بریکنگ نیوز
Home / کالم / موت کا کھیل!

موت کا کھیل!


انٹرنیٹ کے ذریعے کسی بھی بات کا پھیلنا ہونا اور اسکی اندھی تقلیدبننے کا عمل اور اِس سے پیدا ہونے والی صورتحال پوری دنیا کیلئے دردسرہیں اور انہیں باوجود روکنے کی کوشش کے بھی یہ تیزی سے مقبول عام ہو رہے ہیں‘ انٹرنیٹ استعمال کرنیوالوں کے رجحانات اکثر و بیشتر تفریح بخش‘ غیر ضرر رساں ہوتے ہیں اور کبھی کبھار تو آگہی پھیلانے اور اچھے مقصد کیلئے چندہ اکٹھا کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں لیکن گزشتہ چند ماہ سے ایک دہشت ناک چیلنج سامنے آیا ہے‘ جسے ’’بلیو وہیل‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ وہی کھیل ہے جس کے باعث دنیا کے کئی حصوں میں خودکشی‘ اقدام خودکشی اور خود کو اذیت پہنچانے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ ’’بلیو وہیل‘‘ چیلنج کسی صارف کی خودکشی کا سبب بنتے ہیں اور اسکی شروعات بظاہر طور پر روس سے ہوئی۔ پہلے تو اس کھیل کو محض ایک بے بنیاد انٹرنیٹ دنیا کی ایک تصوراتی کہانی پکار کر نظر انداز کردیا گیا لیکن اب ’بلیووہیل‘ کی وجہ سے خودکشی کے واقعات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ انہیں مزید نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔بلیو وہیل ایک آن لائن گیم ہے جس میں گیم کا ایڈمنسٹریٹر گیم کھیلنے والے کو پچاس روز پر مشتمل چیلنجز اور ٹاسک دیتا ہے۔ گیم کھیلنے والے کو خود کو اذیت پہنچانے کے کاموں کیلئے حوصلہ بڑھایا جاتا ہے‘۔چند چیلنجز کے مطابق آپ کو ایک پورا دن کسی سے بھی بات کئے بغیر گزارنا ہوتا ہے اور کچھ کو پورا کرنے کے لئے آپ کو آدھی رات کو اٹھنا ہوتا ہے اور کیوریٹر کی بھیجی گئی ذہنی اذیت پہنچانے والی وڈیوز دیکھنی ہوتی ہیں‘۔

اس گیم میں حصہ لینے والے ایک فرد نے ویڈیو کے بارے میں بتایا کہ ان میں ٹین ایجرز کے چھت سے کودنے‘ لاشوں کے کلوز اپ وغیرہ کیساتھ ناگوار موسیقی‘ جانوروں اور پالتو کتے بلیوں کی چیخ و پکار اور بچوں کے رونے کی ایسی آوازیں شامل ہوتی ہیں‘ جیسے ان بچوں پر کوئی تشدد کر رہا ہو‘ہر کیوریٹر کا ٹاسک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے لیکن آخری ٹاسک ہمیشہ سب کا ایک ہی ہوتا ہے وہ ہے خودکشی۔ بلاشبہ اس گیم کا نام وہیل مچھلیوں کے اس رجحان کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت وہ نامعلوم وجوہات کی بناء پر خود کو ساحل پر لے آتی ہیں‘ یعنی خودکشی کر لیتی ہیں۔ رواں سال کی ابتدا میں‘ امریکہ میں دو ٹین ایجرز کی خودکشیوں کو بلیو وہیل گیم سے جوڑا گیا تھا جبکہ دیگر ممالک سے بھی اِس قسم کے کیسز کی اطلاعات ہیں۔ حالیہ ماہ کے دوران اس گیم نے بھارت کا بھی راستہ دیکھ لیا ہے‘ جہاں تقریباً ایک درجن کیسز پولیس کے زیر تفتیش ہیں اور میڈیا میں رپورٹ ہوئے۔ اس گیم کا بانی فلپ بڈیکن نامی ایک اکیس سالہ روسی باشندے کو بتایا جا رہا ہے‘ جو اس مختلف ٹاسک سے بھرپور گیم کا مقصد صاف لفظوں میں کچھ واضح کرتا ہے کہ اس کا شکار بننے والے افراد دراصل زمین پر بوجھ تھے‘ جنہوں نے اپنی خوشی سے موت کو گلے لگایا اور یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ایسے لوگوں کو خودکشی پر آمادہ کر کے معاشرے کی صفائی کر رہے ہیں۔ بڈیکن اس وقت روس کی ایک جیل میں قید ہیں لیکن ان کی غیر موجودگی میں اس گیم کو چلانے کیلئے نئے کیوریٹرز اور ایڈمنز سامنے آئے ہیں۔ ایسے چند شواہد اور افواہوں کے بارے میں سنا جا رہا ہے جن کے مطابق اس گیم نے پاکستان کا بھی راستہ دیکھ لیا ہے‘ اس حوالے سے حالیہ دنوں میں ذرائع ابلاغ پر بھی رپورٹس دیکھنے کو ملیں۔

پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ماہر نفسیات ڈاکٹر عمران دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پاس چیلنج کو پورا کرنے کی کوشش میں ڈپریشن میں مبتلا ہونے والے مردان کے دو نوجوان علاج کے لئے آئے۔ ڈاکٹر خان بتاتے ہیں کہ وہ نوجوان خوش قسمت تھے کیونکہ انہیں احساس ہو گیا تھا کہ یہ گیم انہیں نقصان پہنچا رہی ہے‘ اسی لئے انہوں نے خود کو کسی ڈاکٹر کو دکھانے کا فیصلہ کیا اس گیم سے سب سے زیادہ خطرہ جذباتی طور پر کمزور اور سماجی طور پر تنہائی کے شکار افراد کو ہوتا ہے اور ایسے ہی لوگ اس گیم کا ٹارگٹ ہوتے ہیں۔ یہ گیم اب مختلف ناموں کے ساتھ ابھر کر سامنے آرہا ہے‘ جس کی وجہ سے اس کی مانیٹرنگ اور روک تھام کافی مشکل ہوچکی ہے لہٰذا آخری راستہ یہی بچتا ہے کہ والدین اور دیگر بزرگ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ بچوں کو انٹرنیٹ کے حوالے نہ کیا جائے اور خیال رکھا جائے کہ کہیں ان کے بچوں میں ایسے آثار تو نظر نہیں آ رہے کہ جو خطرے کا باعث بن سکتے ہیں‘ جیسے بڑھتا ہوا اکیلا پن اور ان کے روئیوں میں منفی تبدیلیاں۔ ہاں ایک بات جو آپکو عجیب تو ضرور لگے گی لیکن ضروری بھی ہے وہ یہ کہ اس سے پہلے آپ کے بچے کسی بڑے حادثے کی زد میں آئیں‘ آپ کو اپنے بچے کے ساتھ کھلے اور ایماندارانہ طور پر رابطہ قائم کرنا ہوگا۔ اکثر اوقات تو یہ کھیل پہلے سے موجود نفسیاتی مسائل کو متحرک کرنے کا کام کرتا ہے اور ان پہلے سے موجود مسائل کو سنگین حد تک لے جاتا ہے۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر قرۃ العین جمال۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)