام ہوا ہوں۔ اب وہ بندہ ملک کو کیا دے سکتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کو ہٹانا میرا فرض ہے تو وہ ہٹا دے۔ اس کو کس نے روکا ہے۔