بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مدارس اپ گریڈیشن ٗ مجوزہ خا کہ علماء مشائخ کونسل میں پیش

مدارس اپ گریڈیشن ٗ مجوزہ خا کہ علماء مشائخ کونسل میں پیش

اسلام آباد۔مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل( ر) ناصر خان جنجوعہ نے مدارس کی اپ گریڈیشن کا مجوزہ خاکہ قومی علما مشائخ کونسل کے اجلاس میں پیش کردیا، جب کہ علما مشائخ نے اعلان کیا ہے ملکی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں اور اندرونی چیلنجز کا مل کر مقابلہ کیا جائے گا اجلاس میں روہنگیا مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کی مذمتی قرار دار کی متفقہ منظور ی دیتے ہوئے محرم الحرام میں امن و امان کیلئے تمام مسالک کے علماکا متفقہ ضابطہ اخلاق جاری کردیا گیا ہے ۔

منگل کو اجلاس وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف کی زیر صدارت قومی علما مشائخ کونسل کا پانچواں اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں پاکستان کو درپیش ملکی اور بیرونی خدشات اور چیلنجز کے حوالے سے کونسل کے ارکان کو تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ بعض عالمی طاقتیں پاکستان کو داخلی مسائل میں الجھا کر ایٹمی طاقت سے محروم کرنا چاہتی ہیں دشمن سی پیک منصوبے کو ناکام بنا کر پاکستانی معیشت پر کاری ضرب لگانا چاہتا ہے یہی طاقتیں افغانستان میں امن کے قیام کی مخالف ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ بڑے بڑے دفاعی اور معاشی معاہدوں کی نوازشات کی جا رہی ہیں ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے اپنی سمت اور دیگر ترجیحات کا تعین جلد از جلد کرنا ہو گا۔ پاکستان کا مستقبل انتہائی شاندار ہے مگر ہمیں عالمی اور خطہ کی بدلتی صورتحال پر ہر لمحہ نظر رکھنی ہو گی۔ ہمیں ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے ساتھ ساتھ اندرونی چیلنجز کا مقابلہ بھی کرنا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر خان جنجوعہ، مشیر قومی سلامتی مشیر قومی سلامتی نے مدارس کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے مجوزہ خاکہ شرکاکے سامنے پیش کیا ۔اجلاس میں روہنگیا مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کی مذمتی قرار دار کی متفقہ منظور ی دی گئی ہے۔محرم الحرام میں امن و امان کیلئے تمام مسالک کے علماکا متفقہ ضابطہ اخلاق جاری کردیا گیا ہے قومی و نظریاتی سلامتی اور یکجہتی کے سلسلے میں دینی طبقہ کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔

روہنگیا مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کی مذمتی قرار دار کے تحت مسئلہ کو اقوام متحدہ، رابطہ عالم اسلامی اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھانے پر زورمجرموں کو قرار واقعی سزا دینے اور متاثرین کی جلد آباد کاری اورمستقبل میں ایسے واقعات کے اعادہ پر میانمر سے سفارتی اور تجارتی تعلقات کو منقطع کرنے کی اپیل کی گئی۔محرم الحرام میں امن و امان اور بین المسالک ہم آہنگی کے جامع ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ تمام مکاتب فکراپنے درمیان محبت ، رواداری اور افہام و تفہیم کی فضا قائم کرنیکی خلوص دل سے کوشش کریں گے۔ دوسرے مسالک کے اکابرین کا احترام کریں گے۔

علماکرام ،خطبااور مصنفین اپنی تقریروں اور تحریروں میں توازن و اعتدال پیدا کریں گے اور ایسے اشتعالانگیر بیانات اور تحریروں سے پرہیز کریں گے جن سے دوسروں کی دل آزاری ہو سکتی ہو۔مسلکی تنازعات کو باہم مشاورت ، افہام و تفہیم اور سنجیدہ مکالمے کے اصولوں کی روشنی میں طے کریں گے۔ عوامی پلیٹ فارم سے اپنے مخالفین کے خلاف طعن و تشنیع سے مکمل اجتناب کیا جائیگا۔

امہات المومنین ، صحابہ کرام ، اہل بیت اطہار اور اولیائے کرام ، تابعین و تبع تابعین اور تمام مسلمانوں کے ادب و احترم کو ملحوظ خاطر رکھا جائیگا اور ان میں سے کسی کو بھی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ قومی اور ملکی حالات اور معاملات میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام متفق و متحد رہیں گے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امورنے کہا کہ اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں سب سے زیادہ اہمیت دین کو ہونی چاہئے قومی علمامشائخ کونسل کو صوبائی اور ضلعی سطح پر مستقل ادارہ بنایا جائے گا۔

ہم ایک ایسا ادارہ بنانا چاہتے ہیں جو آنے والے دور تک فعال رہے اور رہنمائی فراہم کرتا رہے۔ قومی اسمبلی سے پانچویں جماعت تک ناظرہ اور بارہویں جماعت تک معانی کے ساتھ قرآن پاک کی تعلیم کو لازمی قرار دلوانا ہماری کامیابی ہے۔ علماکرام کی مشاورت سے مدارس کے نظام میں بھی کافی بہتری لائی گئی ہے مزید پیش رفت کیلئے علماکرام کا اتفاق اشد ضروری ہے۔ مدارس میں پڑھنے والے بچے مستقبل میں فوج ، پولیس اور دوسرے ملازمتیں حاصل کر سکیں گے۔

کچھ مدارس کو بتدریج کالج اور یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے گا۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ ملکی و عالمی سلگتے مسائل کا حل علماکی مشاورت سے تلاش کر رہے ہیں۔کونسل کی گذشتہ سفارشات پر عمل درآمد کیلئے متعلقہ محکموں سے رابطے جاری ہیں۔