بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / اجنبی حکمران!

اجنبی حکمران!

وفاقی حکومت قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کو ملک کے دیگر حصوں کے مساوی حقوق دینے میں جس حیل وحجت سے کام لے رہی ہے وہ کسی بھی طرح مفید نہیں۔ انسداد دہشت گردی کے خلاف ’بیس نکاتی‘ قومی حکمت عملی کے تحت وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کی قسمت کا فیصلہ اب تک ہوجانا چاہئے تھا لیکن بیوروکریسی کے جادوگری کے اسیر‘ اجنبی حکمران قبائلی علاقوں پر جو قطرہ قطرہ عنایات کی بارش کر رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے تو لگتا ہے کہ آئندہ کئی سو برس تک بھی قبائلی علاقوں کی جداگانہ حیثیت تبدیل نہیں ہوسکے گی‘ جس کا منفی اثر ملک کے بندوبستی علاقوں بالخصوص خیبرپختونخوا کے اضلاع بشمول پشاور میں امن و امان کی صورتحال اور وسائل پر آبادی کے بوجھ کی صورت دیکھا جا سکتا ہے۔فروری 2017ء میں وفاقی وزارت سیفران نے نہایت ہی رازداری سے ایک اعلامیہ جاری کیا‘ جس میں ایف آئی اے کے ایکٹ 1974ء کو وسعت دیتے ہوئے ایف آئی اے کو قبائلی علاقوں کے چند منتخب حصوں تک وسعت دے دی گئی تھی اِس حکمنامے کا بنیادی مقصد ’پاک افغان طورخم سرحدی علاقے میں موجود انتظامیہ کے اختیارات بڑھانا تھا۔ قبائلی علاقوں میں پہلے ہی سے حکمرانوں اور نگرانی کرنیوالوں کی کمی نہیں تھی جنکے اختیارات میں اضافہ اور ایف آئی اے کے دائرۂ کار کو وسعت دینے سے عام قبائلیوں کا بھلا ہو نہ ہو ’’اختیارات پر اختیارات‘‘ ملنے سے پولیٹیکل انتظامیہ کے وارے نیارے ضرور ہو گئے ہیں!

امید تو یہ تھی کہ پولیٹیکل انتظامیہ کے اختیارات اور حکمرانی کو رفتہ رفتہ کم کرکے پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح قوانین اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو وسعت دی جائے گی اور مرحلہ وار قبائلی علاقوں کو بندوبستی علاقوں کے مساوی لایا جائے گا لیکن شاید ایسا سیاسی و عسکری حکام دونوں ہی کرنا نہیں چاہتے اور ایک ایسے آزاد علاقوں کی حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں جہاں انتہاء پسند‘ دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولت کار باآسانی روپوش ہو سکیں! اچھے اور برے عسکریت پسندوں کی ریاستی پشت پناہی کا یہ ماحول کسی بھی صورت پاکستان کے لئے خوش آئند نہیں۔ سیفران کی جانب سے جاری ہونیوالے اعلامیہ سے یہ دلچسپ صورتحال بھی پیدا ہوئی ہے کہ جس سے پاکستان کے ذرائع ابلاغ کی ’تن آسانی‘ کا راز ایک مرتبہ پھر فاش ہوا ہے۔ اکثر نشری و اشاعتی اداروں نے بناء تحقیق اور اعلامیے کے تکنیکی متن کو سمجھے بغیر یہ کہنا شروع کر دیا کہ قبائلی علاقوں میں ملک کے دیگر حصوں کی طرح عام عدالتیں قائم کی جائیں گی اور وہاں ملک کے دیگر حصوں کی طرح پولیس کا نظام بھی رائج کر دیا گیا ہے حالانکہ اس قسم کی کوئی بات بھی اعلامیے میں نہیں کی گئی۔ یہ غلط فہمی تاحال موجود ہے اور ضروری تھا کہ جب ذرائع ابلاغ کی اکثریت غلط رپورٹنگ کر رہی تھی تو سیفران سے وابستہ حکام سرکاری وضاحت جاری کرتے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

سب سے زیادہ خرابی ٹوئٹر اور فیس بک استعمال کرنے والوں کی جانب سے دیکھنے میں آئی جنہوں نے خوشی و مسرت اور وفاقی حکومت کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے شروع کر دیئے۔ فوری طور پر ایسے ماہر اور تجزیہ کار بھی میدان میں کود پڑے جنہوں نے حقائق معلوم کئے بناء اس اقدام کو قبائلی علاقوں کی قسمت تبدیل کرنے سے تعبیر کیا۔ فوری خبر دینے اور سبقت لیجانے کی دوڑ میں ذرائع ابلاغ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی جس بھیڑچال کا شکار ہیں وہ کسی بھی صورت مثبت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ’ایف آئی اے‘ کے قانون کی چند شقوں کو ’قبائلی علاقوں‘ کے ایک خاص حصے تک وسعت دی گئی جس سے وفاق کے زیرکنٹرول لیویز فورس کے اختیارات میں اضافہ کرتے ہوئے اُنہیں ایف آئی اے کے اختیارات بھی دے دیئے گئے۔ یہ توسیع قبائلی علاقوں سے متعلق 8 قوانین پر اثرانداز ہوگی جن میں 1946ء کا فارن ایکٹ‘ 1974ء کا پاسپورٹ ایکٹ‘1979ء کا امیگریشن آرڈیننس‘ 1981ء کا ایگزٹ فرام پاکستان (کنٹرول) آرڈیننس)‘ 2002ء کا پریونشن اینڈ کنٹرول آف ہیومن ٹریفکنگ آرڈیننس‘ 2002ء کا نادرا آرڈیننس‘ 1910ء کا الیکٹرسٹی ایکٹ اور 2010ء کا منی لانڈرنگ ایکٹ سے متعلق ہے۔ ان سبھی قوانین کا مقصد و مقصود یہی دکھائی دیتا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے اس بات کو زیادہ ضروری سمجھا ہے کہ سب سے پہلے قبائلی علاقوں میں رہنے والے پاکستانیوں اور غیرملکی افراد کی نقل و حرکت اور سرحد پار آمدورفت کو ضوابط کے تابع بنایا جائے۔

قبائلی علاقوں کے حکمران وہاں کی ’پولیٹیکل انتظامیہ‘ ہوتی ہے اورسیفران اعلامیے سے ’خیبر ایجنسی‘ کے پولیٹیکل ایجنٹ و دیگر ماتحت اہلکاروں کو مزید اختیارات حاصل ہوگئے ہیں جو پہلے ہی ان علاقوں کے انتظامی نگران اور جوڈیشل آفیسرز ہوتے ہیں اور بیچارے کسی عام قبائلی کی مجال نہیں ہو سکتی کہ وہ اِن حکمرانوں کے سامنے کھڑا بھی ہو سکے! وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کی انتظامیہ نے خوف و دہشت کا ماحول برقرار رکھا ہے جس سے عام قبائلیوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ اُن پر ایف سی آر قواعد کی ظالمانہ شقیں لاگو کی جاتی ہیں اور اس انصاف کے اس پورے عمل میں انہیں کسی بیرونی عدالت میں اپیل کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔