بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / عمران نااہلی کیس ٗ دستاویزات پر چیف جسٹس کے تحفظات

عمران نااہلی کیس ٗ دستاویزات پر چیف جسٹس کے تحفظات


اسلام آباد۔سپریم کورٹ میں عمران خان نااہلی کیس کی سماعت کے دور ان چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاہے کہ 1لاکھ 26ہزار ڈالر کا ریکارڈ موجود نہیں جبکہ عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ ان ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ دستیاب نہیں ٗجمائما خان نے 6لاکھ 60ہزار ڈالر سے زائد رقم پاکستان بھیجی ٗ جمائما خان نے 20ہزار پاؤنڈ بھی لندن سے بھیجے تھے۔تفصیلات کے مطابق عمران خان کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ اور اثاثے چھپانے پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے درخواست دائر کی گئی ہے۔

منگل کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ٗجسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے سماعت کی ۔سماعت کے آغاز پر عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اصل ریکارڈ عدالت کے جائزے کیلئے پیش کررہے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا جمائما جائیداد کی مالک تھی یا بے نامی دار؟ جمائما کی جائیداد سے متعلق قانونی حیثیت کیا تھی؟

کس رقم سے جمائما خان زمین کی مالک بن گئی؟نعیم بخاری نے کہا کہ لندن سے جو رقم بھیجی گئی اس سے جمائما زمین کی مالک بنی۔چیف جسٹس نے کہا کہ لندن سے بھیجی رقم عمران خان نے جمائماسے بطور قرض لی۔ آپ کے مطابق لندن فلیٹ کے فروخت کی رقم نیازی سروسز کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی ٗ اس اکاؤنٹ سے ہی جمائما کو رقم ادا کی گئی، وہ اکاؤنٹ بھی بتا دیں جس سے 5لاکھ 62ہزار پاؤنڈ ادا کیے گئے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2003کے ریکارڈ کے مطابق نیازی سروسز لمیٹڈکا اکاؤنٹ بینک میں موجود ہی نہیں تھا۔نعیم بخار نے دلائل میں کہا کہ جمائما بنی گالہ اراضی عمران خان کو نہ دیتی تو کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ زمین جمائما کیلئے خریدنے کا موقف بیان حلفی میں اپنایا گیا، جمائما کو قرض کی ادائیگی کا کوئی ریکارڈ ہوگا؟ نعیم بخاری نے کہا کہ جمائما خان نے 20ہزار پاؤنڈ بھی لندن سے بھیجے تھے۔

انہوں نے 6 لاکھ 60 ہزار ڈالر سے زائد رقم پاکستان بھیجی اور ان ٹرانزیکشنز کا رکارڈ دستیاب نہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایک لاکھ 26ہزار ڈالر کا رکارڈ موجود نہیں، اس پر نعیم بخاری نے کہا کہ اصل رکارڈ عدالت کے جائزے کیلئے پیش کررہے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جمائما کو رقم کیش تو نہیں دی گئی؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ جمائما خان کے جس اکاؤنٹ میں رقم بھیجی گئی اس کا رکارڈ تو ہوگا؟ اس دوران عمران خان کے اکاؤنٹنٹ نے بتایا کہ جمائما کے برطانیہ کے اکاؤنٹس تک میری رسائی نہیں۔نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ مزید رکارڈ کی تلاش کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

بدھ تک جتنی دستاویزات ملیں پیش کردوں گا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا، کیا رقم کی ادائیگی نیازی سروسز کے اکاؤنٹ سے ہوئی؟ عمران خان کی کتاب رائلٹی نیازی سروسز کے اکاؤنٹ میں کیوں آتی رہی؟ آپ کا مؤقف ہے کہ کمپنی صرف فلیٹ خریداری کیلئے بنائی گئی، آپ کہتے ہیں کہ یہ شیل کمپنی تھی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 75ہزار پاؤنڈ عمران خان کی کمپنی کے اکاؤنٹ میں کیمن آئی لینڈ سے آئے،۔

معلوم نہیں یہ رقم بھیجنے کے ذرائع کیا ہیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ممکن ہے عمران خان نے رقم کیمن آئی لینڈ میں رکھی ہو؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس معاملے پر اکرم شیخ معاونت کریں اور یہ ذہن میں رکھیں عمران خان عالمی کرکٹر تھے، ان پر منی لانڈرنگ کا الزام نہیں لگا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عمران خان نے قرض لینا اور واپس کرنا تسلیم کیا ہے، کیا ثبوت ہے کہ تمام رکارڈ درست ہے؟ دوران سماعت حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہاکہ عمران خان نے پہلے دن سے ایک کے بعد دوسرا موقف اختیار کیا۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے عمران خان کی نااہلی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران بنی گالہ اراضی کی خریداری کے لیے جمائما خان کو قرض کی ادائیگی کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 28ستمبر تک ملتوی کردی ۔