بریکنگ نیوز
Home / کالم / قومی خزانے کا ضیاع

قومی خزانے کا ضیاع

بعض باتیں ہماری سمجھ سے تو باہر ہیں شاید آپ کی سمجھ میں ہوں! مثلاً جب زرداری صاحب ایک بڑے عرصے تک دبئی میں قیام پذیر تھے اور کسی وجہ سے وہ کراچی آنا نہیں چاہتے تھے تو تواتر سے تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد دبئی میں ہی میٹنگز منعقد کرتے جن میں سندھ کی کابینہ کے اراکین ‘ اعلیٰ سرکاری افسر اور وزیراعلیٰ سندھ باقاعدگی سے شرکت کرتے ایسا ایک بار نہیں ہوا بار بار ہوا ہم اکثر سوچتے کہ دبئی تو بڑا مہنگاشہر ہے وزراء اور اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کی جب فوج ظفر فوج وہاں جاتی ہو گی تو ان کے آنے جانے کا خرچہ کون برداشت کرتا ہو گا یہ لوگ بزنس کلاس سے نیچے تو ٹریول ہی نہیں کرتے اکانومی کلاس میں تو غریب غرباً بیٹھتے ہیں اور یہ لوگ بھلاکب یہ چاہتے ہیں کہ ان کے شانوں کیساتھ ان کا شانہ لگے اسی طرح دبئی میں ان کے قیام و طعام کا جوخرچہ آتا ہو گا اس کی پے منٹ کس کھاتے سے کی جاتی ہو گی کبھی کسی خدا کے بندے نے نہ کسی اخبار نے یہ سوال اٹھائے اور نہ پارلیمان نے‘ وہی کام جو زرداری صاحب اپنی خود ساختہ جلا وطنی کے دوران کرتے تھے اب برسر اقتدار حکومت کے قائدین نے بھی شروع کر دیا ہے فرق یہ ہے کہ اب میٹنگ کی جگہ دبئی کے بجائے لندن ہو گئی ہے جو بلاشبہ دنیا کا مہنگا ترین شہر ہے ہم کبھی کبھی یہ بھی سوچتے ہیں کہ یہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان ہم نے کس مقصد کیلئے رکھا ہوا ہے ؟ کیا موصوف کا یہ فرض نہیں بنتا کہ وہ باریک بینی سے دیکھے کہ قومی خزانے کو کہیں کوئی اپنے مخصوص مقاصد کیلئے تو استعمال نہیں کر رہا؟

اگر کر رہا ہے تو کیا اس عہدے پر تعینات شخص کو مندرجہ بالا دو واقعات کو ٹیسٹ کیس بنا کر قوم کو نہیں بتانا چاہئے کہ متذکرہ بالا دو کیسزمیں جو اخراجات ہوئے چونکہ وہ خالصاًسیاسی نوعیت کے تھے وہ کس مد سے ہوئے ؟ اگر تو وہ کسی سرکاری مد سے ہوئے تو جس کسی نے بھی کئے اس سے ان کی ریکوری لازم ہے نہ جانے ہمارے حکمران یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ قرضے لے لے کر ملک کا نظام چلا رہے ہیں اس ملک پر قرضوں کا اتنا بوجھ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ ایک لاکھ وپے سے زیاد ہ رقم کا مقر وض ہے ارباب اقتدار کو تو پائی پائی لگانے میں احتیاط کرنی چاہئے ان کو تو پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہئے ان کو اللے تللے بالکل زیب نہیں دیتے وہ بادشاہوں کی طرح کھانا پینا اور رہنا سنہا چھوڑدیں جب دنیا ان کی فاقہ مستی دیکھتی ہے تو حیران ضرور ہوتی ہے اور پاکستانی عوام پر ترس بھی کھاتی ہے کہ جن کے وسائل کو وہ دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر کھا پی گئے ہیں اور اب بھی باز نہیں آ رہے کیا وی وی آئی پی کلچر میں کوئی فرق آیا ہے ؟

بالکل نہیں ! ہاں زبانی جمع خرچ بہت ہے ایک اخباری خبر کے مطابق امریکہ میں پاکستان کے سفارتخانے والوں نے وزیراعظم کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران 4 بڑی لیموزین گاڑیاں پورے پندرہ دن کے لئے کرایہ پر لیں حالانکہ ان کا دورہ پندرہ دنوں سے کافی کم تھا جبکہ فرانس کی وہاں جو ایمبیسی ہے اس نے ان لیموزین کے مقابلے میں کرائے کیلئے کافی سستی گاڑیاں ہائر کیں اپنے حکمرانوں کے دورہ امریکہ کے لئے اور وہ بھی صرف 4 دن کیلئے جو خرچہ ٹرانسپورٹ کے اس انتظام پر ہمارے سفارتخانے نے کیا وہ فرانس کے سفارت خانے والوں کے اس مقصد کے لئے خرچے سے کئی گناہ زیادہ تھا ظاہر ہے وزیراعظم صاحب کو اس بات کی تفصیلات سے آگاہی نہ ہوگی لیکن ضروری ہے کہ متعلقہ سفارتکاروں کے کان مروڑے جائیں قرضوں پر جن سفارتکاروں کا ملک چل رہا ہو ان کو قومی خزانے سے اخراجات سوچھ سمجھ کر کرنے چاہئیں قومی خزانے کو حلوائی کی دکان اوردادا جی کا فاتحہ نہیں بنانا چاہئے ۔