بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخواکی تنخواہ میں ا ضافہ چیلنج

ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخواکی تنخواہ میں ا ضافہ چیلنج

پشاور۔خیبرپختونخواحکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل کی تنخواہ ہائی کورٹ کے جج کے برابرکرنے کے اقدام کو عدالت عالیہ میں چیلنج کردیاگیاہے خورشید خان ایڈوکیٹ کی جانب سے دائررٹ میں صوبائی حکومت ٗ سیکرٹری قانون و خزانہ اورایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخواکوفریق بنایاگیاہے رٹ میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ خیبرپختونخواحکومت نے ایڈوکیٹ جنرل کی تنخواہ پشاورہائی کورٹ کے جج کے برابرکرنے کی منظوری دی ہے جبکہ اس کی مراعات میں بھی ا ضافہ کیاہے جو کہ غیرقانونی اقدام ہے کیونکہ صوبائی حکومت ایک جانب مالیاتی بحران سے دوچارہے۔

ترقیاتی منصوبے ٗ بھرتیوں ٗ خریداری اوراضافی الاؤنس پرپابندی عائد کی گئی ہے جبکہ سرکاری محکموں کے لئے ایندھن پربھی 25فیصد کٹ لگایاگیاہے اورنئی گاڑیاں بھی نہیں خریدی جارہی ہیں جبکہ سرکاری گاڑیوں کے غیرضروری نقل و حمل پربھی پابندی ہے صوبہ غریب ہے صحت اورتعلیم کے شعبوں میں بھی کفایت شعاری کی جارہی ہے جبکہ افسوس کامقام یہ ہے کہ تنخواہ اورمراعات میں اضافہ صرف موجودہ ایڈوکیٹ جنرل کے لئے کیاگیاہے اورایڈوکیٹ جنرل آفس کے دیگرافسروں کے لئے کوئی اضافہ نہیں کیاگیاجبکہ ہائی کورٹ کے جج 62سال کی عمرمیں ریٹائرڈ ہوجاتاہے جبکہ موجودہ ایڈوکیٹ جنرل کی عمراس سے بھی زیادہ ہے لہذاتنخواہ اورمراعات میں اضافے کانوٹی فکیشن کالعدم قرار دیاجائے یادیگرلاء افسروں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیاجائے