بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پی ٹی آئی کی توجہ اداروں میں اصلاحات پر مرکوز ہے ٗ پرویز خٹک

پی ٹی آئی کی توجہ اداروں میں اصلاحات پر مرکوز ہے ٗ پرویز خٹک

پشاور ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کیلئے ایماندار قیادت اور شفاف نظام کا ہونا ضروری ہے یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں اگر باصلاحیت اور ایماندار قیادت ہوگی تو وہ اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کر کے ایک بااختیار اور شفاف نظام کا راستہ ہموار کریگی کسی بھی ترقیافتہ ملک کی تاریخ اٹھاکر دیکھیں تو ان کی ترقی کے پیچھے یہی دو چیزیں کار فرما ہیں۔

پاکستان میں تبدیلی اور ترقی کے دعوے ہر سیاسی جماعت نے کئے ہیں مگر کسی جماعت نے بھی اپنے منشور پر عمل درآمد نہیں کیاتحریک انصاف واحد سیاسی جماعت ہے جس نے اپنے عزم ،وژن اور منشور کے مطابق خیبر پختونخوا میں شفاف نظام کی بنیاد رکھ دی ہے جن لوگوں کے کان اور آنکھیں بند ہیں اور وہ ارادتاً حقیقت کو سننا اور دیکھنا نہیں چاہتے وہ سوال کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں تبدیلی کہاں ہے حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کو تبدیلی کی سمجھ ہی نہیں ہے کیونکہ وہ چاہتے ہی نہیں کہ اس ملک میں شفاف نظام قائم ہو سٹیٹس کو کی قوتیں کبھی بھی نظام میں تبدیلی، اداروں کی بحالی اور کام کرنے پر آمادہ نہیں ہو سکتیں کیونکہ ان کے مفادات اسی ناکارہ اور کرپٹ سسٹم سے وابستہ ہیں۔

خیبر پختونخوا میں ہمیں تباہ حال سٹرکچر ملا جس کو ٹھیک کرنے کیلئے عزم اور وسائل کی ضرورت تھی ہم تقریباً 65 سال سے تباہ حال ڈھانچے کو ٹھیک کرنے کیلئے کوشاں ہیں خیبر پختونخوا کے کل اور آج میں بڑا فرق ہے۔ بڑے سے بڑا مخالف سیاستدان بھی تعصب اور خود غرضی کی عینک اتار کر دیکھے تو اسے بھی فرق نظر آئے گاتبدیلی کے اس عمل کو آگے لے کر جانا ہے۔ ہمیں اعتراضات کی فکر نہیں ہماری توجہ اداروں پر مرکوز ہے جب ادارے ڈیلیور کرینگے تو مخالفین کے منہ بند ہو جائینگے ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں نیشنل سیکورٹی ورکشاپ۔19 کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سینئر صوبائی وزیرعنایت اللہ خان ، وزیراطلاعات شاہ فرمان، وزیرتعلیم محمد عاطف خان، ایم پی اے شوکت یوسفزئی، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ وزیراعلیٰ نے شرکاء کو صوبائی حکومت کی چارسالہ کارکردگی اور اصلاحات کے عمل میں درپیش چیلنجز سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت شروع دن سے نظام کی تبدیلی کیلئے کوشاں ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے پاس سونے کے پہاڑ نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی شکلیں ہم سے اچھی ہیں وہ اس لئے ہم سے آگے نکل گئے کیونکہ انہوں نے اپنے اداروں پر سیاست نہیں کی۔

تحریک انصاف نے اس ناقابل تردید بین الاقوامی حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے قوم سے نظام کی تبدیلی کا وعدہ کیااور عوام نے بھی اسی مقصد کیلئے ہمیں ووٹ دیا۔ یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھاکیونکہ 70 سال سے تباہ حال اداروں کو ٹھیک کرنا اتنا آسان نہیں تھاہمارا آدھا بجٹ پرانے ناکارہ سٹرکچر کوٹھیک کرنے میں خرچ ہوا ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بعض سیاستدان اعتراض کرتے ہیں کہ صوبے کے ہسپتال اور تعلیمی ادارے ٹھیک نہیں ہیں مگر وہ اعتراض کرتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ یہ ادارے تباہ کرنے والے بھی وہ خود ہیں اگر یہ مجرم اپنے ادوار حکومت میں ان اداروں پر توجہ دیتے تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔

70 سالوں میں کسی نے نہ سوچا کہ غریب کے ساتھ کتنا ظلم ہورہا ہے صوبے کے سرکاری سکولوں میں دو استاد، دو کمرے اور چھ کلاسز یہ کہاں کا انصاف تھااس ناانصافی نے غریب کی بنیاد کو تباہ کر کے رکھ دیاوزیراعلیٰ نے کہا کہ سب کو تعلیم اور ترقی کے یکساں مواقع ملنے چاہیں اگر غریب کا بچہ دسویں جماعت تک اردو میں تعلیم حاصل کریں اور گیارویں سے اسے یکدم انگلش میڈیم کا سامنا کرنا پڑے تو وہ کیا سیکھے گا اور کیا مقابلہ کرے گا ہمارے دہرے نظام تعلیم نے کروڑوں بچوں کا مستقبل تباہ کیا۔

موجودہ صوبائی حکومت نے امیر اور غریب کے درمیان اس فرق کو ختم کرنے کیلئے پرائمری کی سطح پر انگلش میڈیم شروع کیا سرکاری سکولوں میں مسنگ فیسیلٹیزکی فراہمی سمیت اساتذہ کی حاضری کا نظام متعارف کرایااین ٹی ایس کے ذریعے چالیس ہزار اساتذہ بھرتی کئے اب صوبہ بھر میں 95 فیصد اساتذہ موجود ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب وہ حکومت میں آئے تو شعبہ صحت میں بھی ایک تماشہ چل رہا تھا۔

ہم نے ڈبل تنخواہ لینے والے 800 اساتذہ کو فارغ کیا اور نئے بھرتی کئے اپنی دکانداری کی فکر میں ترقی نہ لینے والے ہزار ڈاکٹرز کو زبردستی ترقی دی اور مزید نئے ہزار ڈاکٹر ز بھرتی کئے تنخواہ کم ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر پشاور اور ایبٹ آباد کے علاوہ کسی دوسرے ضلع میں جانے کیلئے تیار نہیں تھے ہم نے تنخواہیں ڈیڑھ لاکھ تک پہنچا دیں اس وقت صوبہ بھر میں 95 فیصد ڈاکٹرز اور سو فیصد ٹیکنیشنز موجود ہیں ہسپتالوں میں ماضی کی تباہ حال مشینری کو ٹھیک کرنے کیلئے 15 ارب روپے کی ضرورت ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کی پولیس بھی سیاسی لوگوں کی غلام تھی انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ جب پولیس وزیراعلیٰ یا وزیروں کے تابع ہو تو ڈیلیور کیسے کرے گی۔